پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

پانچواں کبوتر

datetime 17  اکتوبر‬‮  2016 |

پانچواں کبوتر……..
ماسٹر حسن اختر صاحب بچے کو بڑی جان مار کے حساب سکھا رھے تھے. وہ ریاضی کے ٹیچر تھے. اُنھوں نے زبیر کو اچھی طرح سمجھایا کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں-مثال دیتے ہوئے انھوں نے اسے سمجھایا کہ یوں سمجھو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئے. ..پھر دو کبوتر دئے…تو تمھارے پاس کل کتنے کبوتر ہو گئے…..زبیر نے اپنے ماتھے پہ آئے ہوئے silky بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتے ہوئے جواب دیاکہ

ماسٹر جی “پانچ”ماسٹر صاحب نے اسے دو پنسلیں دیں اور پوچھا کہ یہ کتنی ھوئیں…زبیر نے جواب دیا کہ دو. . پھر دو پنسلیں پکڑا کر پوچھا کہ اب کتنی ہوئیں…”چار” زبیر نے جواب دیا. ماسٹر صاحب نے ایک لمبی سانس لی جو اُن کے اطمینان اور سکون کی کی علامت تھی…..پھر دوبارہ پوچھا…اچھا اب بتاؤ کہ فرض کرو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئیے پھر دو کبوتر دیئے تو کُل کتنے ہو گئے….”پانچ” زبیر نے فورًا جواب دیا.ماسٹر صاحب جو سوال کرنے کے بعد کرسی سیدھی کر کے بیٹھنے کی کوشش کر رہے تھے اس زور سے بدکے کہ کرسی سمیت گرتے گرتے بچے……اؤےخبیث‘‘‘پنسلیں دو اور دو “4” ہوتی ھیں تو کبوتر دو اور دو “5” کیوں ہوتے ہیںاُنھوں نے رونے والی آواز میں پوچھا…”ماسٹر جی ایک کبوتر میرے پاس پہلے سے ہی ہے” زبیر نے مسکراتے ہوئے جواب دیاھم مسلمان تو ہو گئے مگر کچھ کبوتر ھم اپنے آباؤ اجداد سے لےآئے ہیں اور کچھ معاشرے سے لے لئے ہیں.اسی لئے جب قرآن کی بات سنتے ہیں تو سبحان اللّہ بھی کہتے ہیں….جب حدیث نبوی سنتے ہیں تو انگوٹھے بھی چومتے ہیں مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو باپ دادا اورمعاشرے والا کبوتر نکال لیتے ہیں. .شادی بیاہ کی رسمیں دیکھ لیں.

ہندو’سکھ اور مسلمان کی شادی میں فرق صرف پھیروں اور ایجاب و قبول کا ہے. باقی ہندو دولہے کی ماں بہن ناچتی ہے تو مسلمان کی شادی پہ بھی منڈے کی ماں بہن نہ ناچے تو شادی نہیں سجتیوراثت میں ہندو قانون لاگو ہے…بیٹی کا کوئی حصہ نہیں. جہیز ہندو رسم ہے کہ بیٹی کو جائیداد میں حصہ تو دینا نہیں لہدْا جہیز کے نام پر مال بٹورو اور یہی کام آ ج کا مسلمان کر رہا ہے

مختلف استھانوں سے مانگنا ہندو دھرم ہے تو ھمارے ہاں بھی درباروں پر “ون ونڈو” سروس ہے کہ جو بھی ملتا ہے اسی ایک کھڑکی سے ملتا ہےجنتر منتر‘مؤکلوں کی دنیا‘تعویز گنڈے‘ہاتھ کی لکیریں اور قسمت کا حال یہ سب “پانچواں کبوتر ” ہے جو اسلام سے پہلے ہی ہمارے پاس ہے. ہم نے کلمے کی “لا” کے ساتھ اس کبوتر کو اڑا کر پنجرہ خالی نہیں کیا. نتیجہ آج یہ ہے کہ اللّہ رب العزت کے ساتھ ساتھ سارے دیگر “فرینچا ئزڈ دیوتا” مسلمان ناموں کے ساتھ اللّہ کے شریک بنے بیٹھے ہیں”شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں مری بات

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…