جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

حقیقتیں3

datetime 26  ستمبر‬‮  2016 |

ایڈوائس
بادشاہ کا معمول تھا‘ وہ صبح حجامت کراتا تھا اور سینئر وزیر سے ملکی حالات پر مشورہ لیتا تھا‘ نائی حجامت بناتا رہتا تھا اور سینئر وزیر بادشاہ کو بتاتا جاتا تھا ”حضور معاملات ہمارے کنٹرول میں ہیں‘ پانامہ لیکس صابن کا بلبلہ ہے‘ عمران خان اسے غبارہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن یہ کامیاب نہیں ہو سکے گا‘ بلبلہ آپ کی ایک شاہی پھونک برداشت نہیں کر سکے گا“ بادشاہ خوش ہو جاتا تھااور وزیر کورنش بجا لا کر چلا جاتا تھا‘ نائی یہ گفتگو سن سن کر تنگ آگیا‘ وزیر ایک دن جب کورنش بجا کر چلا گیا تو نائی استرا اور قینچی لے کر بادشاہ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور جان کی امان طلب کرنے لگا‘ بادشاہ کی گردن میں تولیہ لٹکا ہوا تھا‘ منہ پر شیونگ جیل لگا تھا اور ایک رخسار کی شیو باقی تھی چنانچہ اس کے پاس جان کی امان دینے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا‘ بادشاہ نے ہاں میں سر ہلا دیا‘ نائی گڑگڑا کر بولا ”حضور آپ کے ساتھ دھوکا ہو رہا ہے‘ آپ پانامہ لیکس سے نہیں بچ سکیں گے‘ یہ وزیر آپ کے دشمنوں سے ملا ہوا ہے‘ یہ بے خبری میں آپ کی پیٹھ پر وار کرے گا‘ آپ جاگ جائیں‘ آپ پھنسنے والے ہیں“ بادشاہ کو نائی میں ایک مخلص اور نڈرانسان دکھائی دیا‘ اس نے اسی وقت سینئر وزیر کو معزول کر دیا اور نائی کو سینئر وزیر بنا دیا‘ نائی اب روز صبح دو کام کرتا تھا‘ وہ بادشاہ کی حجامت اور شیو بناتا تھا اور اسے اپوزیشن کے عزائم کے بارے میں بتاتا تھا‘ یہ سلسلہ ہفتہ بھر چلا‘ نائی نے سات دن بعد بادشاہ کو سب اچھا کی خبر دینا شروع کر دی‘ وہ بھی اب کہتا تھا ”یہ پانامہ لیکس صابن کا بلبلہ ہے‘ یہ آپ کی ایک پھونک برداشت نہیں کر سکے گا“ بادشاہ نے یہ سب اچھا دو دن برداشت کیا اور تیسرے دن ڈنڈا اٹھا لیا‘ نائی ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اور زور زور سے رو کر بولا ”حضور میں جب صرف نائی تھا تو میں نائیوں کے محلے میں رہتا تھا‘ میری ناک‘ کان اور آنکھ تینوں کام کرتے تھے‘ میرا دماغ بھی چلتا تھا لہٰذا میں غبارے اور بلبلے میں آسانی سے تمیز کر لیتا تھا لیکن میں جب سے وزیر بنا اور میں نائی محلے سے منسٹر انکلیو میں شفٹ ہو گیا ہوں میرے دماغ‘ آنکھ‘ کان اور ناک نے کام کرنا بند کر دیا ہے‘ میں اب کوشش بھی کروں تو بھی مجھے غبارے اور بلبلے میں فرق نظر نہیں آتا چنانچہ میں اب بھی وہی کچھ دیکھ اور سن رہا ہوں جو آپ کو اچھا لگتا ہے اور جو آپ سننا اور دیکھنا چاہتے ہیں‘ میری آپ کو ایڈوائس ہے آپ بس شیو کرائیں‘ انجوائے کریں اور بلبلے کے پھٹنے کا انتظار کریں‘ عمران خان آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا“۔

پانامہ لیکس
پاگل بھاگ کر دیوار پر چڑھ گیا‘ پاگل خانے کا عملہ پاگل کو نیچے اتارنے کی کوشش کرنے لگا‘ پاگل کو مختلف ترغیبات دی گئیں‘ اسے پاگل خانے کا صدر بنانے کی پیش کش کی گئی‘ اسے واپس گھر بھجوانے کی ترغیب دی گئی‘ اسے اچھے کھانے کا دانا ڈالا گیا اور اسے ”کچھ نہیں کہا جائے گا“ کی گارنٹی بھی دے دی گئی لیکن پاگل دیوار سے اترنے کےلئے تیار نہیں ہوا‘ انتظامیہ تھک گئی اور اس نے دیوار میں کرنٹ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا لیکن عین وقت پر ایک دوسرا پاگل آگے بڑھا‘ ڈاکٹر سے اجازت لی اور دیوار پر بیٹھے پاگل کو چھوٹی سی قینچی دکھا کر اونچی آواز میں بولا ”اوئے نیچے اتر جا نہیں تو میں اس قینچی سے دیوار کاٹ دوں گا“ دیوار پر بیٹھا پاگل فوراً نیچے کود گیا‘ پاگل خانے کے عملے نے اسے دبوچ لیا‘ ڈاکٹر اس عجیب و غریب تکنیک پر حیران ہو ا‘ وہ دیوار سے کودنے والے پاگل کے پاس گیا اور اس سے کہا ”ہم سارا دن تمہاری منتیں کرتے رہے لیکن تم نیچے نہیں آئے اور اس پاگل نے تمہیں دو انچ کی قینچی دکھائی اور تم نیچے آ گئے‘ کیوں؟“ پاگل نے سنجیدگی سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولا ”جناب میں جانتا ہوں یہ پاگل ہے‘ یہ اگر پاگل پن میں واقعی دیوار کاٹ دیتا تو میں تو اوپر ہی لٹکا رہا جاتا“۔
سزا
جانوروں نے فیصلہ کیا‘ ہم میں سے جو جانور جنگل کا قانون توڑے گا ہم اسے آج سے انسان کہیں گے‘بندر نے احتجاجاً ہاتھ کھڑا کر دیا‘ شیر نے غصے سے پوچھا ”کیوں کیا تکلیف ہے“ بندر بولا ”جناب جرم چھوٹا ہے لیکن سزا زیادہ ہے“۔
قربانی
بکرے نے اپنی ماں سے پوچھا ”مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی“ ماں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا‘ بکرا بولا ”انسان اپنی ہر غلطی کے تاوان میں ہمیں کیوں ذبح کر دیتے ہیں“ ماں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”کیونکہ یہ اپنی غلطیاں ترک نہیں کرنا چاہتے“ بکرے نے ہاں میں گردن ہلائی اور بولا ”انسان اگر غلطیاں کرنے کی خو بدل لے تو اسے عمر بھر کسی جانور کے گلے پر چھری نہ پھیرنی پڑے“۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…