جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

راجستھان کا قلعہ بھان گڑھ پر اسرار اور خوفناک تفریح گاہ

datetime 31  اگست‬‮  2016 |

ریاست راجستھان اپنے نام کی طرح مختلف حکمرانوں کی سرزمین ہونے کی وجہ سے کئی ایک دلچسپ اور حیرت انگیز قلعوں سے شہرت رکھتی ہے لیکن بھان گڑھ ایک ایسا مقام ہے جہاں 1613 میں راجہ مادھو سنگھ کا تعمیر کردہ قلعہ اس لئے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے کہ اس کے بارے میں کئی پراسرار کہانیاں مشہور ہیں۔ گاؤں والوں کا ماننا ہے کہ اس قلعہ میں اب بھی روحیں گھومتی ہیں۔ اس قلعہ کو مغل سپہ سالار مان سنگھ کے فرزند مادھو سنگھ نے تعمیر کروایا تھا، لیکن ایک سادھو کی بد دعا کے بعد اس قلعہ کو خالی کردیا گیا۔ بتایاجاتا ہے کہ مادھو سنگھ کے پوتے عجب سنگھ نے اس قلعہ کی دیواریں اتنی اونچی اٹھادیں کہ اس کا سایہ پڑوس کی مندر میں رہنے والے سادھوؤں پر پڑنے لگا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے بھان گڑھ کی تباہی کا سلسلہ شروع ہوگیا جو بھی مکان بنایا جاتا اس کی چھت گر جاتی۔ اندھیرا ہونے کے بعد آج بھی کوئی اس علاقہ میں اپنے گھر سے باہر نہیں نکلتا۔ خاص بات یہ ہے کہ سورج ڈوبنے کے بعد اور سورج نکلنے سے پہلے بھان گڑھ میں داخلہ سرکاری طور پر ممنوع ہے۔

web34-660x330

محکمہ آثار قدیمہ نے سیاحوں کیلئے ایسی ہدایتوں پر مشتمل بورڈس جگہ جگہ نصب کئے ہیں۔ اگر کوئی اندھیرا ہونے کے بعد اس علاقہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ مقامی افراد کی کہانی کے مطابق قلعہ تعمیر کرنے سے پہلے یہاں مندرمیں ایک سادھ (تانترک)رہتا تھا اس نے راجہ کو اس شرط پر قلعہ تعمیر کرنے کی اجازت دی کہ اس کا سایہ مندر پر نہیں پڑے گا، لیکن جب راجہ کا پوتا یہاں کا بادشاہ بنا تو اس نے گرو بالوناتھ کی پرواہ کئے بغیر ہی قلعہ کی دیواریں بلند کردیں۔ بالو ناتھ کی سمادھی آج بھی وہاں موجود ہے ۔ ایک اور کہانی یہ ہے کہ بھان گڑھ کی ایک راجکماری رتناوتی اس کے حسن کا پورے راجستھان میں چرچا تھا۔ 18 ویں سالگرہ پر راجہ نے اس راجکماری کا سوئمور یعنی دولہا منتخب کرنے کیلئے ایک تقریب منعقد کی اس علاقہ میں ایک جادوگر سنگھیا رہتا تھا ۔ وہ راجکماری پر مر مٹنے لگا تھا، لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کا کوئی میل نہیں ہے۔ ایک دن سنگھیا

نے راجکماری کی نوکرانی کو بازار میں دیکھا اس نے اس تیل پر کالا جادو کردیا جو نوکرانی خریدنے آئی تھی، لیکن راجکماری نے دیکھ لیا تھا۔ اس نے نوکرانی کے ہاتھ سے تیل لے کر اس کو زمین پر ڈال دیا۔ تیل زمین پر گرتے ہی ایک بڑے پتھر میں بدل گیا اور سنگھیا اس سے کچل کر مر گیا لیکن مرتے مرتے اس نے بد دعا دی کہ اس علاقہ میں رہنے والا کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا ۔ ایک سال بعد عجب گڑھ اور بھان گڑھ میں لڑائی ہوئی اور راجکماری ماری گئی۔ مقامی افراد کہتے ہیں کہ بھان گڑھ کے قلعہ میں ان ہی کے بھوت گھومتے ہیں۔ ان کہانیوں کو سن کر سیاح اس قلعہ کو سیر کیلئے آتے ہیں لیکن پر اسرار قلعہ اور مندر دیکھ کر ان کے چہروں پر خوف صاف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ یہ مقام دہلی سے 300 کیلو میٹر دور ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…