جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

بھوتوں والا بحری جہاز

datetime 28  اگست‬‮  2016 |

وہ ایک بظاہر عام سا دکھائی دینے والا بحری جہاز ہے۔ جن ملاحوں اور ماہی گیروں نے اپنی زندگیاں سمندر میں گزاری ہیں‘ ان میں سے کئی ایک ایسے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے ایک یا زائد بار اس جہاز کو کبھی صبح کے دھندلکوں اور کبھی شام کے جھٹپٹے میں دور سے گزرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اگر کسی کو اس جہاز کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملاتو وہ ا س میں داخل ہونے کی جرات نہیں کرسکا۔ جس کی وجہ اس جہاز کی ویرانی اور اس سے آتی پراسرار آوازیں ہیں۔ یہ جہاز بھوت جہاز کے نام سے جانا جاتا ہے اور دنیا بھر میں ملاحوں وغیرہ کے لیے یہ نام اجنبی نہیں ہے۔
اس جہاز سے متعلق بہت سی کہانیاں مشہور ہیں جو ملاح اپنے فارغ اوقات میں ایک دوسرے کو سناتے ہیں اور یہ کہانیاں اس قدر معروف ہوچکی ہیں کہ ان کی بنیاد پر کئی ایک ناول بھی لکھے گئے اور ہولی و وڈ سمیت مختلف فلمی انڈسٹریو ں نے ان کہانیوں پر فلمیں بھی تیار کی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض کہانیاں ہی ہیں جو ملاحوں نے اپنی طویل سمندری سیاحتوں کی بوریت اور تھکن ختم کرنے کے لیے اختراع کی ہیں یا ان میں کچھ سچ بھی ہے اور واقعی ایسا کوئی بحری جہاز موجود ہے جس پر بھوتوں کا بسیرا ہے اور جو طویل زمانوں سے دنیا بھر کے سمندروں میں تنہا اور بے سمت سفر کررہا ہے۔ آئیے ان کہانیوں کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

بھوتوں والے بحری جہاز کی کہانی کا آغاز سترھویں صدی سے ہوتا ہے۔ جی ہاں یہ اسی صدی کا قصہ ہے کہ ڈنمارک کے ایک لالچی اور امیر ملاح کپتان ہینڈرک وان ڈیکن نے مشرقی انڈیز کے ساحلوں تک جانے کا منصوبہ بنایا۔اس نے اپنے سفر کا آغاز ڈنمارک سے کیا اور اس کے جہاز میں اس کے علاوہ کل بارہ افراد تھے۔ یہ ایک چھوٹے حجم کا تجارتی جہاز تھا جو بہت لاگت سے تیار کیا گیا تھا۔
کپتان ہینڈرک نے مشرقی انڈیز کے بارے میں سنی ہوئی کہانیوں کے پیش نظر وہاں جانے کی منصوبہ کی تھی۔ یہ کہانیاں کچھ یوں تھیں کہ وہاں نہ صرف مضبوط جسموں والے غلام سستے داموں مل جاتے ہیں بلکہ وہاں ایسے پتھر بھی موجود ہیں جو بہت قیمتی ہیں اور جن کی وہاں کوئی قدر نہیں ہے۔ لیکن وہ ان پتھروں کو اپنے ملک میں نہایت مہنگے داموں بیچ کر ڈھیروں منافع کما سکتا تھا۔ان خوابوں کے ساتھ کپتان ہینڈرک نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔
شروع میں تو سب ٹھیک رہا۔ ہوا بھی موافق رہی۔ جہاز کے عملے کے حوصلے بھی بلند تھے کیونکہ اس سفر کے اختتام پر جو منافع حاصل ہونا تھا‘ اس میں ان کا بھی حصہ تھا لیکن ایسا مستقل طور پر نہیں رہا۔ سفر کے آغاز کے چند ہفتوں بعد ہی موسم خراب ہونا شروع ہوا اور ایک مقام’ ’کیپ گڈ ہوپ‘‘ تک آتے آتے شدید بحری طوفان نے کپتان ہینڈرک کے جہاز کو گھیر لیا۔ یہ طوفان اتنا شدید تھا کہ جہاز کئی مرتبہ ڈوبتے ڈوبتے بچا۔ ایسے میں کوئی سمت ہی باقی نہیں رہی اور جہاز کو کسی ایک طرف چلانا ممکن نہیں رہا۔ چند ہفتوں بعد جہاز کی حالت یہ تھی کہ تمام بادبان پھٹ چکے تھے اور ستوں اور پشتے اکھڑ چکے تھے اور جہاز کو کئی جگہ سے شدید نقصان ہوا اور کئی ایک مقامات سے پانی جہاز میں داخل ہونے لگا تھا۔ یہی نہیں بلکہ عملے میں سے بھی کئی افراد طوفانی لہروں کی نذر ہوئے۔

تب ایک موقع پر جب کپتان ہینڈرک سمیت عملے کے سبھی لوگ امید کھوچکے تھے‘ اس کہانی نے جنم لیا جس نے اس جہاز کو ہمیشہ کے لیے ایک پرارسرار حقیقت بنادیا اور وہ آج بھی مسلسل سمندر کے پانیوں میں بھٹک رہا ہے۔
کہانی کے مطابق شیطان نے اس موقع پر کپتان سے رابطہ کیا اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ طوفان میں فنا ہوجانے سے بچنا چاہتا ہے تو اس کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ معاہدہ کرے۔ اس معاہدے کی نتیجے میں جہاز پر سوار افراد کی زندگیاں تو بچ گئیں بلکہ وہ امر ہوگئے لیکن معاہدے کے مطابق انہیں روز قیامت تک سمندر میں بھٹکنا ہوگا۔ سو وہ جہاز اور اس پر سوار لوگ اپنی قسمت کے لکھے کو بھگت رہے ہیں اور سمندر میں محو سفر ہیں۔
یہ ایک عمدہ کہانی ہے جس میں زیب داستان کے لیے بہت کچھ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کہانی کو شہرت دوام اس لیے حاصل ہوئی کیونکہ اس کہانی کے سچے ہونے سے متعلق بہت سے شواہد بھی موجود ہیں جن میں سب سے اہم ملاحوں کے ذاتی مشاہدات ہیں جنہوں نے اس کہانی پر اعتبار کرنے پر مائل کیا۔ مختلف سمندروں میں سفر کرنے والے ملاحوں اور ماہی گیروں نے اس جہاز کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

تاہم اس حوالے سے ایک واقعہ بہت اہم ہے۔ نیوجرسی‘ امریکا کا ایک ماہی گیر الفرڈ بروک مین 1911ء کی جنوری کی ایک صبح اپنی بڑی کشتی پر ماہی گیری کے لیے روانہ ہوا۔ اس کا معمول تھا کہ وہ ہفتہ بھر کے لیے سمندر میں جاتا تھا اور اس ہفتے کے دوران جتنی مچھلی پکڑلیتا پھر اسی کو بیچ کر مہینے کے باقی دنوں کے لیے اپنے اور اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کا بندوبست کرتا تھا۔ تاہم اس دوران وائرلیس کے ذریعے نہ صرف اپنے گھر بلکہ سمندری پولیس اور مقامی انتظامیہ سے بھی اس کا رابطہ رہتا تھا جو قانونی طور پر اس کے لیے ضروری بھی تھا کیونکہ اسی رابطے کے ذریعے ہی یہ ممکن تھا کہ سمندروں میں مختلف مقامات پر موجود مقامی ماہی گیروں کو کسی بھی آنے والے طوفان کے بارے میں بروقت اطلاع دی جا سکے تاکہ وہ اپنی حفاظت کے لیے لوٹ آئیں۔
اس روز دوپہر کے قریب جب اس کے اردگرد سمندر گہری دھند میں گم تھا اس نے ایک جہاز کو کچھ فاصلے پر پرلی سمت جاتے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ اس میں سے تیز روشنی پھوٹ رہی تھی۔ اس بات نے اس کے تجسس کو ہوا دی اور وہ اپنی کشتی جہاز کے قریب لے گیا۔ وہاں سے کسی نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اسے لگا کہ شاید جہاز کسی مصیبت میں تھا اور اندر آگ لگی تھی جس نے جہاز کے عملے کو گھیر لیا تھا۔ اس نے اس بات کی اطلاع مقامی انتظامیہ کو بھی دی اور بحری پولیس کو بھی اس بارے میں بتا کر امداد کی درخواست کی۔ تاہم جب تک کہ پولیس اس کی مدد کو آئے اس نے خود بھی جہاز تک جانے کا فیصلہ کیا اور چھوٹی کشتی میں سوار ہو کر اس کے عرشے سے لٹکی رسی کی سیڑھی کے ذریعے اوپر چلا گیا۔ اسے یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ جہاز کی ساخت کئی صدیاں پرانی تھیں لیکن وہ بہت مضبوط بنا ہوا تھا اور یوں لگتا تھا کہ ابھی نیا نیا ہی تعمیر ہوا ہو۔

اپنے کشتی کو لنگر انداز کرنے کے بعد چھوٹی کشتی میں سوار ہونے سے پہلے اس نے مقامی انتظامیہ کو اطلاع دی کہ وہ پولیس کے آنے کا انتظار کررہا ہے تاہم شاید وہ خود ہی جہاز تک جانے کی کوشش کرے گا۔ مقامی انتظامیہ کی طرف سے اسے ایسا کرنے سے روکا گیا۔ تاہم یہ آخری پیغام تھا جو الفرڈ کی طرف سے مقامی انتظامیہ کو پہنچا۔ کیونکہ اس کے پیغام کے تھوڑی ہی دیر بعد جب پولیس الفرڈ کی کشتی کو ڈھونڈھتی وہاں پہنچی تو اسے کچھ فاصلے پر ایک خالی چھوٹی کشتی بھی ملی لیکن وہاں دور دور تک کوئی جہاز نہیں تھا۔ سب سے اہم بات جس نے الفرڈ کی گم شدگی کو پراسرار بنا دیا‘ یہ تھی کہ وہاں اردگرد علاقے میں شدید بو پھیلی تھی جیسی مدت سے سڑتی گلتی لاشوں کی ہوتی ہے۔ اس بات کا مشاہدہ بحری پولیس کی کشتی پر سوار سبھی لوگوں نے کیا۔ یہ بو اس علاقے میں اگلے کئی روز آتی رہی۔اس کے بعد الفرڈ کی لاش ڈھونڈھنے کی بہت کوشش کی گئی لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس واقعہ نے بھوتوں والے جہاز کی کہانی کو ایک بار پھر زندہ کردیا۔
کہا جاتا ہے کہ جو لوگ اس جہاز کو دیکھ لیتے یا اس کے قریب جاتے ہیں‘ خود بھی موت کی گرفت میں آجاتے ہیں اور اکثر تو اسی وقت‘ ورنہ اس کے بعد کچھ دنوں میں مرجاتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی جہاز بھوتوں والے جہاز کے قریب سے گزر جائے تو وہ بھی ضرور کسی بدبختی کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے بھوتوں والے جہاز کو بدشگون سمجھا جاتا ہے اور کسی ملاح کو خواب میں بھی یہ جہاز دکھائی دے تو وہ اس کے اگلے دن سفر نہیں کرتا کیونکہ اسے شک ہوتا ہے کہ اس کا یہ سفر اچھا نہیں گزرے گا۔

بھوتوں والے بحری جہاز کی اس سے ملتی جلتی ایک کہانی برطانیہ کے ملاحوں میں بھی مقبول ہے۔ یہ کہانی کچھ اس طرح ہے کہ 1748ء میں 13فروری کو ایک جہاز’ ’لیڈی لووی بونڈ‘‘ لندن کے ساحل سے روانہ ہوا جبکہ اس کی منزل پرتگال تھی۔ اس جہاز پر کپتان سائمن پیل سوار تھا۔ اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور اس کی نوبیاہتا بیوی اور شادی میں شرکت کے لیے آئے ہوئے کچھ رشتہ دار باراتی بھی جہاز کی سواریوں میں شامل تھے۔ کپتان کی شادی کی خوشی میں ساری جہاز پر جشن کا سماں برپا تھا۔ اس خوشی کے رنگ میں موت کا رنگ شامل کیا‘ کپتان کی نوبیاہتا بیوی کے پرانے عاشق ’’پیٹر جیرالڈ‘ ‘نے کپتان اور اسے قتل کردیا جب وہ اپنے کمرے میں سورہے تھے۔ اس نے باورچی خانے میں جا کر تمام کھانوں میں زہر ملا دیا اور یوں اگلی صبح ناشتے کے بعد جہازکی سواریوں میں سب بیشتر ہلاک ہوگئیں۔ جب تک کہ لوگ اس حادثے سے سنبھلتے اس نے لوگوں کو تلوار سے قتل کرنا شروع کردیا۔ہر طرف بھگڈر مچ گئی اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان ہلاکتوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ جہاز کو آسیب زدہ سمجھ کرلوگ کشتیوں میں سوار ہو کر یا سمندر چھلانگیں لگاکر فرار ہونے لگے۔ حتی کہ پیٹر اکیلا ہی وہاں رہ گیا اور عرشے پر کھڑے ہو کر اونچی آواز میں رونے اور چیخنے چلانے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ جہاز کے نچلے حصے میں گیا اور ایندھن میں آگ بھڑکا دی۔ یو ں دیکھتے ہی دیکھتے سارا جہاز پیٹر سمیت جل کر راکھ ہوگیا۔ سمندر میں کودنے والوں میں سے وہی بچ پائے جو کشتیوں میں سوار تھے۔

اس واقعہ کے پچاس سال بعد 1798ء میں ایک دن 13فروری ہی کے دن ساحل پر موجود لوگوں نے دیکھا کہ شدید دھند میں سے ایک تین ستونوں والا جہاز ساحل کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ کہ اس میں سے تیز گانے اور سازوں کے بجنے کی آوازیں آرہی ہیں۔ لیکن کوئی شخص اس میں دکھائی نہیں دیتا۔ ساحل کے قریب آنے کے بعد جب وہ جہاز پھر سے واپسی کے لیے مڑا تو لوگوں نے دیکھا کہ اس پر بڑے حروف میں ’’لیڈی لووی بونڈ‘‘ لکھا تھا۔ یہ منظر دیکھنے والے وہاں ساحل پر بہت سے لوگ موجود تھے۔ تاہم ان میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ وہی بدبخت جہاز ہے جو پچاس سال پہلے جلا دیا گیا تھا۔ بعدازاں جب یہ نام مقامی میڈیا اور انتظامیہ تک پہنچا تو ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔ کچھ ایسا ہی منظر چند سال بعد برطانیہ ہی کے ایک ساحلی مقام کینٹ میں بھی دیکھا گیا۔جبکہ یہ منظر دیکھنے والوں میں ایک دوسرے جہاز کا تمام عملہ موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’’لیڈی لووی بونڈ‘‘ کے عرشے پر کچھ لوگوں کو ادھر ادھر حرکت کرتے ہوئے بھی دیکھا تھا جیسے وہ انہیں دیکھ کر اندر کمروں میں جا رہے ہوں۔ تاہم کسی کو بھی اس جہاز کے قریب جانے کی ہمت نہیں ہوئی حتی کہ وہ دور جا کر نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…