ان کا کہنا ہے کہ ان کے بازو پر کافی عرصہ پہلے چوٹ لگ گئی تھی۔جس میں علاج کے باوجود درد میں کمی نہیں ہوئی تھی تو کسی نے مجھے سانپ سے مساج کروانے کا مشورہ دیا اس لیے میں انڈونیشیا آیا ہو ، اور مجھے اسنیک مساج سے کافی فائدہ ہوا ہے۔ اسنیک مساج کے دوران مریض کے جسم پر بیک وقت کئی سانپ چھوڑے جاتے ہیں۔ ’’آئن میکلین ‘‘ کا کہنا ہے کہ جب جسم پر سانپ رینگتے ہیں تو بہت اچھا لگتا ہے ، لیکن جب وہ زبان نکالتے ہیں تو ڈر بھی لگتا ہے۔
آئن میکلین کے مطابق ایک دفعہ سانپ کسی کو لپیٹ میں لے لیں تو بغیر مدد کے بندہ اْٹھ بھی نہیں سکتا۔رپورٹ کے مطابق۔مساج کے دوران اس وقت سانس روکنی پڑتی ہے ، جب سانپ اپنا منہ انسان کے چہرے پر لے آئے۔ اس دوران زیادہ حرکت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ، صارف کو اپنا جسم بے حس و حرکت کر کے سانپوں کا ایک دوسرے کے ساتھ لپٹنے کا تماشہ دیکھنا چاہیے۔ تاہم یہ مساج کمزور دل والوں کے بس کی بات نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق ، انڈونیشیا میں سانپ سے مساج کرنے کو ذہنی امراض کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ ذہنی تناؤ کے مریض ڈاکٹری علاج سے مایوس ہوکر اسنیک سینٹروں کا رْخ کر رہے ہیں۔ جکارتہ میں سب سے پہلے کْھلنے والے اسنیک مساج سینٹر کی فیس4 لاکھ80 ہزار انڈونیشین روپیہ (47 امریکی ڈالر) ہے ، جس کے عوض90 منٹ طویل مساج کیا جاتا ہے۔ ان سینٹروں میں ہر قسم اور رنگ کے سانپ رکھے گئے ہیں۔ چہرے اور پاؤں کی انگلیوں کے مساج کے لیے چھوٹے سانپوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔




















































