جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

موتی: قدیم روایت یا دولت کا ذریعہ

datetime 6  جولائی  2016 |

قطر میں موتی تلاش کرنے والے غوطہ خوروں کی کُل پانچ ٹیمیں موجود ہیں۔ جنوبی قطر کے ساحلی علاقے میں چند کلو میٹر کے فاصلے پر خلیج کے نیلے اور سبز پانیوں میں پانچ مثلث نما بادبانوں والی عربی کشتیاں ہچکولے کھاتی دکھائی دے رہی ہیں اور ان میں سے ہر ایک پر متعدد غوطہ خور سوار ہیں۔ ٹھیک دوپہر کو اُس وقت، جب گرمی عروج پر ہوتی ہے، غوطہ خور چھ میٹر یا 20 فُٹ کی گہرائی میں غوطہ لگا کر سمندر کی تہہ میں چھُپے موتی، جنہیں عربی زبان میں لولو کہتے ہیں، تلاش کرتے ہیں۔ یہ ماضی کی منظر کشی کرنے والا کوئی رومانوی سین نہیں بلکہ قطر میں ہر سال منعقد ہونے والا ’ موتیوں کے لیے غوطہ خوری‘ کا سنیار نامی سب سے بڑا ایونٹ ہے۔ غوطہ خوری کر کے سمندر کی تہہ سے موتی نکالنے والے غوطہ خور، جو اس ٹورنامنٹ میں حصہ لیتے ہیں، ان میں پہلا انعام حاصل کرنے والے کو چار لاکھ قطری ریال یا ایک لاکھ دس ہزار ڈالر سے نوازا جاتا ہے۔ ہر ایک ٹیم میں پانچ غوطہ خور تک شامل ہو سکتے ہیں۔ ہر ایک دوسرے کو ہدایات دے رہا ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ موتی کس طرح تلاش کیے جائیں۔ اس عمل میں تیز رفتاری کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ جیسے ہی ایک غوطہ خور ساحل پر پہنچ کر موتیوں سے بھرا ایک بیگ دکھاتا ہے تو اس کی ٹیم کی طرف سے خوشی کا نعرہ بلند ہوتا ہے، جو دوسرے جہاز پر سوار موتی غوطہ خوروں کی ٹیم کے لیے اس مقابلے میں مزید محنت اور لگن کی ضرورت کے احساس کو اجاگر کرتا ہے۔ موتی سے زیادہ صدف کی اہمیت موتی صدف میں بند ہوتے ہیں۔ اس لیے صدف کی حفاظت بہت ضروری ہوتی ہے تاہم صدف کی تعداد پر ہی جیت یا ہار کا انحصار نہیں ہوتا بلکہ صدف کے ساتھ برتاؤ یا سلوک پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ جو ٹیم جتنی نفاست اور احتیاط سے صدف کھول کر اُس میں سے موتی نکالتی ہے، اُسے اتنے ہی زیادہ پوائنٹس ملتے ہیں۔ اس مقابلے کا ایک باقاعدہ ریفری ہوتا ہے جو موتیوں کی گنتی کی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے منتظمین نے یہ فیصلہ کیا کے موتی گننے کی بجائے صدف کی تعداد کی گنتی کی جانی چاہیے کیونکہ موتی نکالنے کے بعد صدف کو دوبارہ پانی میں ڈال دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے قدرتی ماحول میں دوبارہ نشوونما پا سکیں اور اس طرح قدرت کی یہ مخلوق زندہ رہے۔
غوطہ خوروں کا اس مقابلے کے دوران خاص خیال بھی رکھا جاتا ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ چند افراد اس کام پر مامور ہوتے ہیں کہ غوطہ خوروں کی غذائی ضروریات کا خیال رکھیں، انہیں کھانا، چاکلیٹ اور گوشت وغیرہ فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک غوطہ خور عبداللہ بلال کے بقول،” یہ مقابلہ محض پیسوں کے لیے نہیں منعقد کیا جاتا بلکہ اس کا مقصد قطر کے ورثے کو ماضی کی طرح زندہ رکھنا ہے، ماضی میں یہ رواج متروک ہو گیا تھا لیکن ہم اسے واپس لانا چاہتے ہیں، خاص طور سے انرجی سے بھرپور نوجوانوں کے لیے یہ نہایت اہم اور دلچسپ سرگرمی ہے” ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…