قطر میں موتی تلاش کرنے والے غوطہ خوروں کی کُل پانچ ٹیمیں موجود ہیں۔ جنوبی قطر کے ساحلی علاقے میں چند کلو میٹر کے فاصلے پر خلیج کے نیلے اور سبز پانیوں میں پانچ مثلث نما بادبانوں والی عربی کشتیاں ہچکولے کھاتی دکھائی دے رہی ہیں اور ان میں سے ہر ایک پر متعدد غوطہ خور سوار ہیں۔ ٹھیک دوپہر کو اُس وقت، جب گرمی عروج پر ہوتی ہے، غوطہ خور چھ میٹر یا 20 فُٹ کی گہرائی میں غوطہ لگا کر سمندر کی تہہ میں چھُپے موتی، جنہیں عربی زبان میں لولو کہتے ہیں، تلاش کرتے ہیں۔ یہ ماضی کی منظر کشی کرنے والا کوئی رومانوی سین نہیں بلکہ قطر میں ہر سال منعقد ہونے والا ’ موتیوں کے لیے غوطہ خوری‘ کا سنیار نامی سب سے بڑا ایونٹ ہے۔ غوطہ خوری کر کے سمندر کی تہہ سے موتی نکالنے والے غوطہ خور، جو اس ٹورنامنٹ میں حصہ لیتے ہیں، ان میں پہلا انعام حاصل کرنے والے کو چار لاکھ قطری ریال یا ایک لاکھ دس ہزار ڈالر سے نوازا جاتا ہے۔ ہر ایک ٹیم میں پانچ غوطہ خور تک شامل ہو سکتے ہیں۔ ہر ایک دوسرے کو ہدایات دے رہا ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ موتی کس طرح تلاش کیے جائیں۔ اس عمل میں تیز رفتاری کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ جیسے ہی ایک غوطہ خور ساحل پر پہنچ کر موتیوں سے بھرا ایک بیگ دکھاتا ہے تو اس کی ٹیم کی طرف سے خوشی کا نعرہ بلند ہوتا ہے، جو دوسرے جہاز پر سوار موتی غوطہ خوروں کی ٹیم کے لیے اس مقابلے میں مزید محنت اور لگن کی ضرورت کے احساس کو اجاگر کرتا ہے۔ موتی سے زیادہ صدف کی اہمیت موتی صدف میں بند ہوتے ہیں۔ اس لیے صدف کی حفاظت بہت ضروری ہوتی ہے تاہم صدف کی تعداد پر ہی جیت یا ہار کا انحصار نہیں ہوتا بلکہ صدف کے ساتھ برتاؤ یا سلوک پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ جو ٹیم جتنی نفاست اور احتیاط سے صدف کھول کر اُس میں سے موتی نکالتی ہے، اُسے اتنے ہی زیادہ پوائنٹس ملتے ہیں۔ اس مقابلے کا ایک باقاعدہ ریفری ہوتا ہے جو موتیوں کی گنتی کی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے منتظمین نے یہ فیصلہ کیا کے موتی گننے کی بجائے صدف کی تعداد کی گنتی کی جانی چاہیے کیونکہ موتی نکالنے کے بعد صدف کو دوبارہ پانی میں ڈال دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے قدرتی ماحول میں دوبارہ نشوونما پا سکیں اور اس طرح قدرت کی یہ مخلوق زندہ رہے۔
غوطہ خوروں کا اس مقابلے کے دوران خاص خیال بھی رکھا جاتا ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ چند افراد اس کام پر مامور ہوتے ہیں کہ غوطہ خوروں کی غذائی ضروریات کا خیال رکھیں، انہیں کھانا، چاکلیٹ اور گوشت وغیرہ فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک غوطہ خور عبداللہ بلال کے بقول،” یہ مقابلہ محض پیسوں کے لیے نہیں منعقد کیا جاتا بلکہ اس کا مقصد قطر کے ورثے کو ماضی کی طرح زندہ رکھنا ہے، ماضی میں یہ رواج متروک ہو گیا تھا لیکن ہم اسے واپس لانا چاہتے ہیں، خاص طور سے انرجی سے بھرپور نوجوانوں کے لیے یہ نہایت اہم اور دلچسپ سرگرمی ہے” ۔
موتی: قدیم روایت یا دولت کا ذریعہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پانچ سو ڈالر
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
ایران امریکا مذاکرات کا اعلان،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات



















































