پہلا اور بدترین منظرنامہ یہ ہے کہ 2024 میں اگر تصادم کی صورتِ حال پیدا ہوئی تو زیادہ ممکن ہے کہ یہ کشمیر میں شدت پسند حملے کی وجہ سے ہو۔ حملے کے بعد جنگ کا خطرہ ہو سکتا ہے، تاہم، بین الاقوامی دباو¿ اور ذمہ داریوں کے باعث ، یہ لڑائی محدود رہے گی۔ تاہم، اس بات پر اتفاق ہوا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات حادثوں کے شکار رہتے ہیں اور متنازع سرحدی علاقوں میں فائرنگ کے واقعات بھی بڑھ کر تصادم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باو¿نڈری پر جنگ بندی کے واقعات پیش آئے رپورٹ کے مطابق، دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کا سلسلہ جاری رہے گا جس میں امن قائم کرنے کے عمل میں کبھی پیش رفت ہو گی اور کبھی نہیں۔ اس منظرنامے میں سویلین سیاسی قیادت کا تعلقات بہتر کرنے میں کردار اتنا ہی محدود رہے گا جیسے آج کل ہے۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ثقافتی تبادلے کے حوالے سے کچھ حد تک پیش رفت نظر آ رہی ہے، جیسے میڈیا کے مشترکہ پروگرام اور ثقافتی اور ادبی میلوں کے انعقاد میں اضافہ۔ رپورٹ کے مطابق، 2024 میں سب سے بہترین منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت بات چیت ہو رہی ہو اور امن کے قیام کے لیے بتدریج بہتری نظر آ رہی ہو۔ تاہم، ایسا ظاہر نہیں ہوتا کہ اس بہترین منظرنامے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مکمل اعتماد قائم ہو۔ اس منظرنامے میں تجاری تعلقات میں بھی بہتری نظر آئی گی لیکن سیاچن اور کشمیر کے معاملوں پر کسی قسم کے معاہدے کی امید نہیں ہے۔تاہم، سر کریک اور پانی کے معاملے میں مسائل حل ہو جائیں گے۔
اس رپورٹ کو جاری کرنے کی تقریب میں موجود بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر جہانگر اشرف قاضی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو سمجھدار اور پاکستان کے طویل مدتی مفاد کی بنیاد پر بنانی ہو گی تو اس کے لیے ہمیں اپنے سب سے بڑے ہمسائے بھارت کو اپنا حریف ملک نہیں تصور کرنا چاہیے۔
مزید پڑھئے:بھارت کا وہ شرمناک گاﺅں جہاں ایک عورت کے کئی شوہر ہوتے ہیں
ہاں، کشمیر اور دیگر تنازعات کی وجہ سے کشیدگی چلتی رہے گی لیکن آج کل کی صورتِ حال تو نہ جنگ ہے اور نہ ہی امن اور یہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے۔ دس سال بعد اس موجودہ پالیسی کے لیے پاکستان کو بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘حال ہی میں دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ کی اسلام آباد میں ملاقات بھی ہوئی لیکن بات آگے نہیں بڑھ سکی
جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سے امیدیں بہت تھیں لیکن گذشتہ ایک برس میں انھوں نے پاکستان کو یا تو نظرا انداز کیا یا چھوٹی چھوٹی باتوں کا پہاڑ بنا کر بات چیت سے دور رہنے کا جواز بنایا۔’پاکستان کے جانب سے بھارت کی ضد اور سختی کے باعث پاکستان میں سول اور عسکری قوتوں کے درمیان تقسیم نظر آئی اور پھر خارجہ پالیسی کے معاملے میں عسکری قیادت کو تقویت حاصل ہوئی۔ ٹھیک ہے، کشمیر کا معاملہ حل نہیں ہو سکتا لیکن بھارت کو جذبات سے پاک بات چیت کی جانب آنا چاہیے۔ اس طرح پاکستان کو نظر انداز کر کے ہماری بے عزتی ہو رہی ہے۔‘رپورٹ نے اپنی سفارشات میں زور دیا کہ دونوں ممالک کو طویل مدتی امن کی جانب غور کرنے کیضرورت ہے، جو تجاری تعلقات بہتر کرنے اور دونوں ممالک میں قدامت پسند عناصر پر قابو پانےسے پورا ہو سکتا ہے، جبکہ افغانستان کو بھی دو طرفہ بات چیت کے موضوعات میں شامل کرناچاہیے۔ لیکن مستقبل، آج کل سے مختلف نظر نہیں آ رہا۔



















































