جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

پناہ گزینوں کے خطرناک بحری سفر کی کہانی

datetime 6  جولائی  2016 |

ان میں سے بہت سے لوگوں نے پانی اور کھانے کے لیے کچھ مانگا۔ بعد میں ایک تھائی ہیلی کاپٹر وہاں آیا اور کھانے کی اشیا گرائیں۔ملائشیا اور تھائی لینڈ نے اس کشتی کو اپنی اپنی بحری حدود میں لے جانے سے انکار کیا جسے مبصرین نے ’ پنگ پانگ‘ میچ کہہ کر ان کے اس عمل کی مذمت کی۔سنیچر کو ایک تھائی صحافی تیپ ہانی ایسترکائی کو اس وقت کشتی پر جا کر جائزہ لینے کی اجازت ملی جب فوج نے اس پر سوار ہو کر انجن کو مرمت کیا اور کشتی پر موجود چند افراد کو اسے چلانے کا طریقہ بتایا۔بہت سے عینی شاہدین کے مطابق اس رات کشتی کو کھینچ کر بین الاقوامی پانیوں میں لے جایا گیا۔تھائی لینڈ کا اس بات پر اصرار تھا کہ اس کشتی پر سوار افراد یہاں نہیں رہنا چاہتے جبکہ ایسترکائی نے بتایا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ تارکین وطن کو مدد کی ضرورت تھی اور انھیں کہاں جانا چاہیے

150520164959_rohingya_boat_624x351_bbc

اس کا انھیں بالکل اندازہ نہیں تھا۔جب انھیں کھینچ کر لے جایا رہا تھاتو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ملائشیا کی جانب نہیں جا رہے ہیں بلکہ وہ مزید انڈونیشیا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔پیر کو موسمیاتی رپورٹ میں مون سون کی وجہ سے سمندر میں تلاطم کے امکان کی تنبیہ کی گئی تھی ۔تاہم بدھ کے روز انڈونیشیا میں وسطی آچے کے ساحل پر اسے دیکھا گیا۔یہ کشتی آخر کار میانمر سے نکلنے کے دس ہفتے اور پہلی بار تھائی لینڈ میں ملنے کے چھ دن بعد پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔تارکین وطن نے انسانی حقوق کے کارکنوں کو بتایا کہ ملائشیا کے حکام انڈونیشیا تک تقریباً تمام راستے ان کے ساتھ رہے۔پروڈیوسر ژن یان یو نے بتایا کہ جب وہ بعد میں کشتی پر گئے تو وہاں شدید بد بو تھی

150520164301_rohingya_boat_624x351_reuters_nocredit

اور ہر طرف کپڑے، پلاسٹک کی بوتلیں اور پلیٹیں بکھری پڑی تھیں۔آچے پہنچنے کے بعد انھیں جولاک گاؤں میں عارضی پناہ گاہوں میں لے جایا گیا۔تارکین وطن کو مزید کارروائی کے لیے بسوں پر سوار کرا کر قریبی قصبے لنگسا لے گئے تھے۔ان کی آمد کے ساتھ ہی ملائشیا اور انڈونیشیا کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا کہ وہ تارکین وطن کی کشتیوں کو نہ نکالیں گے اور نہ دھکیلیں گے۔دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ وہ تارکین وطن کو عارضی رہائش دیں گے اور ان کی آباد کاری کا عمل ایک سال میں مکمل ہو جائے گا۔یہ اعلان ان تارکین وطن کے لیے ایک امید کی کرن ہے جو سمندر میں ایک خطرناک سفر میں بچنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔۔(بشکریہ بی بی سی)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…