ان میں سے بہت سے لوگوں نے پانی اور کھانے کے لیے کچھ مانگا۔ بعد میں ایک تھائی ہیلی کاپٹر وہاں آیا اور کھانے کی اشیا گرائیں۔ملائشیا اور تھائی لینڈ نے اس کشتی کو اپنی اپنی بحری حدود میں لے جانے سے انکار کیا جسے مبصرین نے ’ پنگ پانگ‘ میچ کہہ کر ان کے اس عمل کی مذمت کی۔سنیچر کو ایک تھائی صحافی تیپ ہانی ایسترکائی کو اس وقت کشتی پر جا کر جائزہ لینے کی اجازت ملی جب فوج نے اس پر سوار ہو کر انجن کو مرمت کیا اور کشتی پر موجود چند افراد کو اسے چلانے کا طریقہ بتایا۔بہت سے عینی شاہدین کے مطابق اس رات کشتی کو کھینچ کر بین الاقوامی پانیوں میں لے جایا گیا۔تھائی لینڈ کا اس بات پر اصرار تھا کہ اس کشتی پر سوار افراد یہاں نہیں رہنا چاہتے جبکہ ایسترکائی نے بتایا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ تارکین وطن کو مدد کی ضرورت تھی اور انھیں کہاں جانا چاہیے
اس کا انھیں بالکل اندازہ نہیں تھا۔جب انھیں کھینچ کر لے جایا رہا تھاتو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ملائشیا کی جانب نہیں جا رہے ہیں بلکہ وہ مزید انڈونیشیا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔پیر کو موسمیاتی رپورٹ میں مون سون کی وجہ سے سمندر میں تلاطم کے امکان کی تنبیہ کی گئی تھی ۔تاہم بدھ کے روز انڈونیشیا میں وسطی آچے کے ساحل پر اسے دیکھا گیا۔یہ کشتی آخر کار میانمر سے نکلنے کے دس ہفتے اور پہلی بار تھائی لینڈ میں ملنے کے چھ دن بعد پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔تارکین وطن نے انسانی حقوق کے کارکنوں کو بتایا کہ ملائشیا کے حکام انڈونیشیا تک تقریباً تمام راستے ان کے ساتھ رہے۔پروڈیوسر ژن یان یو نے بتایا کہ جب وہ بعد میں کشتی پر گئے تو وہاں شدید بد بو تھی
اور ہر طرف کپڑے، پلاسٹک کی بوتلیں اور پلیٹیں بکھری پڑی تھیں۔آچے پہنچنے کے بعد انھیں جولاک گاؤں میں عارضی پناہ گاہوں میں لے جایا گیا۔تارکین وطن کو مزید کارروائی کے لیے بسوں پر سوار کرا کر قریبی قصبے لنگسا لے گئے تھے۔ان کی آمد کے ساتھ ہی ملائشیا اور انڈونیشیا کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا کہ وہ تارکین وطن کی کشتیوں کو نہ نکالیں گے اور نہ دھکیلیں گے۔دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ وہ تارکین وطن کو عارضی رہائش دیں گے اور ان کی آباد کاری کا عمل ایک سال میں مکمل ہو جائے گا۔یہ اعلان ان تارکین وطن کے لیے ایک امید کی کرن ہے جو سمندر میں ایک خطرناک سفر میں بچنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔۔(بشکریہ بی بی سی)





















































