جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’گاؤپالن منتری‘‘ عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والے بھارت

datetime 6  جولائی  2016 |

اوتارام دیواسی کو اکتوبر 2014 میں ڈیری اور گرجا گھروں کی دیکھ بھال کی وزارت کا قلمدان دیا گیا تھا اور اب انہیں گاؤ پالن ڈیپارٹمنٹ کا بھی اضافی چارج دے دیا گیا جبکہ ان کی ذمہ داریوں میں راجستھان اوورسیز گاؤ سیوا کمیشن اور کاو کنزرویشن ڈائریکٹوریٹ کے معاملات کو دیکھنا بھی شامل ہے۔ وزارت ملنے کے بعد اوتارام دیواسی کا کہنا تھاکہ وہ جلد وزیر اعظم نریندرا مودی سے ملیں گے اور انہیں مرکز میں بھی فوری گائے کی وزارت بنانے پر زور دیں گے یوں بھارت دنیا کا پہلا ملک ہے جس میں گائے کیلئے باقاعدہ ایک وزیر دستیاب ہوگا لیکن عجب بات یہ ہے یہ گائے اپنے حق کیلئے اپنے وزیر سے رابطہ کیسے کرے گی‘ کیا وزیر موصوف کروڑوں کی تعداد میں گایوں کو ان کے حقوق اور تحفظ دلوا سکیں گے اور اگر کہیں کسی گائے کے حقوق کی پامالی ہو گئی تو اس کی شکایت کون کروائے گا‘ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے مگر یہ سچ ہے کہ بھارت میں اب گائے کی وزارت وجود پا چکی ہے۔ اس بھارت میں جس میں اقلیتوں کو بنیادی حقوق تک میسر نہیں‘ جس میں مسلمانوں کو تحفظ ہے اور نہ ہی سکھ سکھی ہیں‘ جس میں چلتی بسوں میں لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہو جاتی ہے اور انہیں کوئی تحفظ دینے والا نہیں‘ اس بھارت میں جہاں عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے اس کو حقوق دلوانے والا کوئی نہیں‘ اس بھارت میں جہاں 61کروڑ لوگ غریب ہیں‘ اس بھارت میں جہاں 32روپے یومیہ کمانے والوں کو غربت میں شمار نہیں کیا جاتا۔ اس بھارت میں جہاں آبادی کا صرف دس فیصد صاف پانی پینے پر قادر ہے مگر اس بھارت میں گائے ماتا کے تحفظ کیلئے وزیروں کا انتخاب کچھ زیادہ جچتا نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پچھلے ماہ ہی مودی سرکار نے ایک اور دلچسپ فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی سرکار نے تمام سرکاری دفاتر کی صفائی فینائل سے کرنے کے بجائے گائے کے پیشاب سے کرنے کافیصلہ کیا ہے۔اس سلسلے میں ایک بھارتی فاؤنڈیشن دی ہولی کاؤ نے ایک مخصوص کیمیکل بھی تیار کیا ہے‘ فاؤنڈیشن نے سب سے پہلے گائے کے پیشاب سے دفاتر کی صفائی کی لیکن یہ تجربہ اس وقت ناکام ثابت ہو گیا جب ملازمین نے پیشاب کی بدبو سے دفاتر میں گھسنے سے انکار کر دیا‘ بعض ملازمین نے تو دفتر آنا ہی چھوڑ دیا‘ اس تجربے کی ناکامی کے بعد اب فاؤنڈیشن نے گائے کے پیشاب میں صنوبر کی خوشبو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ‘ فاؤنڈیشن نے یہ کیمیکل تیار کیا اور اس کیمیکل کو ’’گاؤنائل‘‘ کا نام دے دیا۔اس کیمیکل کو بعدازاں مختلف لیبارٹریز میں ٹیسٹ بھی کیا گیا جس کے بعد اب اسے باقاعدہ سرکاری دفاتر میں صفائی کیلئے استعمال کیا جائے گا۔بھارتی وزیر اور جانوروں کے حقوق کی رہنما مانیکا گاندھی کا کہنا ہے کہ یہ ہماری بڑی کامیابی ہے کیونکہ گائے کے پیشاب سے بنا کیمیکل انسانوں کے لئے مضر نہیں اور اس طرح سے ہندو مذہب کے ماننے والوں میں گائے کی قدر میں بھی اضافہ ہو گا۔ بھارت کے ان انوکھے اقدامات پر صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے کیونکہ جو قوم اپنے جیسے انسانوں کو برابری دینے سے قاصر ہے شائد وہ گایوں کو تحفظ دینے میں کامیاب ہو جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…