جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

گنگا‘ جمنی تہذیب کی بنیاد بننے والی! مغل خواتین

datetime 6  جولائی  2016 |

مغلوں میں خاندان کی عورتوں کو بہت حد تک آزادی حاصل تھی ۔ وہ اپنے انداز سے زندگی گزارتی تھیں اور بادشاہ کی جانب سے ان پر کسی قسم کی پابند عائد نہیں کی جاتی تھی۔ مغل عورتوں میں پردے کا رواج نہیں تھا اور وہ بھی مغل مردوں کی ہی طرح باضابطہ گھڑسواری کرتی تھیں۔ شکار پر جایا کرتی تھیں اور خود تیر اندازی کیا کرتی تھیں‘ یہاں تک کہ مغلوں کی شہزادیاں اور شہزادے دونوں ایک ساتھ ہی تعلیم حاصل کرتے تھے اور کابل میں تو خاندان کی لڑکیاں اور لڑکے دربار میں بھی ایک ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ بابر اور ہمایوں کے زمانے تک عام طور پر شاہی خاندان کی تمام شہزادیوں کی ان کی پسند کے مطابق شادیاں ہوتیں اور وہ شاہی محل چھوڑکر اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ رہنے کے لیے گئیں لیکن شاہ جہاں کے آتے آتے یہ روایت تبدیل ہو گئی اور شاہی خاندان کی شہزادیاں عموماًمجرد زندگی گزارتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان میں راجپوتوں کی دیکھا دیکھی پردہ کرنے کا بھی رواج پروان چڑھ گیا تھا‘اسی لیے ابتدائی مغل رانیوں یا شہزادیوں کی تو تصویریں دستیاب ہیں لیکن بعد کی مغل شہزادیوں کی تصویریں نظر نہیں آتیں۔
مغل بادشاہوں یا شہزادوں کی تمام شادیاں اسلامی طور طریقے سے ہوا کرتی تھیں اور جس سے شادی ہوتی تھی اس خاتون کا چاہے کوئی بھی مذہب رہا ہو لیکن وہ نکاح کے بعد حرم میں داخل ہوتی تھی اور شاہ جہاں کے وقت تک مغل خاندان کی بیوہ یا مطلقہ شہزایوں کی دوبارہ شادی کا بھی خوب رواج تھا لیکن بعد میں یہ طریقہ ہو گیا تھا کہ شاہی خاندان کی خواتین بیوہ ہونے یا مطلقہ ہونے کے بعد دوبارہ شادی نہیں کرتی تھیں حالانکہ مذہبی طور پر کوئی پابندی نہیں تھی لیکن ہندوستانی اثر سے شاید یہ رواج عام ہو گیا تھا۔ مغلوں کے محل میں تیوہار بہت ہی جوش و خروش سے منائے جاتے تھے اور دونوں عید کے موقع پر تو بہت جشن منایا جاتا تھا اور اکبر کے عہدے سے ہندوتیوہاروں میں بھی شاہی خاندان کے شریک ہونے کی روایت پر گئی تھی۔ دیوالی کے موقع پر تو باضابطہ پورے محل میں چراغاں کیاجاتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ مغلوں نے ہندوستان کے معاشرتی اثرات کو شعوری طور پر اپنی زندگی میں داخل کیاتھا اور اسی کی وجہ سے ایک گنگا‘ جمنی تہذیب پروان چڑھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…