یہا ں تک کہ منہ بولی ماں کے احترام و فرما نبرداری کے مغل بادشاہوں کی تاریخ میں بے شمار واقعات موجود ہیں۔ ابولفضل نے بابر اور اکبر کے سلسلے میں ایسے کئی واقعات درج کئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید اختلاف کے باوجود بابر نے اپنی دادی شاہ بیگم اور اکبر نے اپنی ماں حمیدہ بانو کے سامنے ہمیشہ سر تسلیم خم کئے رکھا اور ان کی قدم بوسی کے لیے مسلسل ان کی اجازت کا طلبگار رہا۔ اکبر کی سعادت مندی کا تو یہ حال تھا کہ جب اس کی ماں نے لاہور سے آگرہ آتے وقت کچھ دیر کے لیے پالکی میں سوار ہو کر سفر کرنا چاہا تو انگریز تاریخ دان تھا مس کوریاٹ کے مطابق اکبر نے خود اس پالکی کو کافی دور تک کندھا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب جہانگیر نے اکبر کے خلاف بغاوت کرکے الٰہ آباد میں اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا تھا تو اکبر نے قسم کھائی تھی کہ باغی کی سزا چونکہ سر قلم کر نا ہے‘ اس لیے جہانگیر کو بھی نہیں بخشا جائے گا اور اکبر اس سلسلے میں بہت سخت تھا لیکن جب اکبر کی والدہ مریم مکانی یعنی حمیدہ بانو نے اپنے پوتے کی جان بخشی کی درخواست کی تو اکبر کے لیے اس درخواست کو ٹھکرانا ممکن ہی نہیں تھا اور وہ اپنی ماں کے قدموں کو پکڑ کر رونے لگا تھا۔ اکبر تو اپنی رضاعی ماں ’جی جی انگا‘ کی اتنی فرما نبرداری کرتا تھا کہ لوگ کہتے تھے کہ بادشاہ اپنی ماں مریم مکانی کی کسی بات کو تو شاید نظر انداز کر دے لیکن ’جی جی انگا‘کی کسی بات کو نظر انداز نہیں کر سکتا ۔ اورنگ زیب جیسا سخت دل اور اصول پسند بادشاہ کا یہ حال تھاکہ جب اس کی ماں نے ایک بار اس کے ایک بیٹے کی بغاوت میں ساتھ دیا تو اس پر خفا ہونے کے بجائے وہ خود ماں کی خدمت میں حاضر ہوا اور ماں کے پاؤں دباتا رہا اور رو رو کر پوچھتا رہا آخر مجھ سے کیا غلطی ہو گئی ہے کہ میری ماں مجھ سے خفا ہے۔
تاریخ میں مغل بادشاہوں اور ان کے شہزادوں کی شادیوں کے احوال بڑے تفصیل سے درج ہیں کیونکہ شادی کی تقریب کو مغلوں میں بڑی اہمیت حاصل تھی اس کی کچھ تو سیاسی اہمیت بھی تھی کیونکہ اسے دوسروں کو اپنا حلیف بنانے کی کوشش کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا‘ دوسرے ویسے بھی تیموریوں میں شادی کو ایک تزک و احتشام کے ساتھ منانے کارواج تھا۔



















































