جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

جنگجوؤں کا قبضہ- قندوز کیوں اہم ہے؟

datetime 3  جون‬‮  2016 |

افغانستان کے شمال مشرقی شہر قندوز پر طالبان جنگجوؤں کا قبضہ سنہ 2001 میں طالبان کا تختہ الٹنے کے بعد سے اب تک کی افغان حکومت کی بدترین ناکامی ہے۔قندوز افغانستان کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے اور یہ عرصہ دراز سے ملک کے شمالی علاقوں کے لیے ذرائع آمدورفت کا ایک اہم مرکز ہے۔قندوز سڑکوں کے ذریعے جنوب میں کابل، مغرب میں مزار شریف اور شمال میں تاجکستان سے جڑا ہوا ہے۔
یہ شہر ہمیشہ سے طالبان کے لیے علامتی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ سنہ 2001 سے پہلے یہ شمالی افغانستان میں طالبان کا اہم گڑھ تھا۔
منشیات کی سمگلنگ کا راستہ قندوز شمالی صوبوں تک رسائی کے لیے باب کی حیثیت رکھتا ہے اور افغانستان کے ہمسائے اور وسطی ایشیا کے ملک تاجکستان کے ساتھ اس کی سرحد بھی ملتی ہے۔تاجکستان کے ساتھ اس کی سرحد غیرمحفوظ ہے اور اسی راستے سے منشیات وسطی ایشیا کی ریاستوں میں سمگل کی جاتی ہیں جہاں سے انھیں آگے یورپ بھیجا جاتا ہے۔جو کوئی بھی قندوز پر قابض ہوگا وہ نہ صرف آس پاس کے علاقوں کو کنٹرول کر سکے گا بلکہ خطے کے سملنگ کے ایک اہم راستے پر بھی اس کا کنٹرول ہوگا۔سنہ 2013 میں افغان فورسز کی جانب سے علاقے کی سکیورٹی سنبھالنے سے قبل اس علاقے میں جرمن افواج تعینات تھیں۔
قندوز کو بہت سے مشکلات کا سامنا ہے ان میں مقامی انتظامیہ کی نااہلی کے علاوہ بعض سرکاری اہلکاروں کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال سے بھی صوبے کے عوام متنفر ہوئے ہیں۔
شہر پر قبضے کے لیے ایک عرصے سے طالبان کی جانب سے کوششں کی جا رہی ہے۔بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون رواں برس مئی میں افغان افواج اور طالبان میں جاری جھڑپوں کے حوالے رپورٹ بھی کر چکے ہیں۔صوبے کے دیہی علاقے جہاں آبادی کی اکثریت آباد ہے وہاں پہلے ہی طالبان قابض ہیں۔طالبان نے گذشتہ دو برس میں صوبے میں اپنی جنگی مہم میں تیزی لائی ہے۔قندوز شہر کی آبادی تقریباً تین لاکھ کے قریب ہے جس میں یقیناً کمی ہوئی ہے کیونکہ رواں برس ہونے والی لڑائی کے بعد بہت سے لوگ یہاں سے منتقل ہو گے تھے۔علاقے میں جاری لڑائی کی وجہ سے کئی ہزار افراد بے گھر ہوئے تھے جن میں سے اکثر دیہی علاقوں میں قائم پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔اگرچہ سال کے اوائل میں ہونے والی لڑائی میں حکومتی افواج نے طالبان کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا لیکن وہ بڑی تعداد میں علاقے میں موجود تھے اور مبصرین کا خیال تھا کہ طالبان کی جانب سے شہر پر قبضے کے لیے کسی بھی وقت دوبارہ کوشش کی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…