یہ ’’جدیدامام‘‘ دو دنیاؤں کا راہی ہے ‘ ایک طرف وہ مصلیٰ رسولؐ پر کھڑا ہوتا ہے تومقتدی اس کی سریلی قرات سے دل تھام لیتے ہیں اور دوسری طرف جب وہ محفلوں میں موسیقی کی دھنیں چھیڑتا ہے تو کلیسا کے ماننے والے بھی عش عش کر اٹھتے ہیں

اشفاق احمد نے ’’زاویہ ‘‘ میں ایک بہروپئے کا انتہائی خوبصورت واقعہ تحریر کیا‘میں اختصار کے ساتھ اس واقعے کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ اورنگزیب عالم گیر کے دربار میں ایک بہروپیا حاضر ہوا اور بادشاہ سے کسی بات پر شرط لگائی کہ اگر وہ بھیس بدل لے تو بادشاہ اسے پہچان نہیں سکے گا‘ شرط طے ہو گئی اور بہروپیا دربار سے نکل گیا‘ سال بھر بعد اورنگزیب عالم گیر ایک معرکے میں پھنس گیا‘ اس کا لشکر قلعہ توڑنا چاہتا تھا لیکن تمام تر تگ و دو کے باوجود کامیابی ہاتھ نہیں آتی تھی‘ بادشاہ مجبور ہو گیا‘ ایک مشیر نے مشورہ دیا یہاں ایک فقیر رہائش پذیر ہے اگر اس سے کامیابی کی دعا کروا لی جائے تو قلعہ فتح ہو جائے گا۔ بادشاہ نے ہامی اور فقیر کی خدمت میں حاضر ہوا‘ دعا کروائی اور قلعہ پر لشکر چڑھا دیا‘ چند گھنٹوں میں قلعہ فتح ہو گیا‘ بادشاہ شکرانے کے طور پر فقیر کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوااور نذرانے کے طور پر زمین جائیداد اور ہیرے جواہرات فقیر کو پیش کئے‘ فقریر نے نذرانہ لینے سے انکار کر دیا۔ بادشاہ واپس دربار میں پہنچا‘ کامیابی کا جشن منا رہا تھا کہ وہی فقیر صدر دروازے سے اندر داخل ہوا‘ بادشاہ احتراماً کھڑا ہوا اور بادشاہ سے بولا ’’مجھے میری شرط دے دیجئے‘‘ بادشاہ نے حیرانی سے پوچھا ’’کون سی شرط باباجی ‘‘ فقیر نے عرض کیا ’’بادشاہ سلامت میں فقیر نہیں وہی بہروپیا ہوں‘‘ بادشاہ نے دائیں بائیں دیکھا‘ خادم کو پانچ سو اشرفیاں لانے کا حکم دیا اور بہروپئے کے ہاتھ پر رکھ کر بولا ’’ایک بات تو بتاؤ ‘ تم نے ان پانچ سو اشرفیوں کی خاطر زمین جائیداد کا نذرانہ کیوں ٹھکرایا‘ یہ 500اشرفیاں تو اس انعام کے مقابلے میں کچھ نہیں‘‘ بہروپیا مسکرایا اور عرض گزار ہوا ’’بادشاہ سلامت میں نے جن کا روپ دھارا تھا‘ مجھے ان کی عزت مقصود تھی‘ وہ سچے لوگ ہیں اورہم جھوٹے لوگ۔ میں یہ نہیں کر سکتا تھاکہ روپ سچوں کا دھاروں اوربے ایمانی کروں۔‘

مجھے یہ واقعہ احمت توزر نامی ایک ترکش نوجوان کی دوہری شخصیت دیکھ کر یاد آگیا‘ احمت توزر بھی اورنگزیب عالم گیر کے بہروپئے کی طرح ہی ایک ایسا کردار ہے جو بھیس بدلتا ہے تو دو مختلف دنیاؤں کا اسیر لگتا ہے۔ یہ نوجوان ترکی کی ایک مسجد سلطان احمد کا امام ہے‘یہ بلا کا مقرر‘سریلامؤذن اور قرآن کا بہترین قاری ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے خوش الحانی کی نعمت سے نواز رکھا ہے یہی وجہ ہے اس نے درجنوں مقابلوں میں انعامات بھی حاصل کر رکھے ہیں۔ ترکی کے سینکڑوں لوگ پانچوں وقت اس کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں‘ یہ ہر جمعے کو اس کا جوشیلا خطاب بھی سماعت فرماتے ہیں اور پانچوں وقت گداز آواز میں اذان بھی۔ مگر آپ کا اس کا دوسرا روپ جان کر حیران رہ جائیں گے۔احمت توزر نے امامت کے ساتھ ساتھ اپنی سریلی آواز کا فائدہ اٹھانے کیلئے ’’راک‘ ‘نامی میوزک بینڈبھی ترتیب دے رکھا ہے‘ یہ پانچوں وقت مسجد میں امامت کرتا ہے اور فارغ وقت میں میوزیکل شو کرتا ہے۔ یہ ترکی کے ضلع قیصریہ کے ’’نار پاشا‘‘قصبے کا رہائشی ہے‘ یہ ترکی کے ایک لاکھ آئمہ مساجد میں واحد امام ہے جو امامت کے ساتھ گلوکاری بھی کرتا ہے۔ یہ بیک وقت مولوی بھی ہے اور گلوکار بھی۔حیران کن امر یہ ہے اس کی وجہ شہرت امام مسجد کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کی شناخت’’راک‘‘موسیقی ہے۔یہ اگرچہ ایک مسلم عالم دین ہے مگر اس کی زندگی کایہ پہلو بھی انتہائی متنازع ہے اور وہ یہ کہ اس نے ایک عیسائی خاتون سے شادی کر رکھی ہے۔ اس امام کی حالت یہ ہے یہ جب مصلیٰ رسول ؐ پر امامت کیلئے آتا ہے تو سر پر امامہ سجالیتا ہے اور یہ جب میوزیکل شو میں جاتا ہے تو ڈسکوز ڈریس زیب تن کر لیتا ہے اور اپنے سروں سے لوگوں کے دلوں کو گرماتا ہے۔ عجب پہلو یہ بھی کہ لوگ اسے امام مسجد کی بجائے ’’راک امام‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں اور وہ اس پر خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ احمت توزر کا یہ دوہرا روپ عالم اسلام میں انتہائی متنازع قرار پا چکا لیکن اس کی دلیل بھی کسی حد تک جاندار ہے۔ اس کا کہنا ہے میں موسیقی میں صوفیانہ کلام پیش کرتا ہوں‘ تاریخ اسلام صوفیانہ شاعری اور گلوکاری سے عبارت ہے‘ اسلامی تاریخ میں موسیقی اسلام کے فروغ کا باعث بنی ‘ اسلام اعتدال کا دین ہے ‘ یہ انتہاپسندی کے خلاف ہے ۔ احمت توزر کے بقول اس کی گلوکاری صوفیانہ طرزکی موسیقی ہے اور وہ معروف صوفی بزرگ جلال الدین رومی کے کلام سے اسلام کے پیغام کو عام کر رہا ہے۔ اس کا موقف ہے تشدد پسند اسلام کے پیروکار موسیقی کو پسند نہیں کرتے‘ اس کی وجہ صرف ان کے فہم کی کمی ہے‘ میرا مقصد اسلام کے روشن پہلو کو سامنے لانا اور ترک معاشرے سے تشدد کے خاتمے کیلئے اسلام کا اعتدال پسند چہرہ پیش کرنا ہے۔

احمت توزر نے اپنے موسیقی بینڈکا آغاز رواں سال میں کیا‘ اس نے موسیقی بینڈ کو FiRock کا نام دیا اوراس نے صوفیانہ کلام کو’’راک موسیقی‘‘کی مختلف مغربی دھنوں میں گا کرموسیقی کو ایک نئی جہت سے روشناس کروایا۔ احمت توزر کی موسیقی کا پہلا البم عنقریب منظر عام پر آنے والا ہے لیکن یہ اپنی ریلیز سے پہلے ہی متنازع ہوچکا ہے‘ ترکی کے مفتی احمت توزر کے اس حرکت پر سخت ناراض ہیں لیکن ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ آیا اس ’’جدید امام‘‘ کا یہ طرز عمل شریعت کے تقاضوں کے مطابق ہے یا خلاف ۔احمت توزر اور اس کے دو ساتھیوں پرمشتمل موسیقی بینڈ کا تازہ البم’’چیلنج کا وقت آن پہنچا‘‘ دس گیتوں کے ساتھ تیار ہے ‘ اسے شدید تنقید کا سامنا بھی ہے ۔ اسلام پسند حلقوں میں احمت توزر کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے لیکن امریکا اور یورپ میں اسے پذیرائی مل رہی ہے ۔ یوں یہ ’’جدیدامام‘‘ بیک وقت دو دنیاؤں کا راہی ہے ‘ ایک طرف وہ جب مصلیٰ رسولؐ پر کھڑا ہوتا ہے تومقتدی اس کی سریلی قرات سے دل تھام لیتے ہیں اور دوسری طرف جب وہ رنگین محفلوں میں موسیقی کی دھنیں چھیڑتا ہے تو کلیسا کے ماننے والے بھی عش عش کر اٹھتے ہیں۔



















































