حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آنحضوؐر کی یہ خوبی کئی بار بیان کی کہ آپؐ ان تمام امور کو کھول کر بیان فرما دیں گے جن کے بارے میں انبیاء سابق خاموش رہے یا مبہم اشارات سے آگے نہ بڑھے۔ یہی وہ وصف ہے جس کو قرآن پاک نے رسول مبین، نذیر مبین اور نورمبین کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ اسی موضوع پر انجیل برناباس کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجئے۔
یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ’’خدا کا یہ قول کہ وہ لذت اٹھائیں گے، کیا فائدہ دے گا؟ حق یہ ہے کہ اللہ صاف صاف کہہ رہا ہے مگر جنت میں قیمتی بہنے والی شے کی چار نہروں اور بے حد افراط سے پھلوں کے ہونے کا کیا فائدہ ہے؟ اس لئے کہ یہ یقین ہے کہ اللہ نہیں کھاتا اور فرشتے نہیں کھاتے اور نفس نہیں کھاتا اور حِس نہیں کھاتی بلکہ بدن (ہی کھاتا ہے) جو کہ یہ ہمارا جسم ہے پس جنت کی بزرگی یہی جسم کا غذا کھانا ہے۔ رہا نفس اورحِس، پس ان دونوں کیلئے اللہ سے اور فرشتوں سے باتیں کرنا اور مبارک رووں سے۔ اور رہی یہ بزرگی۔ تو اس کو عنقریب رسول اللہ روشن ترین بیان کے ساتھ واضح کر دے گا جو کہ ہر مخلوق سے زیادہ چیزوں کا جاننے والا ہے۔ اس لئے کہ اللہ نے سب چیزوں کو اسی کی محبت میں پیدا کیا ہے۔ (۱۷۶:۱-۷)
اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جو دعائیں انجیل برناباس میں منقول ہیں ان میں آپؑ نے توحید باری تعالیٰ کے ساتھ ساتھ رسالت محمدیؐ پر ایمان کا اقرار کیا بلکہ اللہ سے درخواست کی کہ رسول رحمتؐ کو جلد مبعوث فرمائے تاکہ بنی نوع انسان جہالت کی تاریکیوں سے نکل کر ہدایت کے نور سے فیضیاب ہو سکے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امت محمدیؐ
اے رب بخشش والے اور رحمت میں غنی! اپنے خادم کو قیامت کے دن اپنے رسول کی امت میں ہونا نصیب فرما۔ اور فقط مجھ کو ہی نہیں بلکہ ان سب کو بھی جن کو تو نے مجھے عطا فرمایا ہے ساتھ ان تمام لوگوں کے جو آگے چل کر ان کی ہدایت کے واسطے سے ایمان لائیں گے۔ اور اے رب! اس بات کو اپنی ذات کے لئے کر تاکہ اے رب! شیطان تیرے آگے فخر نہ کرے۔ اے وہ پروردگار، معبود! جو اپنی عنایت سے تمام ضروریات اپنی قوم اسرائیل کو پیش کرتا ہے، زمین کے ان سب قبائل کو یاد کر جن سے تو نے یہ وعدہ کیا ہے کہ ان کو اپنے رسول کے ذریعے برکت دے گا جس کے سبب سے تو نے دنیا کو پیدا کیا ہے۔ دنیا پر رحم کر اور اپنے رسول کے بھیجنے میں جلدی کر تاکہ وہ رسول تیرے دشمن شیطان سے اس کی مملکت کو چھین لے‘‘۔ اور یسوع نے اس (دعا) سے فارغ ہو کر تین مرتبہ کہا ’’اے رکب عظیم و رحیم ! چاہئے کہ ایسا ہی ہو‘‘ تب سب لوگوں نے روتے ہوئے جواب میں کہا ’’چاہیئے کہ یہی ہو، چاہیئے کہ یہی ہو، سوائے یہودا کے، کیونکہ وہ کسی چیز پر ایمان نہیں لایا (۲۱۲:۱۴-۲۰)
حضرت عیسیٰ ؑ نے اللہ سے حضور ﷺ کو جلد مبعوث فرمانے کی درخواست کیوں کی؟انتہائی ایمان افروز تحریر
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
ایران امریکا مذاکرات کا اعلان،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































