جاوید چودھری
’’مجھے سمجھ نہیں آ رہی آزاد کشمیر کہاں ہے اور مقبوضہ کشمیر کہاں ہے؟ میرے سامنے بھی فوجی تھے اور پیچھے بھی‘ مجھے محسوس ہوا مجھے سامنے سے بھی گولی ماری جا سکتی ہے اور پیچھے سے بھی‘ میں ہر لحاظ سے ’’ان دی لائین آف فائر‘‘ تھا‘‘

ہم اسلام آباد سے نکلے اور چار گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد مظفر آباد پہنچے‘ سڑک بہت خراب تھی‘ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑک جگہ جگہ سے غائب تھی ‘ ہم شام کے وقت مظفر آباد پہنچے‘ مظفر آباد میں ایک ہی فائیوسٹار ہوٹل ہے‘ یہ ہوٹل خوبصورت مقام پر بنایا گیا‘ آپ کو چاروں طرف سے شہر دکھائی دیتا ہے‘ ہوٹل کی بالکونیوں‘ لانوں اور کمروں کی کھڑکیوں سے مظفر آباد یورپ کا حصہ دکھائی دیتا تھا‘ دھوپ چھتوں پر باقی تھی‘ لوہے کی چھتیں چمک رہی تھیں‘ زلزلے کو گزرے نو سال ہو چکے ہیں مگر زلزلے کے اثرات ابھی تک شہر میں موجود ہیں‘ سڑکیں مکمل نہیں ہوئیں‘ لوگوں کے چہروں پر خوف بھی آج تک باقی ہے‘ آپ کسی سے خیریت پوچھیں اس کے چہرے پر خوف کا سایہ آ جائے گا‘ وہ دائیں بائیں دیکھے گا اور پھر جواب دے گا‘ شہر میں سڑکوں کی تعمیر اور اڑتی ہوئی دھول ہماری نالائقی کا منہ بولتا ثبوت تھا‘ دنیا نے 2005ء کے زلزلے کے بعد دل کھول کر ہماری مدد کی لیکن یہ مدد کرپٹ نظام کے معدوں میں چلی گئی‘ ہم آج تک مظفر آباد کو بحال نہیں کر سکے‘ ہمارے مقابلے میں وہ ممالک جنہوں نے براہ راست پیسے دینے کے بجائے تعمیراتی منصوبے شروع کئے تھے‘ وہ کام مکمل کر کے سات سال قبل پاکستان سے جا چکے ہیں جبکہ ہم ابھی تک جوتے تلاش کر رہے ہیں‘ میری وزیراعظم میاں نواز شریف اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم چودھری عبدالمجید سے درخواست ہے‘ یہ فوری طور پر میٹنگ کریں اور فیصلہ کریں اگلے سال زلزلے سے
مزید پڑھیے:اس آدمی نے اپنے مسلز میں ناقابل یقین حد تک اضافہ کیسے کیا؟



















































