جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

ریت کھانے کی شوقین 92 سالہ خاتون ، جو اب تک 29 ٹن ریت کھا چکی ہے ۔

datetime 26  مارچ‬‮  2016 |

بھارتی گاؤں کجری نور پور سے تعلق رکھنے والی 92 سالہ سدھاما دیوی 80 برس سے روزانہ چار چار پلیٹیں ریت کھا جاتی ہے اور اسے اب تک کسی بھی قسم کا جسمانی عارضہ لاحق نہیں ہوا ۔ ڈاکٹروں نے بھی طبی معائنے کے بعد اسے تندرست قرار دے دیا ہے ۔ سدھاما دیوی کا کہنا ہے کہ اس نے 12 سال کی عمر میں ریت کھانی شروع کی تھی ، جس کا ذائقہ اسے اتنا اچھا لگا کہ وہ روز ریت کھانے لگی ۔ مقامی اخبار نویسوں کے مطابق سدھاما دیوی کو دریا کی باریک ریت اس قدر بھائی کہ 80 سال میں اس نے 29 ٹن ریت کھانے کا عالمی ریکارڈ بنا دیا ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شادی سے پہلے سدھاما دیوی کو کھانے کے لیے ریت اس کے گھر والے فراہم کرتے تھے ، شادی کے بعد ریت کی فراہمی کا ذمہ اس کے شوہر کرشن کمار نے اپنے ذمے لے لیا ، جو آج بھی اپنی بیوی کی اس ضرورت کو پورا کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ۔ وہ روزانہ اپنی 92 سالہ بیوی کو ریت فراہم کرتا ہے ۔

28A925BA00000578-3081635-image-a-84_1431610380271
مقامی لکھاری ستیش کمار کا کہنا ہے کہ سدھاما دیوی کا نام عالمی ریکارڈ کے طور پر ’’ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ ‘‘ میں درج کیا جانا باقی ہے ، جس کے لیے ایک ٹیم جلد بھارت کا دورہ کرنے والی ہے ۔ بھارتی جریدے جاگرن کا کہنا ہے کہ سدھاما دیوی کو ریت اس قدر اچھی لگتی ہے کہ اس نے اس ’’ شوق ‘‘ کو کبھی نہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کجری نور پور سے تعلق رکھنے والے کرشن کمار کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بیوی سدھاما کو شادی کے بعد کبھی اس بات سے منع نہیں کیا کہ وہ ریت کھانا بند کر دے ۔ سدھاما سے شادی کے بعد ان کے سات لڑکے اور تین لڑکیاں پیدا ہوئیں اور سب بچے تندرست پیدا ہوئے ۔ ابتداء میں کرشن نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ وہ ریت کھانا ترک کر دے ، کیونکہ اس وجہ سے اس کے گردے خراب ہوسکتے ہیں یا اس کی صحت کا کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ لیکن سدھاما نے اس بارے میں ڈاکٹروں سے ملاقات کی اور طبی معائنے میں اس بات کا یقین کر لیا کہ اس کا جسم اور معدہ ریت کا باآسانی ہضم کر لیتا ہے اور اس کی صحت پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں ۔

28A9285600000578-3081635-image-a-94_1431610448482
اس کے بعد سدھاما دیوی کے شوہر کرشن کمار نے اس کو اجازت دے دی کہ وہ اپنی پسندیدہ ریت کو پھانکنے کا سلسلہ جاری رکھے ۔ طبی جانچ کے بعد سدھاما دیوی نے اور زیادہ ریت کھانے کا سلسلہ جاری کر دیا ۔ سدھاما کے ساتوں لڑکوں اور لڑکیوں میں سے دو اب اس دنیا میں نہیں ہیں ۔ اس کے بچوں کا کہنا ہے کہ ریت کھانے کا شوق ان کی والدہ کی پسندیدہ عادت ہے ، لیکن ان کی والدہ کی یہ عادت ان میں سے کسی کے اندر بھی نہیں آئی ہے ، وہ ریت کھانے سے گریز کرتے ہیں ۔ کجری نورپور سے تعلق رکھنے والے مقامی کسان شنکر میاہ کا کہنا ہے کہ وہ سدھاما دیوی کو کئی برسوں سے جانتے ہیں ۔ اس کی ریت کھانے کی عادت حیران کن ہے ۔ جب سدھاما دیوی کی شادی کرشن کمار سے ہوئی تھی ، تو شادی کی دعوت میں بھی سدھاما نے فرمائش کی تھی کہ اس کو ’’ منڈپ ‘‘ میں پھیرے لینے کے بعد جو کھانا دیا جائے ، اس میں ایک پلیٹ باریک رتیلی مٹی بھی دی جائے ، جس پر تقریب کے سب شرکا حیران رہ گئے تھے ۔ لیکن دُولہا کے گھر والوں کا معلوم تھا کہ سدھاما ریت کھانے کی عادی ہے ۔ اس لیے تقریب میں سدھاما کے لیے ایک پلیٹ میں ریت بھر کر پوریوں اور حلوے کے ساتھ پیش کی گئی ، جس کو اس نے مزے لے لے کر کھایا ۔

28A925F300000578-3081635-image-a-95_1431610452383
گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ سدھاما دیوی ریت کے ساتھ دیگر کھانے اور پھل وغیرہ ملا کر باآسانی کھاتی ہے ۔ اگرچہ اسے دیکھنے والے افراد سدھاما کو ریت کے ساتھ امرود کی قاشیں اور سنگترے کی پھانکیں نمک مرچ کی طرح لگا لگا کر کھاتے دیکھتے ہیں اور کراہت کا اظہار کرتے ہیں ، لیکن سدھاما کو اس سے کوئی مطلب نہیں ۔ اس کا کہنا ہے کہ 80 سال ہوگئے ہیں مجھے ریت پھانکتے ہوئے ، لیکن ایک دن بھی مجھے ریت سے کراہت نہیں آئی ۔ اپنی سسرال آمد کے ابتدائی ایام کے حوالے سے سدھاما دیوی نے بتایا کہ منڈپ میں کھانے کے وقت ریت کی طلبی سے میرے سسرال اور سسرالی گاؤں میں پہلے ہی شہرت ہوگئی تھی ۔ اس لئے جب میں اپنے میاں کے ساتھ سسرال آئی تو پہلے ہی روز پورا گاؤں میرے آس پاس اکٹھا ہوگیا کہ دیکھو جی دلہن ریت کی رسیا ہے اور ہر کھانے میں ریت کھاتی ہے ۔

28A92AEB00000578-3081635-image-a-92_1431610427344
برطانوی جریدے ڈیلی میل آن لائن کی ایک رپورٹ میں مقامی ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرانی ہے کہ بانوے سالہ خاتون سدھاما اس عمر میں بھی ریت کھاتی ہے اور اسے اس ریت سے کسی قسم کا کوئی جسمانی عارضہ نہیں ، جبکہ اس کی ذہنی صحت بھی حیران کن حد تک بہترین ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…