بھارتی گاؤں کجری نور پور سے تعلق رکھنے والی 92 سالہ سدھاما دیوی 80 برس سے روزانہ چار چار پلیٹیں ریت کھا جاتی ہے اور اسے اب تک کسی بھی قسم کا جسمانی عارضہ لاحق نہیں ہوا ۔ ڈاکٹروں نے بھی طبی معائنے کے بعد اسے تندرست قرار دے دیا ہے ۔ سدھاما دیوی کا کہنا ہے کہ اس نے 12 سال کی عمر میں ریت کھانی شروع کی تھی ، جس کا ذائقہ اسے اتنا اچھا لگا کہ وہ روز ریت کھانے لگی ۔ مقامی اخبار نویسوں کے مطابق سدھاما دیوی کو دریا کی باریک ریت اس قدر بھائی کہ 80 سال میں اس نے 29 ٹن ریت کھانے کا عالمی ریکارڈ بنا دیا ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شادی سے پہلے سدھاما دیوی کو کھانے کے لیے ریت اس کے گھر والے فراہم کرتے تھے ، شادی کے بعد ریت کی فراہمی کا ذمہ اس کے شوہر کرشن کمار نے اپنے ذمے لے لیا ، جو آج بھی اپنی بیوی کی اس ضرورت کو پورا کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ۔ وہ روزانہ اپنی 92 سالہ بیوی کو ریت فراہم کرتا ہے ۔

مقامی لکھاری ستیش کمار کا کہنا ہے کہ سدھاما دیوی کا نام عالمی ریکارڈ کے طور پر ’’ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ ‘‘ میں درج کیا جانا باقی ہے ، جس کے لیے ایک ٹیم جلد بھارت کا دورہ کرنے والی ہے ۔ بھارتی جریدے جاگرن کا کہنا ہے کہ سدھاما دیوی کو ریت اس قدر اچھی لگتی ہے کہ اس نے اس ’’ شوق ‘‘ کو کبھی نہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کجری نور پور سے تعلق رکھنے والے کرشن کمار کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بیوی سدھاما کو شادی کے بعد کبھی اس بات سے منع نہیں کیا کہ وہ ریت کھانا بند کر دے ۔ سدھاما سے شادی کے بعد ان کے سات لڑکے اور تین لڑکیاں پیدا ہوئیں اور سب بچے تندرست پیدا ہوئے ۔ ابتداء میں کرشن نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ وہ ریت کھانا ترک کر دے ، کیونکہ اس وجہ سے اس کے گردے خراب ہوسکتے ہیں یا اس کی صحت کا کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ لیکن سدھاما نے اس بارے میں ڈاکٹروں سے ملاقات کی اور طبی معائنے میں اس بات کا یقین کر لیا کہ اس کا جسم اور معدہ ریت کا باآسانی ہضم کر لیتا ہے اور اس کی صحت پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں ۔

اس کے بعد سدھاما دیوی کے شوہر کرشن کمار نے اس کو اجازت دے دی کہ وہ اپنی پسندیدہ ریت کو پھانکنے کا سلسلہ جاری رکھے ۔ طبی جانچ کے بعد سدھاما دیوی نے اور زیادہ ریت کھانے کا سلسلہ جاری کر دیا ۔ سدھاما کے ساتوں لڑکوں اور لڑکیوں میں سے دو اب اس دنیا میں نہیں ہیں ۔ اس کے بچوں کا کہنا ہے کہ ریت کھانے کا شوق ان کی والدہ کی پسندیدہ عادت ہے ، لیکن ان کی والدہ کی یہ عادت ان میں سے کسی کے اندر بھی نہیں آئی ہے ، وہ ریت کھانے سے گریز کرتے ہیں ۔ کجری نورپور سے تعلق رکھنے والے مقامی کسان شنکر میاہ کا کہنا ہے کہ وہ سدھاما دیوی کو کئی برسوں سے جانتے ہیں ۔ اس کی ریت کھانے کی عادت حیران کن ہے ۔ جب سدھاما دیوی کی شادی کرشن کمار سے ہوئی تھی ، تو شادی کی دعوت میں بھی سدھاما نے فرمائش کی تھی کہ اس کو ’’ منڈپ ‘‘ میں پھیرے لینے کے بعد جو کھانا دیا جائے ، اس میں ایک پلیٹ باریک رتیلی مٹی بھی دی جائے ، جس پر تقریب کے سب شرکا حیران رہ گئے تھے ۔ لیکن دُولہا کے گھر والوں کا معلوم تھا کہ سدھاما ریت کھانے کی عادی ہے ۔ اس لیے تقریب میں سدھاما کے لیے ایک پلیٹ میں ریت بھر کر پوریوں اور حلوے کے ساتھ پیش کی گئی ، جس کو اس نے مزے لے لے کر کھایا ۔

گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ سدھاما دیوی ریت کے ساتھ دیگر کھانے اور پھل وغیرہ ملا کر باآسانی کھاتی ہے ۔ اگرچہ اسے دیکھنے والے افراد سدھاما کو ریت کے ساتھ امرود کی قاشیں اور سنگترے کی پھانکیں نمک مرچ کی طرح لگا لگا کر کھاتے دیکھتے ہیں اور کراہت کا اظہار کرتے ہیں ، لیکن سدھاما کو اس سے کوئی مطلب نہیں ۔ اس کا کہنا ہے کہ 80 سال ہوگئے ہیں مجھے ریت پھانکتے ہوئے ، لیکن ایک دن بھی مجھے ریت سے کراہت نہیں آئی ۔ اپنی سسرال آمد کے ابتدائی ایام کے حوالے سے سدھاما دیوی نے بتایا کہ منڈپ میں کھانے کے وقت ریت کی طلبی سے میرے سسرال اور سسرالی گاؤں میں پہلے ہی شہرت ہوگئی تھی ۔ اس لئے جب میں اپنے میاں کے ساتھ سسرال آئی تو پہلے ہی روز پورا گاؤں میرے آس پاس اکٹھا ہوگیا کہ دیکھو جی دلہن ریت کی رسیا ہے اور ہر کھانے میں ریت کھاتی ہے ۔

برطانوی جریدے ڈیلی میل آن لائن کی ایک رپورٹ میں مقامی ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرانی ہے کہ بانوے سالہ خاتون سدھاما اس عمر میں بھی ریت کھاتی ہے اور اسے اس ریت سے کسی قسم کا کوئی جسمانی عارضہ نہیں ، جبکہ اس کی ذہنی صحت بھی حیران کن حد تک بہترین ہے ۔



















































