بدھ‬‮ ، 21 جنوری‬‮ 2026 

دنیا کی محبوب ترین بلا لوچ نیس مونسٹر

datetime 18  اکتوبر‬‮  2015 |

ملاحوں نے لوچ نیس سے متعلق کہانیاں دوسرے خطوں میں پھیلاناشروع کیں تو مقامی لوگوں نے ان کہانیوں کی تردید نہیں کی لیکن وہ اس پر بات کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ کیونکہ وہ اسے کوئی سمندری بلا ہی سمجھے ہوئے تھے۔ مثلاً سکاٹ لینڈ کے ہائی لینڈز کے علاقے میں رہنے والے ماہی گیر اس مونسٹر کو مچھلی کے شکار کے حوالے سے برا شگون سمجھتے تھے اور جب کبھی مچھلی کے شکار کے دوران وہ اس کی جھلک دیکھ لیتے تو انہیں یقین ہوجاتا کہ ان کے ہاتھ کوئی مچھلی نہیں آئے گی اور اکثر ایسا ہوتا بھی تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ لوچ نیس کے سطح آب پر آنے سے اس علاقے میں موجود مچھلیاں دوسری خطوں میں منتقل ہوجاتی تھیں یا پھر جیسا کہ ماہی گیر سمجھتے تھے کہ یہ مچھلیوں کا دیوتا ہے اور انہیں خبردار کردیتا ہے کہ انہیں پکڑنے کے لیے ماہی گیر جال پھیلائے موجود ہیں۔
لوچ نیس کے بارے میں ملاحوں کی پھیلائی ہوئی کہانیوں پر سنجیدگی سے کبھی غور نہیں کیا گیا۔انہیں محض کہانیاں ہی تصور کیا گیا جو ملاح سفر کی تھکن اتارنے اور اپنے سفر سے متعلق تفصیلات کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کرنے کے لیے ایک دوسرے کو سناتے تھے۔ ایسی بہت سی اور بھی کہانیاں ملاحوں سے منسوب کی جاتی ہیں جن کا دنیا کے ادب میں بہت چرچا ہے۔ ملاحوں اور سکاٹ لینڈ کے ہائی لینڈز کے علاقے کے باسیوں کے علاوہ اس مونسٹر کا نظارہ پہلی بار سکاٹ لینڈ ہی کے ایک جوڑے نے 14اپریل 1933ء میں کیا جس کے بعد اس مونسٹر کے بارے میں دنیا بھر کے میڈیا میں ذکر چل نکلا۔
یہ جوڑا ساحل کے ساتھ ساتھ تعمیر کی گئی سڑک پر اپنی کار میں جا رہا تھا کہ جان میکے کی بیوی ایلما میکے نے لوچ نیس کو دیکھا کہ وہ سطح سمندر پر ابھر رہا ہے۔ اس نے اپنے شوہر کو گاڑی روکنے کو کہا اور دونوں اس مخلوق کو قریب سے دیکھنے کے لیے گاڑی کو پکی سڑک سے اتار کر ریتلی جگہ پر لے آئے اور ساحل کے قریب ترین آگئے۔ لیکن جونہی لوچ نیس نے انہیں دیکھا‘ وہ حسب معمول فوراً ہی پانی میں غوطہ مار گیا۔ جان میکے ساحل کے قریب ہی واقع ایک ہوٹل کا مالک تھا۔ اس نے ایک مقامی اخبار کے رپورٹر کو اس واقعہ سے متعلق بتایا تو رپورٹر نے فوراً ہی اس خبر کو نمایاں انداز میں سبھی مقامی اور قومی سطح کے اخباروں میں شائع کروا دیا۔ اس خبر نے عالمی میڈیا کی توجہ کو اپنی جانب کھینچ لیا۔ اس کے بعد ہی دنیا بھر کے سائنس دانوں کی توجہ بھی اس مظہر کی طرف ہوئی اور انہیں اس بات میں دلچسپی پیدا ہوئی کہ وہ اس مونسٹر کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کریں۔
1933ء میں لوچ نیس کے نظارے سے متعلق شائع ہونے والی خبر کے بعد سے اب تک اس مونسٹر کو دیکھنے کے لیے متعدد سائنسی و دیگر مہمات سمندر میں روانہ ہوچکی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک اسے تین ہزار سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں جن میں عام متجسس لوگوں کے علاوہ دنیا کے بہت سے ماہرین آبی حیات بھی شامل ہیں اور اس مخلوق کے طرز زندگی وغیرہ سے متعلق متعدد تحقیقات ہوچکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…