دنیا کی محبوب ترین بلا لوچ نیس مونسٹر

  اتوار‬‮ 18 اکتوبر‬‮ 2015  |  18:18

ملاحوں نے لوچ نیس سے متعلق کہانیاں دوسرے خطوں میں پھیلاناشروع کیں تو مقامی لوگوں نے ان کہانیوں کی تردید نہیں کی لیکن وہ اس پر بات کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ کیونکہ وہ اسے کوئی سمندری بلا ہی سمجھے ہوئے تھے۔ مثلاً سکاٹ لینڈ کے ہائی لینڈز کے علاقے میں رہنے والے ماہی گیر اس مونسٹر کو مچھلی کے شکار کے حوالے سے برا شگون سمجھتے تھے اور جب کبھی مچھلی کے شکار کے دوران وہ اس کی جھلک دیکھ لیتے تو انہیں یقین ہوجاتا کہ ان کے ہاتھ کوئی مچھلی نہیں آئے گی اور اکثر ایسا ہوتا بھی تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ لوچ نیس کے سطح آب پر آنے سے اس علاقے میں موجود مچھلیاں دوسری خطوں میں منتقل ہوجاتی تھیں یا پھر جیسا کہ ماہی گیر سمجھتے تھے کہ یہ مچھلیوں کا دیوتا ہے اور انہیں خبردار کردیتا ہے کہ انہیں پکڑنے کے لیے ماہی گیر جال پھیلائے موجود ہیں۔
لوچ نیس کے بارے میں ملاحوں کی پھیلائی ہوئی کہانیوں پر سنجیدگی سے کبھی غور نہیں کیا گیا۔انہیں محض کہانیاں ہی تصور کیا گیا جو ملاح سفر کی تھکن اتارنے اور اپنے سفر سے متعلق تفصیلات کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کرنے کے لیے ایک دوسرے کو سناتے تھے۔ ایسی بہت سی اور بھی کہانیاں ملاحوں سے منسوب کی جاتی ہیں جن کا دنیا کے ادب میں بہت چرچا ہے۔ ملاحوں اور سکاٹ لینڈ کے ہائی لینڈز کے علاقے کے باسیوں کے علاوہ اس مونسٹر کا نظارہ پہلی بار سکاٹ لینڈ ہی کے ایک جوڑے نے 14اپریل 1933ء میں کیا جس کے بعد اس مونسٹر کے بارے میں دنیا بھر کے میڈیا میں ذکر چل نکلا۔
یہ جوڑا ساحل کے ساتھ ساتھ تعمیر کی گئی سڑک پر اپنی کار میں جا رہا تھا کہ جان میکے کی بیوی ایلما میکے نے لوچ نیس کو دیکھا کہ وہ سطح سمندر پر ابھر رہا ہے۔ اس نے اپنے شوہر کو گاڑی روکنے کو کہا اور دونوں اس مخلوق کو قریب سے دیکھنے کے لیے گاڑی کو پکی سڑک سے اتار کر ریتلی جگہ پر لے آئے اور ساحل کے قریب ترین آگئے۔ لیکن جونہی لوچ نیس نے انہیں دیکھا‘ وہ حسب معمول فوراً ہی پانی میں غوطہ مار گیا۔ جان میکے ساحل کے قریب ہی واقع ایک ہوٹل کا مالک تھا۔ اس نے ایک مقامی اخبار کے رپورٹر کو اس واقعہ سے متعلق بتایا تو رپورٹر نے فوراً ہی اس خبر کو نمایاں انداز میں سبھی مقامی اور قومی سطح کے اخباروں میں شائع کروا دیا۔ اس خبر نے عالمی میڈیا کی توجہ کو اپنی جانب کھینچ لیا۔ اس کے بعد ہی دنیا بھر کے سائنس دانوں کی توجہ بھی اس مظہر کی طرف ہوئی اور انہیں اس بات میں دلچسپی پیدا ہوئی کہ وہ اس مونسٹر کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کریں۔
1933ء میں لوچ نیس کے نظارے سے متعلق شائع ہونے والی خبر کے بعد سے اب تک اس مونسٹر کو دیکھنے کے لیے متعدد سائنسی و دیگر مہمات سمندر میں روانہ ہوچکی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک اسے تین ہزار سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں جن میں عام متجسس لوگوں کے علاوہ دنیا کے بہت سے ماہرین آبی حیات بھی شامل ہیں اور اس مخلوق کے طرز زندگی وغیرہ سے متعلق متعدد تحقیقات ہوچکی ہیں۔



زیرو پوائنٹ

پاکستان کا المیہ کیا ہے؟

میں نے ہرمینس (Hermanus) کا ذکر کیا تھا‘ یہ شہر کیپ ٹائون سے 115 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر کے کنارے آباد ہے‘ اسے ڈچ کسان ہرمینس پیٹرز نے 1805ء میں آباد کیا تھا‘آج بھی اس کی 80فیصد آبادی گوروں پر مشتمل ہے‘ ہرمینس وہیل مچھلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ اکتوبر میں روس میں سردیاں شروع ....مزید پڑھئے‎

میں نے ہرمینس (Hermanus) کا ذکر کیا تھا‘ یہ شہر کیپ ٹائون سے 115 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر کے کنارے آباد ہے‘ اسے ڈچ کسان ہرمینس پیٹرز نے 1805ء میں آباد کیا تھا‘آج بھی اس کی 80فیصد آبادی گوروں پر مشتمل ہے‘ ہرمینس وہیل مچھلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ اکتوبر میں روس میں سردیاں شروع ....مزید پڑھئے‎