دنیا کی محبوب ترین بلا لوچ نیس مونسٹر

  اتوار‬‮ 18 اکتوبر‬‮ 2015  |  18:18

لوچ نیس کی پیدائش کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ دس ہزارسال پہلے جب آخری برفانی دور اپنے اختتام کو پہنچا تو سکاٹ لینڈ کے ساحلوں پر ہائی لینڈز کے قریب ایک گلیشئر اپنی جگہ سے سرکا اور اس کے سرکنے کی وجہ سے وہاں پانی میں ایک چوبیس میل لمبی دراڑ پیدا ہوئی اور یوں اس گلیشئر کے نیچے اتنی جگہ پیدا ہوگئی کہ وہاں لوچ نیس جیسے مونسٹر کے رہنے کی صورت پیدا ہو۔ تاہم تاریخ میں اس مونسٹر کو دیکھنے سے متعلق پہلی روایت 565ء میں سامنے آئی۔یہ واقعہ تب رونما ہوا جب سینٹ

پچاس ہزار ڈالرز میں فروخت ہوئیں‘‘

Lochneska_poboba_museumofnessie جی ہاں اس کا نام لوچ نیس مونسٹر (Loch Ness)ہے اور یہ سکاٹ لینڈ کے ساحلی علاقے ہائی لینڈز میں موجود برفانی تودوں کے درمیان رہتا ہے۔

لیکن یہ ایسی بلا نہیں ہے جس سے ملاح اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے خوف محسو س کریں بلکہ وہ اس کا ذکر نہایت احترام سے کرتے ہیں اور وہ اس سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے خیال میں یہ دنیا کی پرامن ترین اور شرمیلی بلا ہے جو پانی میں کسی کو نقصان پہنچائے بغیر رہتی ہے اور صرف کبھی کبھار ہی سطح آب پر آتی اور باہر کی دنیا کو اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔ یہ بلا صرف انسانوں ہی سے نہیں بلکہ سمندری مخلوقات سے بھی الگ تھلگ رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔ جن لوگوں نے لوچ نیس مونسٹر کو دیکھا ہے‘ وہ بتاتے ہیں کہ اس کی شکل ایک قوی الجثہ سانپ کی سی ہے اور اس کی لمبائی پچاس فٹ سے بھی زیادہ ہے۔ اس کا جسم تیس فٹ سے زیادہ چوڑا ہے اور جب یہ پانی میں ظاہر ہوتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پانی میں سے کوئی چٹان اپنا سر ابھار رہی ہے۔ جبکہ اس کے جسم کی نسبت اس کے ہاتھ بہت چھوٹے چھوٹے اور نازک ہیں۔ اس کی گردن چار سے سات فٹ لمبی ہے اور ہاتھی کی سونڈ جیسی مضبوط معلوم ہوتی ہے۔ اس کے جسم پر چھوٹے چھوٹے پر بھی ہیں جن میں سے دو تو اس کے بازوؤں کے قریب واقع ہیں جبکہ ایک اس کے پشت پر ہے اور باقی دونوں سے نسبتاً بڑا ہے۔ لیکن یہ پر اسے اڑنے میں مدد دینے کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ اونٹ کے کوہان کی صورت میں ہیں۔ اس کو دیکھنے والوں نے اس کا سراپا کھینچنے میں اپنے تخیل سے بھی کام لیاہوگا اور اس کے حوالے سے کئی طرح کی مبالغہ آمیز بیانات بھی ملتے ہیں لیکن ان بیانات میں ایک بات پھر بھی مشترک ہے کہ اس کی جلد گھونگھے جیسی لہر دار ہے اور اس کی رنگت چاندی جیسی چمکتی ہوئی سیاہ ہے۔

BigNessieSmall لوچ نیس مونسٹر کے بارے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں جن میں سے سب سے زیادہ اس کی عمر کے بارے میں ہیں۔ اسے ہزاروں سال پرانا بتایا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ایک سے زیادہ ہوں اور کبھی ایک ساتھ سطح آب پر نمودار نہیں ہوئے۔ کیونکہ عام طور پر یہ اکیلا ہی پانی کی سطح پر نظر آیا ہے جبکہ یہ پانی کی سطح پر اپنی معمولی سی جھلک دکھا کر اور یہ جاننے کے بعد کہ وہاں کوئی اور بھی موجود ہے‘ فوراً ہی پانی میں ڈبکی مارلیتا ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تنہائی پسند ہے۔

لوچ نیس کی پیدائش کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ دس ہزارسال پہلے جب آخری برفانی دور اپنے اختتام کو پہنچا تو سکاٹ لینڈ کے ساحلوں پر ہائی لینڈز کے قریب ایک گلیشئر اپنی جگہ سے سرکا اور اس کے سرکنے کی وجہ سے وہاں پانی میں ایک چوبیس میل لمبی دراڑ پیدا ہوئی اور یوں اس گلیشئر کے نیچے اتنی جگہ پیدا ہوگئی کہ وہاں لوچ نیس جیسے مونسٹر کے رہنے کی صورت پیدا ہو۔ تاہم تاریخ میں اس مونسٹر کو دیکھنے سے متعلق پہلی روایت 565ء میں سامنے آئی۔یہ واقعہ تب رونما ہوا جب سینٹ کولمبیا نامی ایک بحری جہازایورنیس کے علاقوں کی طرف سفر کررہا تھا کہ اس کی ایک کشتی رسہ ٹوٹ جانے کی وجہ سے پانی میں گر گئی اور سمندر کی لہروں پر بہتی ہوئی دور نکل گئی۔ کشتی کے تعاقب میں جہاز کو اپنے طے شدہ روٹ سے ہٹ کر سفر کرنا پڑا اور اسی طور یہ اس سمت میں جا نکلا جہاں چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں نے ایک پیچیدہ درّہ بنا دیا تھا اور جہاں عام طور پر جہاز نہیں جاتے تھے۔ وہیں سینٹ کولمبیا نامی جہاز کی مڈبھیڑ لوچ نیس سے ہوئی۔ اس جہاز میں عیسائی راہبوں کی ایک ٹولی سفر کر رہی تھی جس کا مقصد ایورنیس میں جا کر عیسائیت کی تبلیغ کرنا تھی۔ جونہی یہ جہاز ایک پہاڑی گھاٹی کے عقب سے چکر کاٹ کر دوسری طرف نکلا‘ اس میں سوار ملاحوں اور راہبوں نے ایک بڑی چٹان جیسی شے کو پانی میں سے ابھرتے ہوئے دیکھااور انہوں نے اس عجیب الخلقت شے کو دیکھ کر شور مچانا شروع کردیا۔ ان کے شور کی آواز سن کر لوچ نیس ان کی جانب متوجہ ہوا اور فوراً ہی پانی میں ڈبکی مار کر غائب ہوگیا۔

Loch-Ness-Monster جہاز کے مسافر لوچ نیس سے متعلق کہانی لے کر جگہ جگہ پھرے ۔تاہم یہ ملاح ہی نہیں تھے جنہوں نے لوچ نیس کی حقیقت سے آگاہی حاصل کی اور دنیا کو اس کے بارے میں بتایا۔ سکاٹ لینڈ کے ساحلی علاقوں میں رہنے والے ماہی گیر اور دیگر افرادایک مدت سے اس مونسٹر کے وجود سے واقف تھے لیکن وہ اسے کوئی محیرالعقول شے سمجھتے تھے اور اس کے بارے میں کھل کر بات کرنے سے احتراز کرتے تھے۔جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اسے ایک منحوس شگون سمجھتے تھے۔

ملاحوں نے لوچ نیس سے متعلق کہانیاں دوسرے خطوں میں پھیلاناشروع کیں تو مقامی لوگوں نے ان کہانیوں کی تردید نہیں کی لیکن وہ اس پر بات کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ کیونکہ وہ اسے کوئی سمندری بلا ہی سمجھے ہوئے تھے۔ مثلاً سکاٹ لینڈ کے ہائی لینڈز کے علاقے میں رہنے والے ماہی گیر اس مونسٹر کو مچھلی کے شکار کے حوالے سے برا شگون سمجھتے تھے اور جب کبھی مچھلی کے شکار کے دوران وہ اس کی جھلک دیکھ لیتے تو انہیں یقین ہوجاتا کہ ان کے ہاتھ کوئی مچھلی نہیں آئے گی اور اکثر ایسا ہوتا بھی تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ لوچ نیس کے سطح آب پر آنے سے اس علاقے میں موجود مچھلیاں دوسری خطوں میں منتقل ہوجاتی تھیں یا پھر جیسا کہ ماہی گیر سمجھتے تھے کہ یہ مچھلیوں کا دیوتا ہے اور انہیں خبردار کردیتا ہے کہ انہیں پکڑنے کے لیے ماہی گیر جال پھیلائے موجود ہیں۔ لوچ نیس کے بارے میں ملاحوں کی پھیلائی ہوئی کہانیوں پر سنجیدگی سے کبھی غور نہیں کیا گیا۔انہیں محض کہانیاں ہی تصور کیا گیا جو ملاح سفر کی تھکن اتارنے اور اپنے سفر سے متعلق تفصیلات کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کرنے کے لیے ایک دوسرے کو سناتے تھے۔ ایسی بہت سی اور بھی کہانیاں ملاحوں سے منسوب کی جاتی ہیں جن کا دنیا کے ادب میں بہت چرچا ہے۔ ملاحوں اور سکاٹ لینڈ کے ہائی لینڈز کے علاقے کے باسیوں کے علاوہ اس مونسٹر کا نظارہ پہلی بار سکاٹ لینڈ ہی کے ایک جوڑے نے 14اپریل 1933ء میں کیا جس کے بعد اس مونسٹر کے بارے میں دنیا بھر کے میڈیا میں ذکر چل نکلا۔ یہ جوڑا ساحل کے ساتھ ساتھ تعمیر کی گئی سڑک پر اپنی کار میں جا رہا تھا کہ جان میکے کی بیوی ایلما میکے نے لوچ نیس کو دیکھا کہ وہ سطح سمندر پر ابھر رہا ہے۔ اس نے اپنے شوہر کو گاڑی روکنے کو کہا اور دونوں اس مخلوق کو قریب سے دیکھنے کے لیے گاڑی کو پکی سڑک سے اتار کر ریتلی جگہ پر لے آئے اور ساحل کے قریب ترین آگئے۔ لیکن جونہی لوچ نیس نے انہیں دیکھا‘ وہ حسب معمول فوراً ہی پانی میں غوطہ مار گیا۔ جان میکے ساحل کے قریب ہی واقع ایک ہوٹل کا مالک تھا۔ اس نے ایک مقامی اخبار کے رپورٹر کو اس واقعہ سے متعلق بتایا تو رپورٹر نے فوراً ہی اس خبر کو نمایاں انداز میں سبھی مقامی اور قومی سطح کے اخباروں میں شائع کروا دیا۔ اس خبر نے عالمی میڈیا کی توجہ کو اپنی جانب کھینچ لیا۔ اس کے بعد ہی دنیا بھر کے سائنس دانوں کی توجہ بھی اس مظہر کی طرف ہوئی اور انہیں اس بات میں دلچسپی پیدا ہوئی کہ وہ اس مونسٹر کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کریں۔ 1933ء میں لوچ نیس کے نظارے سے متعلق شائع ہونے والی خبر کے بعد سے اب تک اس مونسٹر کو دیکھنے کے لیے متعدد سائنسی و دیگر مہمات سمندر میں روانہ ہوچکی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک اسے تین ہزار سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں جن میں عام متجسس لوگوں کے علاوہ دنیا کے بہت سے ماہرین آبی حیات بھی شامل ہیں اور اس مخلوق کے طرز زندگی وغیرہ سے متعلق متعدد تحقیقات ہوچکی ہیں۔

لیکن اس مخلوق کے حوالے سے توہمات اب بھی موجود تھے کیونکہ اس کے حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا جاسکا تھا اور اس کا تذکرہ اب بھی کہانیوں کی ہی صورت میں کیا جاتا تھا۔ لیکن دسمبر 1933ء میں ایک واقعہ ہوا جس نے سائنس کے سنجیدہ طالب علموں اور ماہرین کو اس کی کھوج لگانے پر مائل کیا۔ ہوا یوں کہ برطانیہ کی ’Zoological Society‘ کے ایک سائنس دان مائیکل ویدرل کو لوچ نیس کے پیروں کے نشانات ملے۔ اس سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ مخلوق پانی کے ساتھ ساتھ خشکی پر بھی رہ سکتی ہے اور لوگوں سے چھپ کر ساحل پر چہل قدمی کرتی ہے۔ یہ نشانات ایسی مخلوق کے تھے جس کے چار پیر تھے۔ ہر پیر کا حجم آٹھ انچ تھا۔ جبکہ ان نشانات سے ماہرین نے اندازہ لگایا کہ یہ مخلوق اپنی جسامت میں بیس فٹ لمبی ہوگی۔ یہ مخلوق لوچ نیس ہی تھی جیسا کہ بعد میں اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں ثابت ہوا۔ مائیکل ویدرل نے ان نشانات کے پلاسٹر آف پیرس کی مدد سے سانچے تیار کئے اور انہیں لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم کو بھیج دیا جہاں ان پر مزید تحقیقات شروع ہوئیں۔ تاہم لوچ نیس کی اسطور کے حوالے سے سب سے ٹھوس ثبوت نیدر لینڈ کے ایک شخص ناڈیم کیمر نے فراہم کئے۔ وہ ایک مقامی اخبارکے لیے فوٹوگرافر کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس نے بھی ایک ایسی ہی مہم میں حصہ لیا تھا جو لوچ نیس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے نکلی تھی۔ وہ مہم کے دوسرے کئی لوگوں کے ساتھ ہائی لینڈز کے اس مقام کے گرداگرد گھوم رہا تھا جہاں لوچ نیس کے ظاہر ہونے سے متعلق کہانیاں مشہور ہوئی تھیں تو اچانک لوگوں نے پہاڑ کے عقب میں ایک چٹان سی ابھرتی ہوئی دیکھی اور انہیں اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ اب جو کچھ بھی ظاہر ہوگا‘ وہ لوچ نیس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ ناڈیم کیمر نے فوراً ہی اپنی طاقتور لینز والے کیمرے سے اس منظر کو کیمرے میں محفوظ کرنا شروع کیا۔ جہاز اگرچہ پہاڑ سے کافی دور تھا اور اس کے لوچ نیس کے قریب پہنچنے تک مونسٹر پھر سے پانی میں غائب ہو چکا تھا لیکن اس دوران ناڈیم کیمر ایسا کام کرچکا تھا جس نے اسے فوری طور پر عالمی شہرت عطا کرنی تھی اور یہ کام لوچ نیس کی اولین فوٹو گرافس اتارنے کا تھا۔ یہ واقعہ جون 1935ء میں ہوا۔ آج بھی سائنس دانوں کے پاس لوچ نیس کے حوالے سے سب سے ٹھوس اولین ثبوت یہ فوٹوگرافس ہی ہیں جنہیں بنیاد بنا کر وہ اپنے تحقیقات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

1940ء میں امریکہ کی سرکس کی دنیا میں بے تاج بادشاہ کہلانے والے برٹریم نے اعلان کیا کہ جو شخص لوچ نیس کو زندہ حالت میں اس تک لائے گا‘ وہ اسے بیس ہزار ڈالر انعام دے گا۔ اس اعلان نے جادوئی اثر کیا اور اس کے بعد سائنسی اداروں سے لے کر عام شکاریوں تک ہر شخص کو یہ خواہش ہوئی کہ وہ اس مخلوق کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں اور کسی طرح اسے زندہ حالت میں پکڑیں تاکہ انعام پا سکیں یا لیبارٹری میں لے جا کر اس پر مزید تحقیقات کریں۔ ان مہمات نے لوچ نیس کے لیے ایک خطرے کی صورت پید ا کی اور یہ سوال عوامی حلقوں سے لے کر سیاسی ایوانوں میں زیر بحث آنے لگا کہ کیا اس سے لوچ نیس جیسی نایاب مخلوق کی جان کو خطرہ لاحق نہ ہوجائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سکاٹ لینڈ کی مجلس دستور ساز میں طویل بحث کے بعد یہ قانون منظور ہو گیا کہ اس مخلوق کو پکڑنا یا اسے مارنا قانوناً جرم ہے۔ یہ قانون آج بھی موجود اور نافذالعمل ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس مخلوق کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی مہمات میں تو کمی نہ ہوئی لیکن اس کو پکڑنے یا اسے مارنے کی کوششیں ختم ہوگئیں۔ لوچ نیس کے اسطور سے متعلق حقائق منظر عام پر لانے کے لیے پہلی باقاعدہ سائنسی مہم کا آغاز 1962ء میں ہوا۔ اس مہم کی سربراہی فطرتی مظاہر کے ماہر پیٹر سکاٹ نے کی۔ اس نے اپنے ساتھ تین سائنس دانوں کو اس مہم میں لیا اور ہائی لینڈز کے قریب اس مقام پر جہاں لوچ نیس کی موجودگی کے آثار ملے تھے‘ جہاز کو لنگر انداز کرلیا۔ مختلف وقفوں سے یہ مہم دس سال تک جاری رہی اور چاروں سائنس دان نہایت دل جمعی سے کام کرتے رہے۔ ان کے پاس بڑے اور طاقتور لینزوں والے کیمرے موجود تھے جن کو انہوں نے اپنے جہاز میں مختلف جگہوں پر نصب کیا تھا تاکہ جونہی لوچ نیس کہیں دکھائی دے تو اس کی تصویریں کھینچی جا سکیں۔ اس مہم کے نتیجے میں لوچ نیس کی ڈیڑھ سو سے زائد تصویریں کھینچی گئیں جو اس وقت لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں محفوظ ہیں۔ لوچ نیس کی تصویروں کے حوالے سے سب سے زیادہ شہرت امریکہ ہی کے ایک فوٹوگرافر فرینک سیرلے کو حاصل ہوئی۔ وہ اپنے شعبے میں ایک جنونی ماہر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اس نے اٹھارہ ماہ ہائی لینڈز میں اس مقام کے گردا گرد گزارے جہاں لوچ نیس کی موجودگی کے آثار ملے تھے۔ اس دوران میں اس نے لوچ نیس کی ایک سو بتیس تصویریں اتاریں جو بعدازاں دو لاکھ پچاس ہزار ڈالر کی مالیت میں فروخت ہوئیں۔ تاہم اس کی تصویروں کے حوالے سے خاص بات یہ تھی کہ اس نے صرف ایک لوچ نیس ہی کی نہیں بلکہ اس کی پوری برادری کی تصویریں اتاریں۔ اس کی تصویروں کے مطابق یہ تعداد میں بیس کے قریب ہیں اور اس سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس مقام پر سمندر کی گہرائیوں میں ان کی پوری کالونی موجود ہے جو اس طرح کے سینکڑوں لوچ نیس پر مشتمل ہوسکتی ہے۔ ان تصویروں نے سائنس کی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا اور یہ حقیقت بالکل واضح ہو کر سامنے آئی کہ لوچ نیس کی اسطورہ میں غلط بیانی نہیں ہے بلکہ یہ زندہ حقیقت ہے جس کی تحقیق سے سائنس زیر آب موجود زندگی کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے قابل ہوسکتی ہے۔گو آج تک سائنس دان اس مخلوق کے رہن سہن اور اس کے آغاز و ارتقاء کے بارے میں زیادہ تفصیلات حاصل نہیں کرسکے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اگر وہ اس بارے میں کچھ مزید جاننے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کا نتیجہ سائنس میں حیات سے متعلق جانکاری کے ایک نئے دور کے آغاز کی صورت میں ہوگا۔


زیرو پوائنٹ

الیکشن کمیشن میں کیا ہو رہا ہے؟

میں اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ایک فقرے میں تشریح کروں تو یہ کہہ دینا کافی ہو گا ’’حکومت غلط آدمی سے ٹکرا گئی ہے‘ اس لڑائی میں صرف ایک فریق کو نقصان ہو گا اور وہ ہو گی حکومت ‘‘۔سکندر سلطان راجہ بھیرہ کے قریب چھوٹے سے گائوں چھانٹ میں پیدا ہوئے‘ گائوں میں بجلی تھی‘ ....مزید پڑھئے‎

میں اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ایک فقرے میں تشریح کروں تو یہ کہہ دینا کافی ہو گا ’’حکومت غلط آدمی سے ٹکرا گئی ہے‘ اس لڑائی میں صرف ایک فریق کو نقصان ہو گا اور وہ ہو گی حکومت ‘‘۔سکندر سلطان راجہ بھیرہ کے قریب چھوٹے سے گائوں چھانٹ میں پیدا ہوئے‘ گائوں میں بجلی تھی‘ ....مزید پڑھئے‎