جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کڈنی ویلی؛ جہاں ایک بھی بالغ فرد ایسا نہیں جس کے دونوں گردے موجود ہوں

datetime 9  ستمبر‬‮  2015 |

خونیں رشتوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسان کچھ بھی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ یہ مجبوری بعض لوگوں کو جرائم کی راہ پر لے جاتی ہے اور کچھ لوگ اپنے ہی ٹکڑے بیچ کر اس سے نجات حاصل کرتے ہیں۔نیپال کا گاؤں ہوکسے( HOKSE )غربت کے شکنجے میں جکڑے ایسے ہی لوگوں کا گاؤں ہے جو پیٹ کی آگ بجھانے اور اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے گردے فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ گردے بیچنے کا عمل یہاں اتنا عام ہے کہ یہ گاؤں ہی ’’کڈنی ویلی‘‘ (گردوں کی وادی) کے نام سے مشہور ہوگیا ہے، گاؤں میں ایک بھی بالغ فرد ایسا نہیں جس کے دونوں گردے موجود ہوں۔ضرورت مند مال دار لوگوں کو گُردے فروخت کرنے والے مڈل مین یا دلال باقاعدگی سے ہوکسے اور آس پاس کے علاقے کا دورہ کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کو غربت سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنا گردہ فروخت کرنے پر رضامند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر انھیں ناکامی کا سامنا نہیں ہوتا کیوں کہ گردے بیچنے کی روایت یہاں عام ہوچکی ہے اور لوگ اس عمل کو معقول رقم کے حصول کا آسان ذریعہ بھی سمجھنے لگے ہیں۔کچھ لوگ جو پہلے پہل گردہ بیچنے میں تامل کرتے ہیں۔ انھیں دلال اپنی چکنی چپڑی باتوں سے بالآخر راضی کرلیتے ہیں۔ جو شخص گردہ نکلوانے پر راضی ہوجاتا ہے اسے دلال اپنے ساتھ جنوبی بھارت لے جاتے ہیں جہاں اسپتال میں ان کا آپریشن ہوتا ہے۔ گردہ نکال لیا جاتا ہے اور اسے ادائیگی کردی جاتی ہے۔ عام طور پر یہ رقم دو لاکھ نیپالی روپے (2000 امریکی ڈالر) ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…