جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

پیار کی باتیں مکڑا بھی کرتا ہے

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

مکڑوں کی اکثریت تھرتھراہٹ پیدا کرنے اور اسے محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔سائنسدانوں نے یہ راز افشا کیا ہے کہ مکڑا مکڑی کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سریلی آوازوں کا سہارا لیتا ہے۔امریکہ کی یونیورسٹی آف سِنسناٹی سے منسلک ماہرین الیگزینڈر سویگر اور پروفیسر جارج یِٹز نے یہ انکشاف وولف سپائیڈر قسم کے مکڑوں پر تجربات کے بعد کیا جس میں انھوں نے ان مکڑوں کی آوازوں کو ریکارڈ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مکڑا بلی کی طرح خرخر کی آواز نکال کر دراصل مکڑی کو محبت کا پیغام دے رہا ہوتا ہے۔ریکارڈ شدہ آوازوں کو جب ماہرین نے مکڑئیوں کو سنایا تو وہ آواز کی جانب متوجہ ہوگئیں۔ ماہرین کے مطابق مکڑا مخصوص انداّ سے پتوں پر تھرتھراہٹ یا ارتعاش پیدا کرتا جس سے نکلنے والی آواز پتوں کے راستے مکڑی تک پہنچتی ہے۔الیگزینڈر سویگر اور پروفیسر جارج یِٹز نے اپنی تحقیق کے نتائج امریکہ کی ’اکوسٹیکل سوسائٹی‘ نامی تنظیم کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جو بہرے پن کے بہتر علاج کے لیے کام کرتی ہے۔دونوں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق یہ جاننے میں مددگار ہو سکتی ہے کہ آواز کے ذریعے پیغام رسانی کی ابتدائی شکل کیا تھی۔ٹیم نے جب شمالی امریکہ میں پائے جانے والے مکڑوں کی ایک قسم کا مطالعہ شروع کیا تو انھوں نے دیکھا کہ اس موضوع پر جو چند مضمون شائع ہو چکے تھے ان میں اس بات کا ذکر تھا کہ امریکہ کے جنگلات میں مکڑے مل کر ایسی آواز پیدا کرتے ہیں جسے’مکڑوں کا گیت‘ کہا جا سکتا ہے۔مکڑوں کی اکثریت تھرتھراہٹ پیدا کرنے اور اسے محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ پیغام رسانی وہ اپنی ٹانگوں کی ذیعے کرتے ہیں۔ اپنے اردگرد دوسرے کیڑوں مکوڑوں کی تھرتھراہٹ بھی وہ اپنی ٹانگوں سے ’سنتے‘ ہیں اور پھر انھیں شکار کرتے ہیں۔ مسٹر سویگر کا کہنا تھا کہ ’میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ آیا شمالی امریکہ میں پائے جانے والے وولف مکڑے بھی ابلاغ کے لیے آواز کا استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔‘مکڑوں میں گفتگو کے لیے ہوا کے دوش پر پہنچنے والی آواز کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ تھراتھراہٹ بھی ضروری ہے۔یہ معلوم کرنے کے لیے مسٹر سویگر اور ان کی ٹیم نے مکڑوں کی آوازیں ریکارڈ کرنے کے لیے ایک چھوٹا سا سٹوڈیو قائم کیا جس میں مکڑوں کو مختلف قسم کی چیزوں پر چھوڑا گیا اور ان سے نکلنے والی آوازوں کو ریکارڈ کیا گیا۔جب سائنسدانوں نے مکڑئیوں سے نکلنے والی مخصوص بو سٹوڈیو میں چھوڑی تو اس کے جواب میں مکڑوں نے بلی کی طرح خر خر کی آوازیں نکالنا شروع کر دیں۔ مکڑے یہ آواز اپنا کنگھی جیسا عضو زمین یا پتوں وغیرہ پرگھسیٹ کر پیدا کرتے ہیں۔

12

بعد میں ٹیم نے یہ ریکارڈ شدہ آوازیں مکڑئیوں کو سنائیں، ینعی مکڑئیوں تک یہ آوازیں تھراتھراہٹ کی بجائے ہوا کے ذریعے پہنچائی گئیں۔
ماہرین نے دیکھا کہ مکڑیﺅں نے ان آوازوں پر کوئی توجہ نہ دی۔ اس سے ثابت ہوا کہ مکڑوں میں ابلاغ کے لیے ضروری ہے کہ آواز پیدا کرنے والا اور اسے سننے والا، دونوں کسی ایسی سطح پر کھڑے ہوں جہاں پہلا تھرتھراہٹ پیدا کر سکے اور دوسرا اسے محسوس کر سکے۔
مسٹر سویگر کے مطابق ’ہم نے دیکھا کہ مکڑوں میں گفتگو یا ابلاغ کے لیے صرف ہوا کے دوش پر پہنچنے والی آواز کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ تھراتھراہٹ بھی ضروری ہے۔ مکڑے پتھر، لکڑی یا مٹی پر تھراتھراہٹ پیدا نہیں کر سکتے، لیکن اگر آپ مکڑے کو پتے، کاغذ اور تنے ہوئے کپڑے پر چھوڑیں تو وہ نہ صرف آواز بلکہ تھراتھراہٹ بھی پیدا کرتے ہیں۔پروفیسر یِٹز کے مطابق ’مکڑی اس تھرتھراہٹ اور ہوا کے دوش پر آنے والی آواز دونوں کو سنتی ہے‘ اور یوں مکڑے کا پیغام محبت مکڑی تک پہنچ جاتا ہے۔اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر یِٹز کا کہنا تھا کہ ’مکڑے اور مکڑی کی ٹانگوں میں مخصوص اعضا (سینسری آرگنز) پائے جاتے ہیں جنھیں ’سینسیلیا‘ کہا جاتا ہے۔ آپ سمجھ لیں یہ مکڑی کے گھٹنے ہوتے ہیں، اور مکڑے ان گھٹنوں کی مدد سے ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔‘اس تحقیق کے بعد ماہرین کو امید ہے کہ وہ یہ راز معلوم کر لیں گے کہ آیا مکڑے نے گانا بجانا جنگل میں خشک پتوں پر پیدا ہونے والی آوازوں سے سیکھا اور اگر یہ مفروضہ ثابت ہو جاتا ہے تو ہمیں یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ کائنات میں آواز کے ذریعے پیغام رسانی کی ابتدا اور اس کا ارتقاع کیسے ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…