امریکہ میں کالج کی اس طالبہ کی خبر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں شہ سرخیوں میں ہے جس نے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جیب بْش کو داعش کے حوالے سے آڑھے ہاتھوں لیا۔یونیورسٹی آف نویڈا کی انیس سالہ طالبہ ایوی زیڈرک کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ عراق میں امریکی مداخلت کا شاخسانہ ہے اور صدر اوباما کو اس کا ذمہ دار ٹھرانا ایسا ہی جیسے ’کوئی اپنی گاڑی کا ایکسیڈنٹ کر دے اور خود ذمہ داری لینے کی بجائے مسافروں کو برا بھلا کہنا شروع کر دے۔ایوی زیڈرک نے جیب بش کو کہا کہ ’دولتِ اسلامیہ آپ کے بھائی صاحب نے بنائی تھی۔
طالبہ اور سابق صدر جارج بش کے چھوٹے بھائی جیب بْش کے درمیان یہ تکرار ریاست نویڈا کے شہر رینو کے ٹاؤن ہال میں ہوئی جہاں وہ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے مہم پر آئے تھے۔صحافیوں میں گھرے ہوئے جیب بْش سے ایوی زیڈرک نے پوچھا کہ وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں داعش اس لیے بنی کہ صدر اوباما نے وہاں سے امریکی فوجوں کو واپس بلانا شروع کر دیا۔آپ کہتے ہیں کہ دولت، اسلامیہ اس لیے بنی کہ ہم وہاں سے فوجیں واپس بلا رہے ہیں۔



















































