جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

سورج کی روشنی موت کا پیغام لوگ دھوپ سے پگھلنے لگے

datetime 18  مئی‬‮  2015 |

سورج کی روشنی سے ہمیں حرارت اور توانائی ملتی ہے ، لیکن برازیل کے گاؤں کے رہنے والوں کے لیے زندگی دینے والی یہی روشنی موت کا پیغام ثابت ہورہی ہے۔ سورج کی روشنی کے باعث ’’اراراس‘‘شہر کے ایک نواحی گاؤں کے لوگوں کا جسم ’’پگھلنے ‘‘ لگ جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے اخبار ’’البیان کی رپورٹ کے مطابق ، لاطینی امریکہ کے ملک برازیل میں 12 جون سے شروع ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کی خوشیاں منائی جارہی ہیں ،

وہیں ایک گاؤں میں پْرسرار بیماری سے لوگوں کے اجسام پگھلنے لگے ہیں۔
b7برازیل کی ریاست ساؤ پولو کے شہر ’’اراراس‘‘کے ایک نواحی گاؤں میں جلد کی حساسیت کی بیماری انتہائی شدت اختیار کر چکی ہے۔ سورج کی روشنی پڑتے ہی لوگوں کی جلد چربی یا گھی کی طرح ’’پگھلنا‘‘ شروع ہوجاتی ہے۔ جسم کے دیگر اعضاء کے مقابلے میں چہرے کی جلد بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے اور دھوپ میں کام کرنے والے افراد کے چہرے کا سارا گوشت ’’پگھل‘‘ کر ختم ہوجاتا ہے۔ ناک اور ہونٹ ختم ہوجانے کے بعد بہت سے افراد نے مصنوعی اعضا لگانا شروع کر دیئے ہیں۔

b11

b5ماہرین صحت نے اس عجیب و غریب بیماری کو ’’ زیروڈرماپگمینٹوسم ‘‘کا نام دیا ہے ، اسے مختصراً ’’ایکس پی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا افراد کی جلد بہت زیادہ حساس ہوجاتی ہے اور اسے سورج کی شعاعوں سے شدید نقصان پہنچتا ہے۔ جلد کی خود کو پہنچنے والا نقصان ٹھیک کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے اور جلد کے کینسر کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے اور اس جیسے علاقوں میں رہنے والوں کے لیے تو یہ بیماری اس لیے بھی بہت بڑا عذاب ہے کہ علاقہ استوائی خطے میں واقع ہونے کے باعث سارا سال سورج خوب چمکتا ہے اور ان لوگوں کا پیشہ زراعت ہونے کی وجہ سے سارا دن کھیتوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ اس مرض میں جلد پر چھائیاں ، پھوڑے اور رسولیاں بنتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ جلد پگھلنے لگتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ، اس گاؤں کی کل آبادی 8 سو نفوس پر مشتمل ہے۔ ان میں سے 20 افراد اس بیماری سے بری طرح متاثر ہوکر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ، حالیہ برسوں میں اس بیماری میں اضافے کا سبب تو ماحولیاتی تبدیلی ہے اور دوسرا بڑا اور اہم سبب یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اپنے رواج کے مطابق آپس میں ہی شادیاں کرتے ہیں۔ اگر میاں بیوی اس بیماری کا شکار ہوں ، تو ان سے پیدا ہونے والے بچوں میں یہ بیماری ہائی لیول کی ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کی جلد سورج کی روشنی کو برداشت کرنے کی صلاحیت سے بالکل ہی محروم ہوتی ہے ،

جس سے ان کی نا ک ، رخسار ، ہونٹ ، تھوڑی اور ہاتھوں کی جلد بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ 38 سالہ جالما انتونیو بھی ان متاثرین میں سے ایک ہے۔ جن کے بعض اعضاء اس بیماری کی وجہ سے گھل کر ختم ہوچکے ہیں۔ اس نے مصنوعی ناک اور ہونٹ لگا رکھے ہیں۔ جالما کا کہنا ہے کہ میرے بدن پر اس بیماری کے آثار 9 سال کی عمر میں ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے، تاہم میں نے کوئی پرواہ نہیں کی اور دھوپ میں چاولوں کے کھیت میں مسلسل کام کرتا رہا جس سے میرے چہرے کی جلد پگھنا شروع ہوگئی۔

اب میں ناک، رخسار اور ہونٹوں سے محروم ہو کر انتہائی مشکل زندگی گزار رہا ہوں جبکہ میں دھوپ میں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں جا سکتا۔ b4انتونیوکی آنکھوں کی پتلیاں بھی پگھل چکی ہیں۔ وہ اپنے چہرے اور ہاتھوں سے رسولیوں کے خاتمے کے لیے کئی بار آپریشن بھی کرواچکا ہے۔ مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا ماہرین کے مطابق ’’ایکس پی ‘‘ ایک لا علاج مرض ہے۔ اس بیماری سے صرف انسانی جلد ہی متاثر نہیں ہوتی ، بلکہ یہ مزید 5 بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ جن میں پٹھوں کا تشنج ، بہراپن ، جسمانی نشونما کا رکنا وغیرہ شامل ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ مورثی بیماری اس گاؤں کے رہنے والوں میں آباؤ اجداد کے زمانے سے موجود تھی۔ b3تاہم اس کی طرف توجہ نہ دینے کے باعث اب یہ وبائی صورت اختیار کر گئی ہے۔ 77 سالہ ماشاڈو اور اس کے خاندان کے تمام افراد میں یہ بیماری پائی جاتی ہے۔ جوس کا چہرہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے صرف ہڈیاں اور معمولی گوشت رہ گئی ہیں۔ تاہم بچے دھوپ سے مکمل اجتناب کرنے کے باعث اب تک محفوظ ہیں۔ 80 سالہ جونکالفیس اور اس کی 75 سالہ بیوی جیرالدینا بھی اس مرض سے بْری طرح متاثر ہیں دونوں میاں بیوی ایک عرصے سے باہر نہیں نکلتے۔

جلیس فرانسسکا نامی خاتون ڈاکٹر کا 11 سالہ بچہ بھی اس بیماری سے متاثر ہوکر اپنے چہرے کی ہیت کھو چکا ہے۔ اب اس خاتون نے مذکورہ بیماری سے لوگوں کو بچانے کے لئے ایک ادارے کی بنیاد رکھی ہے۔ b10یہ ادارہ لوگوں کو دھوپ میں نکلتے وقت احتیاطی تدابیر کے ساتھ مختلف دوائیں بھی فراہم کرتا ہے۔ جن کے استعمال سے جلد پر سورج کی مضر شعاعیں اثر انداز نہیں ہوتیں۔ جبکہ دیہاتیوں کو دھوپ کی عینک ، دھوپ سے بچانے والی ٹوپی اور چھتریاں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ، مزکورہ بیس افراد تو وہ ہیں جو اس بیماری سے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ اس گاوں میں ایسے افراد کی کمی نہیں ہے ، جنہیں یہ بیماری لگے زیادہ عرصہ نہیں ہوا ان کی جلد متاثر ضرور ہوئی ہے ، مگر انہوں نے اپنے اعضاء کو دھوپ سے بچا کر مزید خراب ہونے سے بچا رکھا ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران کم از کم اس بیماری کے باعث 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس بیماری کے آثار ظاہر ہونے سے پہلے اس کی تشخیص ممکن نہیں ہے ، اس لیے یہاں کے 800 میں سے ہر ایک فرد سورج کی شعاعوں کو اپنے لیے مہلک سمجھتا ہے۔

اس گاوں کے باسی سخت گرمی میں بھی دستانے پہننے ، چہرہ ڈھانپنے اور چھتری لے کر باہر نکلنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ایسی سائیکلیں بھی عام ہیں ، جن پر بڑا سائبان بنا ہوتا ہے۔ lomp اسکول کے بچوں کو بھی انہی سائیکلوں پر بھیجا جاتا ہے۔ ماں باپ بچپن میں ہی اپنے بچوں کے ذہن میں یہ بات بٹھاتے ہیں کہ سورج ان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس لیے اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ سورج کی روشنی کے گاوں کے باسیوں پر ان منفی اثرات کے باعث اب یہاں کے باسی اکثر امور دن کے بجائے رات کو نمٹانے لگے ہیں۔ اب اس گاوں کے لوگ اسکولوں کو بھی دن کے بجائے رات میں کھولنے کا سوچ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…