زیادہ سے زیادہ تباہی کی کاوش میں اپنی جان دے دینا ان کے لیے ایک معمول کی بات رہی ہے۔فرقہ واریت کے اعتبار سے 2013 پاکستان کا تاریک ترین سال تھا جب 525جانیں ضائع ہوئی تھیںلیکن پچھلے سال پشاور میں آرمی پبلک سکول اور اب اسماعیلی بس پر حملے کے بعد، جس میں مسلح افراد نے بے رحمی سے ’سافٹ ٹارگٹ‘ کو چن چن کر مارا، ان کے طریقہ کار میں ایک واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔عارف رفیق کے مطابق:’ایک پریشان کن امر ہے۔ لگتا ہے کہ وہ اپنے لیے زیادہ سے زیادہ سہل ٹارگٹ ڈھونڈ رہے ہیں جس کے لیے نہ تو کسی خاص منصوبہ بندی کی ضرورت ہو اور جنھیں عام ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہو۔ اس میں ہم ایک طرح سے ٹارگٹ کلنگ اور وسیع تباہی کا ملاپ دیکھ رہے ہیں جس میں انتہا پسندوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ ایسے حملوں کے بعد با آسانی فرار ہو کر نئے اہداف ڈھونڈنا شروع کر دیں۔‘لیکن امریکی تھنک ٹینک سٹریٹفور کے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے مشیر کامران بخاری کے خیال میں حالیہ حملے اور ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں میں کوئی قابل ذکر فرق نہیں۔ان کے خیال میں یہ حملہ انتہا پسندوں میں ایک طرح کی مایوسی اور اپنی طاقت کے فوری اظہار کی شدید ضرورت کا عندیہ دیتا ہے۔گذشتہ سال پشاور میں سکول پر طالبان کے حملے میں 140 سال سے زائد بچوں کو مار ڈالا۔’اب وہ اس صورتحال میں نہیں کہ جب چاہیں، جہاں چاہیں حملہ کر سکیں۔ لگتا یوں ہے کہ اب ان کی ذہنیت سب یا کچھ نہیں جیسی ہے۔ وہ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی اپنی جنگ جاری رکھنے کی تمام تر صلاحیت رکھتے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے وہ معاشرے میں پہلے سے موجود نظریاتی دراڑوں کو کچھ ایسے استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ یہ جنگ ایک وسیع تر نظریاتی روپ اختیار کر لے




















































