’وہیک اے مول‘ ایک مقبول گیم ہے جس میں ایک بورڈ پر بڑے بڑے چوہے سوراخوں سے اچانک نمودار ہوتے ہیں اور کھلاڑی انہیں سر پر ہتھوڑے مار کر واپس بلوں میں گھسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی ایک چوہے کے سر پر وار ہوتا ہے تو کسی اور سوراخ سے ایک دوسرا نمودار ہو جاتا ہے۔پاکستان میں ضرب عضب اور کراچی آپریشن میں، جہاں اسٹیبلشمنٹ انواع و اقسام کے چوہوں کو بلوں میں گھسانے میں مصروف ہے اب ایک نیا چوہا سر ابھارتا نظر آ رہا ہے۔فرقہ وارانہ تشدد ملک میں کراچی سے کوئٹہ، کوئٹہ سے کرم ایجنسی تک پھیلا ہوا ہے۔ کراچی میں بالخصوص نہ تو شعیہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ اور نہ ہی ان پر بم حملے کوئی نئی بات ہیں لیکن اب تک اسماعیلی برادری اس سے نسبتاً محفوظ رہی ہے۔ان پر حملے ضرور ہوئے ہیں، جیسا کہ اگست 2013 میں ایک جماعت خانے پر دستی بم کے حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے لیکن اس سے قبل ان کو اتنے منظم انداز میں اور اتنے بڑے پیمانے پر نشانہ نہیں بنایا گیا۔عارف رفیق واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ سے منسلک ہیں۔ ان کے خیال میں یہ تازہ حملہ شدت پسندوں کی سوچ اور لائحہ عمل میں تبدیلی کا عندیہ دیتا ہے۔بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے لیے خود کش حملے ایک عرصے تک انتہاپسندوں کا بنیادی ہتھیار رہے ہیں۔




















































