میرٹھ کی بغاوت اور دہلی پر قبضہ تو بس شروعات تھی۔ اس کے بعد پورا شمالی مغربی اور وسطی ہندوستان سپاہیوں اور عوامی بغاوت کے زد میں آ گیا۔جنوبی ہندوستان بالکل خاموش رہا ‘پنجاب اور بنگال پر اس کامعمولی اثر پڑا۔
کمپنی نے دو لاکھ بتیس ہزار دوسو چوبیس سپاہیوں میں سے قریب نصف تعداد نے اپنی اپنی رجمنٹس کوچھوڑ دیا اور فوج کی حکم برداری کے اس اصول کو بالائے طاق رکھ دیا جس کو سخت ٹریننگ اورڈسپلن کے ذریعہ انہیں برسوں سکھایاگیا تھا۔
یوں تو میرٹھ بغاوت کے پہلے بھی کئی چھاؤنیوں میں ناراضی کی آواز اٹھ رہی تھی ‘بہرام پور کی انیسویں پیادہ فوج نے نئی قسم کی انفیلڈرائفلوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا اور اس کی وجہ سے مارچ1857ء میں اسے برخاست کر دیا گیا۔ چونتیسویں نیٹیو انفینٹری کے جوان منگل پانڈے نے تو ایک قدم اور آگے بڑھ کر اپنے سرجنٹ میجر کو گولی مار دی۔اسے پکڑ لیاگیا اور پھانسی دے دی گئی اس فوجی ٹکڑی کو بھی برخاست کر دیاگیا ‘ساتویں اودھ رجمنٹ کے جوانوں نے بھی افسروں کاحکم نہیں مانا ‘دوسری رجمنٹس کی طرح اس کا بھی وہی حشر ہوا۔
دہلی پر قبضہ کرنے کے ایک ماہ کے اندربغاوت کی آگ ملک کے مختلف مقامات کانپور‘ لکھنؤ‘بنارس ٗ الٰہ آباد ٗ بریلی جگدیش پور‘ اور جھانسی تک پھیل گئی۔ انگریزوں سے لوگ بے حد نفرت کرتے تھے ‘باغیوں نے ہر جگہ انگریز وں کے پیر اکھاڑ دئیے اور عام انتظام درہم برہم کردیا چونکہ باغیوں کے درمیان ان کا کوئی لیڈر نہیں تھا اس لئے انہو ں نے مقامی تعلق داروں نوابوں اور راجاؤں کو اپنے ساتھ کرلیا اور انہیں قیادت کی ذمہ داری سونپ دی۔ یہ لوگ برٹش حکومت کے ذریعے کافی ستائے جا چکے تھے اس لئے وہ باغیوں کے ساتھی بن گئے۔



















































