11مئی1857ء کی صبح ‘دہلی واسی ابھی نیند سے بیدار بھی نہیں ہوئے تھے کہ میرٹھ سے فرار سپاہیو ں کا ایک دستہ جمنا ندی پارکر کے شہر میں داخل ہوا۔ ایک دن پہلے اس دستہ کے فوجیوں نے بپھر کر اپنے انگریز افسر کو قتل کر دیا تھا انہوں نے چنگی دفتر میں آگ لگا دی اور و ہ لال قلعہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ لال قلعہ میں وہ راج گھاٹ گیٹ سے داخل ہوئے ان کے پیچھے لوگوں کی ایک مشتمل بھیڑ تھی۔ سپاہیو ں کا یہ دستہ مغل بادشاہ بہادر شاہ جوایسٹ انڈیا کمپنی نے پنشن یافتہ قیدی تھے سے یہ اپیل کرنے آیا تھا کہ وہ اس کی قیادت کریں اور اس کے حق بجانب ہونے کی تصدیق کر دیں چونکہ وہ سپاہیوں کی منشاء سے بے خبر تھے اس لئے اس وقت ان کو گھبراہٹ سی ہوئی‘ انہوں نے یہ بھی سوچا کہ اس لڑائی میں ان کی ایسی بساط نہیں کہ کوئی اہم کردار ادا کر سکیں۔ بہرحال سپاہیو ں نے ان کو جبر سے نہیں بلکہ خوشامد سے راضی کرلیا اور اعلان کر دیا کہ وہ شہنشاہ ہندوستان ہیں۔ اس کے بعد سپاہیوں نے شاہی دہلی پر قبضہ کرنے کی مہم شروع کردی۔ کئی دوسرے انگریز افسروں کے علاوہ سائمن فریزر جو کمپنی کا سیاسی ایجنٹ تھا کو قتل کردیا۔ سرکاری دفتروں پر یا تو سپاہیوں نے قبضہ کرلیا یا وہ سب برباد کر دئیے۔1857ء کی یہ بغاوت اگرچہ ناکام رہی پھر بھی بدیسی حکومت کو ختم کرنے کی بہادرانہ کوشش کی شروعات اسی سے ہوئی۔ دہلی پر قبضہ کرنے اور بہادر شاہ کو شہنشاہ کی حیثیت سے اعلان کرنے سے سیاسی بغاوت پر مثبت سیاسی اثرات مرتب ہوئے اس سے لوگوں کے دلوں پر دہلی کے گزرے وقتوں کی شاہانہ عظمت کی یاد تازہ ہو گئی اور ان کی اجتماعی قوت میں خاصا اضافہ ہوا۔
انگریزوں کے خلاف ہندوستانیوں کی بغاوت کامیاب ہو جاتی تو تاریخ کی سمت کیا ہوتی؟
’’اگرکسی تاریخی واقعہ کی اہمیت کو اس کی فوری کامیابی تک محدود نہ کیا جائے تو 1857ء کی بغاوت صرف تاریخی ٹریجڈی نہیں بلکہ اپنی تمام ناکامیوں کے باوجود اس نے ایک عظیم حوصلہ دیا جس کے تحت بعد میں وہ کچھ حاصل کرلیاگیا جو بغاوت میں حاصل نہیں ہواتھا‘‘



















































