جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہرچندرائے وشن داس ۔۔۔کون؟

datetime 12  مئی‬‮  2015 |

اور پھر اس شہر اور اس شہر کے بانی کے ساتھ کیا ہوا یہ بھی انہی سطور میں ملاحظہ فرمائیں گے۔تقسیم سے قبل کراچی کا شمار پس ماندہ ترین شہروں میں ہوتا تھا‘ روشنیوں کے شہر میں روشنی کے لیے مٹی کے تیل کے لیمپ اور گیس بتیاں جلائی جاتیں تھیں۔ 1911ء میں ہرچند رائے وشن داس کراچی میونسپلٹی کے پہلے مقامی صدر منتخب ہوئے‘ انہوں نے اپنے دور میں کراچی کی ترقی کے لیے بے تحاشا کام کئے‘ ان کی گرانقدر خدمات نے کراچی کا حلیہ ہی بدل دیا‘ ان سب کارناموں میں سے اہم ترین کارنامہ کراچی شہر میں بجلی کی آمد تھی اور اس کا سہرا بھی ہرچند رائے وشن داس کو جاتا ہے‘ ہرچند رائے وشن 1911ء تا 1921ء کے دوران کراچی میونسپلٹی کے صدر رہے اور اس عرصہ میں انہوں نے کراچی کو روشنیوں کا گہوارہ بنا دیا۔ ہر چند رائے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا تعلق بمبئی کے ایک ہندو خاندان سے تھا جبکہ بعض محققین کا کہنا ہے کہ وہ سندھ کے مقامی باشندے تھے اور ان کا جنم کوٹری شہر کے قریب ایک گاؤں میں ہوا تھا۔ وہ نہ صرف ایک فعال سماجی رہنما تھے بلکہ ایک نظریاتی سیاسی کارکن بھی تھے۔پیر علی محمد راشدی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ سیٹھ ہر چند رائے اور ان کے دوست غلام محمد خان بھرگڑی وہ نامور سندھی شہری تھے جنھوں نے اس وقت کے گورے (انگریز افسران) اور نوکر شاہی کے سامنے یہ نعرہ بلند کیا کہ سندھ کی شہریت ایک شان دار چیز ہے نہ کہ رسوائی کا سبب۔ان کا زمانہ وہ زمانہ تھا جب وڈیرے ’’صاحب لوگوں‘‘ (انگریز افسران) کے پاس سلام (حاضری) کے لیے پیش ہوتے تھے تو صاحب کا پٹے والا ان کے جوتے اتروا کر انھیں ننگے پیر اندر لے جاتا تھا۔ کمشنر صاحب لیوکس ان کی تذلیل کرنے کے لیے ان سے پوچھتے تھے’’تم بدمعاش ہو یا نہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…