اور پھر اس شہر اور اس شہر کے بانی کے ساتھ کیا ہوا یہ بھی انہی سطور میں ملاحظہ فرمائیں گے۔تقسیم سے قبل کراچی کا شمار پس ماندہ ترین شہروں میں ہوتا تھا‘ روشنیوں کے شہر میں روشنی کے لیے مٹی کے تیل کے لیمپ اور گیس بتیاں جلائی جاتیں تھیں۔ 1911ء میں ہرچند رائے وشن داس کراچی میونسپلٹی کے پہلے مقامی صدر منتخب ہوئے‘ انہوں نے اپنے دور میں کراچی کی ترقی کے لیے بے تحاشا کام کئے‘ ان کی گرانقدر خدمات نے کراچی کا حلیہ ہی بدل دیا‘ ان سب کارناموں میں سے اہم ترین کارنامہ کراچی شہر میں بجلی کی آمد تھی اور اس کا سہرا بھی ہرچند رائے وشن داس کو جاتا ہے‘ ہرچند رائے وشن 1911ء تا 1921ء کے دوران کراچی میونسپلٹی کے صدر رہے اور اس عرصہ میں انہوں نے کراچی کو روشنیوں کا گہوارہ بنا دیا۔ ہر چند رائے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا تعلق بمبئی کے ایک ہندو خاندان سے تھا جبکہ بعض محققین کا کہنا ہے کہ وہ سندھ کے مقامی باشندے تھے اور ان کا جنم کوٹری شہر کے قریب ایک گاؤں میں ہوا تھا۔ وہ نہ صرف ایک فعال سماجی رہنما تھے بلکہ ایک نظریاتی سیاسی کارکن بھی تھے۔پیر علی محمد راشدی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ سیٹھ ہر چند رائے اور ان کے دوست غلام محمد خان بھرگڑی وہ نامور سندھی شہری تھے جنھوں نے اس وقت کے گورے (انگریز افسران) اور نوکر شاہی کے سامنے یہ نعرہ بلند کیا کہ سندھ کی شہریت ایک شان دار چیز ہے نہ کہ رسوائی کا سبب۔ان کا زمانہ وہ زمانہ تھا جب وڈیرے ’’صاحب لوگوں‘‘ (انگریز افسران) کے پاس سلام (حاضری) کے لیے پیش ہوتے تھے تو صاحب کا پٹے والا ان کے جوتے اتروا کر انھیں ننگے پیر اندر لے جاتا تھا۔ کمشنر صاحب لیوکس ان کی تذلیل کرنے کے لیے ان سے پوچھتے تھے’’تم بدمعاش ہو یا نہیں؟



















































