وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کاغذی ملبوسات کی تیاری میں بھی بہتری آتی گئی۔ آرائش و زیبائش کی اشیاء فروخت کرنے والی دکانیں ہزاروں کی تعداد میں سفید دھاریوں والے گلابی گاؤن خرید کر اپنی دکانوں میں برائے فروخت آراستہ کرنے لگیں۔ یہ گاؤن سیلونوں میں کام آتے تھے۔ انھیں کیلی فورنیا کی ایک کمپنی زیمر اینڈ کو تیار کرتی تھی۔ جو بعد از استعمال پھینک دی جانے والی اشیاء کی تیاری میں سرِ فہرست تھی۔ یہ کمپنی لیبارٹریوں میں کام کرنے والوں کے لیے کاغذی کوٹ‘خوراک پر تجربات کرنے والوں کے لیے کاغذی گاؤن اور ہسپتالوں میں کام کرنے والے صفائی کے عملے کے لیے کاغذی جوتوں میں بڑی شہرت کی حامل تھی۔ اس فرم کے صدر ہیر لڈزیمر کا کہنا تھا ’’دس عشروں کے اندر اندر ہر صنعتی یونٹ میں بعد از استعمال پھینک دیے جانے والے کوٹوں اور لبادوں کی مانگ میں قابلِ ذکر اضافہ ہوجائے گا۔‘‘
دیواروں پر سفیدی اور رنگ روغن کرنے والوں کے لیے کاغذی گاؤن بہترین ہیں کہ یہ ان کے لباسوں کو چھینٹوں اور داغ دھبوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر ہر شخص اپنی گاڑی میں ایک کاغذی گاؤن رکھے تو ٹائر کھولتے یا کوئی اور کام کرتے وقت یہ گاؤن اسے ڈرائی کلیننگ کے اخراجات سے بچائے گا یعنی یہ اس کے لباس کو گریس اور دیگر چیزوں کے داغ دھبوں سے محفوظ رکھے گا۔ یہ گاؤن صرف پونے دو ڈالر میں مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اسے ایک مرتبہ استعمال کے بعد دوسری بار بھی استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ بہت پائیدار طور پر بنایا گیا ہوتا ہے۔
کاغذی کپڑے تیار کرنے والی دو سرکردہ امریکی کمپنیوں اسکاٹ اور کمبرے کلارک نے زیادہ مضبوط اور پائیدار کاغذی کپڑا تیار کرنے کے لیے یہ کیا تھا کہ نائیلون کے ایک باریک جال کو خصوصی طریقِ کار کے عمل سے گزارتے ہوئے کاغذات کی موٹی تہوں کے درمیان رکھ کر ایسا کاغذی کپڑا تیار کیا تھا جو دیکھنے اور پہننے میں عام کپڑے جیسا ہی معلوم ہوتا تھا۔ اس کپڑے کو کچھ کیمیائی اجزا کے اضافے کے ساتھ اس قابل بھی بنا لیا جاتا تھا کہ اس پر آگ کا اثر نہ ہو اور نہ ہی یہ پانی میں بھیگنے سے خراب ہو۔ یہ کپڑا زیادہ تر سڑکوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی جیکٹیں تیار کرنے میں استعمال ہوتا تھا۔



















































