جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

سیاہ فام غلاموں کی تجارت کی تاریخ

datetime 10  مئی‬‮  2015 |

سترہویں صدی سے انیسویں صدی تک فرانس لاکھوں سیاہ فام مردوں اور خواتین کو غلاموں کے طور پر گواڈیلوپ جزائر لا کر فروخت کرتا رہا۔ فرانسیسی صدر آج وہاں ان لاکھوں غلاموں کی یاد میں قائم کردہ ایک میوزیم کا افتتاح کر رہے ہیں۔فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ کے اس دورے کے ساتھ یہ بحث ایک مرتبہ پھر شروع ہو گئی ہے کہ اس خطے میں غلاموں کی تجارت کرنے پر فرانس کو اس کے نتائج کا سامنا بھی کرنا چاہیے۔ ناقدین کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے پر پیرس حکومت کو زر تلافی ادا کرنا چاہیے جبکہ اولانڈ ابھی تک اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے پرہیز کرتے آئے ہیں۔ سیاہ فام غلاموں کی یاد میں بنائے جانے والے اس میوزیم کی تعمیر بحیرہءکیریبیین میں جزائر گواڈیلوپ کے شہر ’پوائنٹ آ پیٹرے‘ میں کی گئی ہے اور اس موقع پر کیریبیین حکام کے ساتھ ساتھ سینیگال، مالی اور بنین کے سربراہان مملکت بھی وہاں موجود ہوں گے۔ یہ ممالک ماضی میں فرانسیسی نوآبادیاں رہ چکے ہیں۔یہ میوزیم 77 ہزار مربع فٹ رقبے پر بنایا گیا ہے اور اس پر ترانوے ملین یورو لاگت آئی۔ اس عمارت کا سامنے والا حصہ دانستہ طور پر سیاہ رکھا گیا ہے اور یہ غلام بنائے جانے والے لاکھوں مجبور انسانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس میوزیم کو مستقل بنیادوں پر جولائی کے مہینے میں عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ اس میں رکھی گئی دستاویزات اور اشیاءوہاں غلامی اور غلاموں کی تجارت کی ہولناک تاریخ بیان کرتی ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق سالانہ تقریبا۔ ایک لاکھ پچاس ہزار افراد اس میوزیم کو دیکھنے کے لیے آیا کریں گے۔گواڈیلوپ کی علاقائی کونسل کے سربراہ وکٹوراں لوریل کامیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس میوزیم کی تعمیر کا مقصد ’ماضی کے زخموں پر مرہم‘ رکھنا ہے۔

17

دوسری جانب اس میوزیم کے قیام کا منصوبہ جس مقامی تنظیم نے 1998ءمیں شروع کیا تھا، اس نے آج اس منصوبے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرانسیسی صدر زر تلافی ادا کرنے کے مسئلے پر بات چیت کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ انٹرنیشنل کمیٹی فار بلیک پیپلز کی خاتوں صدر جیکولین جیکرائے کا کہنا تھا، ”ہم اولانڈ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ فرانسیسی عوام کے نام پر معافی مانگیں اور مالی معاملات کے مسئلے پر مذاکرات کریں۔“اس کمیٹی کی خاتون صدر کا مزید کہنا تھا، ”غلامی فرانس کی تاریخ کا حصہ ہے اور فرانس میں اس کا سامنا کرنے کی ہمت ہونی چاہیے۔“ فرانس میں 2001ءمیں یہ قانون پاس کیا گیا تھا کہ غلامی اور غلاموں کی تجارت انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ گزشتہ برس کریبیین کے ملکوں کے رہنماوں نے ایک وسیع منصوبہ بنایا تھا کہ یورپی ملکوں کو غلاموں کی تجارت کرنے پر معافی مانگنے پر مجبور کیا جائے گا اور ان کے ساتھ زر تلافی کی ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا۔ ماضی میں سیاہ فام غلاموں کی تجارت میں فرانس، برطانیہ اور ہالینڈ پیش پیش تھے۔ فرانس میں غلامی کا خاتمہ 1848ء میں ہوا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…