جن میں تشدد کا عنصر شامل نہ ہو تو انہیں جیلوں میں آزادانہ حرکت‘ ملازمت اور تفریح کے مواقع میسر ہوتے ہیں۔ ناروے کی وزارت انصاف کے مطابق‘ملک میں 13سو افراد قید کی سزاؤں کے منتظر ہیں اور اسی وجہ سے ملک کو حراستی جگہ کی قلت کا سامنا ہے۔ وزارت انصاف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہالینڈ نے کئی برس سے اپنی متعدد جیلیں بلجیم کو کرائے پر دے رکھی ہیں۔ ناروے جیلوں میں قیدیوں کے لیے سہولیات کے حوالے سے مشہور ہے۔رائٹرز کے مطابق اس سلسلے میں کسی ڈیل کے نتیجے میں ایک طرف تو ناروے قیدیوں کی گنجائش سے زائد موجودگی کم کر کے اپنے ہاں جیلوں کے معیار کو برقرار رکھ سکے گا اور دوسری جانب سات سو ملین ڈالر کے سرمائے سے اپنی جیلوں میں تزئین و آرائش کے کام کو مکمل کر سکے گا۔ یہ بات اہم ہے کہ ناروے میں ایک لاکھ افراد میں سے جرائم کی شرح صرف 72 ہے جو امریکا کے مقابلے میں ایک دہائی ہے۔ ناروے میں دوبارہ جرم کی شرح صرف 20فیصد ہے جو دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔ ڈچ اسٹیٹ سیکرٹری کی جانب سے ملکی پارلیمان کو تحریر کردہ ایک خط میں کہا گیا ہے‘ ناروے کو حراستی جگہ کی کمی کا سامنا ہے جب کہ ہمارے پاس خاصی جگہ موجود ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ بلجیم کی سرحد کے قریب واقعہ ڈچ قید خانوں میں جگہ موجود ہونے پر ہالینڈ نے بلجیم کے ساتھ ایک معاہدہ کر رکھا ہے جس کے تحت بلجیم کے قیدیوں کے لیے یہ جیلیں استعمال کی جاتی ہیں۔بلجیم کی قریباً نصف آبادی ڈچ زبان بولتی ہے‘ اس لیے ان حراستی مراکز کوبلجیم کو دینا خاصا آسان ہے۔ ہالینڈ کے اسٹیٹ سیکرٹری کے بیان کے مطابق‘ناروے کے لیے صورتحال مختلف ہے کیوں کہ ناروے ہمارا قریبی ہمسایہ نہیں‘ یورپی یونین کا رکن بھی نہیں اور اس کی زبان بھی مختلف ہے۔ اس معاہدے کے تحت ناروے میں سزا پانے والوں کو اگلے برس سے ہالینڈ کی جیلوں میں رکھا جا سکے گا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ہالینڈ میں قید افراد کی سن 2012ء میں تعداد گیارہ ہزار ایک سو ساٹھ تھی جو سن 2008ء سے مسلسل گر رہی ہے۔عدالتی اور جیلوں کی صورت حال کے حوالے سے ناروے میں ایک قتل کہانی بہت مشہور ہے ۔



















































