دوسری جانب یہاں موجود لیونامی دریانے سنگ مر مر میں جگہ پیدا کر کے اپنا راستہ بنا لیا جس کی وجہ سے یہ گھاٹی وجود میں آگئی ۔ یہ مقام ساحل سے صرف 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے تائیوان کی بلند ترین چوٹیوں کا گھر بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہاں موجود چوٹیوں کی بلندی 3400 میٹر سے بھی زیادہ ہے۔ 1950ء تک اس مقام سے گزرنے کیلئے صرف ایک پگڈنڈی یا انتہائی تنگ راستہ ہوا کرتا تھا اور آج اس گھاٹی کی دیوار کے ساتھ ایک مکمل شاہراہ تعمیر ہے‘ یہ شاہراہ ایک تنگ پہاڑی سڑک ہے جس میں لاتعداد موڑ آتے ہیں‘ اس راستے کے درمیان میں ایک سرنگ بھی آتی ہے جس میں 9موڑ ہیں اوریہ مقام ڈرائیوروں میں انتہائی مقبول ہے کیونکہ ان میں سے چند موڑ ایسے ہیں جب ڈرائیور ڈرامائی طور پر گھاٹی کے کنارے پر جا پہنچتے ہیں۔یہاں ڈرائیو کرتے ہوئے ڈرائیور کا دل ڈوب جاتا ہے‘
ایک کے بعد ایک خطرناک موڑ دیکھ کر بعض ڈرائیور حوصلہ چھوڑ جاتے ہیں جس کی وجہ سے المناک حادثے رونما ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں ٹریفک کیلئے ایک الگ سرنگ ہے جبکہ پیدل چلنے والوں کیلئے علیحدہ سرنگ اور دونوں پر سختی سے پابندی ہے۔ ٹریفک پیدل چلنے والوں کی سرنگ میں داخل ہو سکتی ہے اور نہ ہی پیدل چلنے والے ٹریفک والی سرنگ میں جا سکتے ہیں۔ تاروکو گھاٹی کی اس شاہراہ کا شمار دنیا کی ناہموار ترین اورخطرناک ترین سڑکوں میں کیا جاتا ہے‘ اس شاہراہ پر ڈرائیو کرنے کا مطلب ہے آپ نے خود موت کے بے رحم پنجے میں دے دیا‘ وہ جب چاہے آپ کا گلہ دبا دے۔اس گھاٹی پر اکثر واوقات بارشیں بھی ہوتی ہیں‘ جس کی وجہ سے گھاٹی سے مٹی اور چٹانیں




















































