جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’حکمرانی کی ناکامی‘‘ عابدہ حسین کی کہانی ان کی اپنی زبانی

datetime 8  مئی‬‮  2015 |

صرف دولت مند‘ جاگیرداروں‘ سیاست دانوں‘آبائی زمینیں رکھنے والوں‘ گھوڑوں کا شوق پالنے والوں والدین کی اکلوتی اولاد اور جسے سوئس فنشنگ اسکول میں تعلیم کا موقع ملا اور قدرت نے حسن کی دولت سے نوازا۔۔۔کچھ تصاویر سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ تاہم ان کی نوجوانی کی تصاویر سے بھی معصومیت اور وقار کا ملاجلا تاثر ملتا ہے۔ ایسا نہیں جیسا کہ رئیس خاندانوں کے خودسر اور بگڑے ہوئے بچے ہوتے ہیں۔ یقیناًوہ چہرے سے توانائی اور جذبات سے بھر پور لگتی ہیں لیکن جہاں تک روئیے اور برتاؤ کا تعلق ہے‘ وہ پرسکون دل اور مطمئن دماغ کا برملا اظہار کرتا ہے۔ اس روئیے کا اظہار آنے والے دنوں میں سیاسی میدان میں چنی گئی راہوں سے بھی ہوتا ہے ۔۔۔ ڈسٹرکٹ کونسل جھنگ۔۔۔وغیرہ سے سیاسی سفر کا آغاز اور پھر ہنگامہ خیز سیاسی اتار چڑھاؤ‘جس میں ان کے شوہر فخر امام کی طر ف سے ایک جاندار اسپیکر کاکردار ادا کرنا بھی شامل تھا۔ فخر امام جنرل ضیا ء کی خواہش کے برعکس اسپیکر منتخب ہوئے تھے اور اْنھوں نے جنرل اور منتخب شدہ وزیرِ اعظم‘ محمدخان جونیجو کو پریشان کرنے والی رولنگ دینا شروع کردی۔ دوسری طرف مسٹر جونیجو نے جنرل کو پریشان کرنا شروع کردیا۔۔۔ بہرحال پاکستانی سیاست میں عسکری اداروں اور سویلین حکمرانوں کے درمیان طاقت کا توازن قائم ہوناہنوز باقی ہے۔
عابدہ حسین کے بارے میں ایک بہت دلچسپ پیراگراف ہے کہ اب وہ چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل جھنگ ہیں اور وہ یواین اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے جانے والے وفد کا حصہ بننا چاہتی ہیں۔ اْن کاکہناہے’’ یواین جانے کی سوچ نے میری سوچ میں بجلیاں سی بھر دیں۔ ‘‘تاہم وہ گورنر‘لیفٹیننٹ جنرل سوار خان سے کہنا نہیں چاہتیں‘ چنانچہ وہ ضیاء الحق کے وزیرِ خارجہ آغا شاہی سے رابطہ کرتے ہوئے کہتی ہیں’’ میں گورنر پنجاب سے بات نہیں کروں گی لیکن آپ ایک دوست ہیں‘ اس لئے اگر آپ چاہتے ہیں تو اْن سے یہ بات کر لیں۔ اس سے میں فوجی حکام کا کوئی احسان نہیں لوں گی۔‘‘
جب بے نظیر بھٹو وزیرِ اعظم بنیں تو اپوزیشن پارٹیوں نے فوراً ہی ان کے خلاف ایک الائنس بنا لیا۔ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ نواب اکبر بگٹی نے اْن سب کو کوئٹہ میں بلایا۔ ابھی بحث شروع ہونے ہی والی تھی جب نواز شریف نے کہا اْنہوں نے ایک ضروری فون کال کرنی ہے چونکہ اْنھوں نے آنے میں قدرے تاخیر کردی‘اس دوران رہنماؤں نے بے چینی محسوس کرنا شروع کردی۔ آخر کار عابدہ حسین سے کہا گیا کہ وہ اْنہیں لے کر آئیں۔ وہ بتاتی ہیں ’’سوداگر(بگٹی کا پی اے) دروازے پر تھا۔ اْس نے بے خوشدلی سے میرا استقبال کیا اوربتایا کہ نواز شریف فون پر گنگنارہے ہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…