صرف دولت مند‘ جاگیرداروں‘ سیاست دانوں‘آبائی زمینیں رکھنے والوں‘ گھوڑوں کا شوق پالنے والوں والدین کی اکلوتی اولاد اور جسے سوئس فنشنگ اسکول میں تعلیم کا موقع ملا اور قدرت نے حسن کی دولت سے نوازا۔۔۔کچھ تصاویر سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ تاہم ان کی نوجوانی کی تصاویر سے بھی معصومیت اور وقار کا ملاجلا تاثر ملتا ہے۔ ایسا نہیں جیسا کہ رئیس خاندانوں کے خودسر اور بگڑے ہوئے بچے ہوتے ہیں۔ یقیناًوہ چہرے سے توانائی اور جذبات سے بھر پور لگتی ہیں لیکن جہاں تک روئیے اور برتاؤ کا تعلق ہے‘ وہ پرسکون دل اور مطمئن دماغ کا برملا اظہار کرتا ہے۔ اس روئیے کا اظہار آنے والے دنوں میں سیاسی میدان میں چنی گئی راہوں سے بھی ہوتا ہے ۔۔۔ ڈسٹرکٹ کونسل جھنگ۔۔۔وغیرہ سے سیاسی سفر کا آغاز اور پھر ہنگامہ خیز سیاسی اتار چڑھاؤ‘جس میں ان کے شوہر فخر امام کی طر ف سے ایک جاندار اسپیکر کاکردار ادا کرنا بھی شامل تھا۔ فخر امام جنرل ضیا ء کی خواہش کے برعکس اسپیکر منتخب ہوئے تھے اور اْنھوں نے جنرل اور منتخب شدہ وزیرِ اعظم‘ محمدخان جونیجو کو پریشان کرنے والی رولنگ دینا شروع کردی۔ دوسری طرف مسٹر جونیجو نے جنرل کو پریشان کرنا شروع کردیا۔۔۔ بہرحال پاکستانی سیاست میں عسکری اداروں اور سویلین حکمرانوں کے درمیان طاقت کا توازن قائم ہوناہنوز باقی ہے۔
عابدہ حسین کے بارے میں ایک بہت دلچسپ پیراگراف ہے کہ اب وہ چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل جھنگ ہیں اور وہ یواین اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے جانے والے وفد کا حصہ بننا چاہتی ہیں۔ اْن کاکہناہے’’ یواین جانے کی سوچ نے میری سوچ میں بجلیاں سی بھر دیں۔ ‘‘تاہم وہ گورنر‘لیفٹیننٹ جنرل سوار خان سے کہنا نہیں چاہتیں‘ چنانچہ وہ ضیاء الحق کے وزیرِ خارجہ آغا شاہی سے رابطہ کرتے ہوئے کہتی ہیں’’ میں گورنر پنجاب سے بات نہیں کروں گی لیکن آپ ایک دوست ہیں‘ اس لئے اگر آپ چاہتے ہیں تو اْن سے یہ بات کر لیں۔ اس سے میں فوجی حکام کا کوئی احسان نہیں لوں گی۔‘‘
جب بے نظیر بھٹو وزیرِ اعظم بنیں تو اپوزیشن پارٹیوں نے فوراً ہی ان کے خلاف ایک الائنس بنا لیا۔ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ نواب اکبر بگٹی نے اْن سب کو کوئٹہ میں بلایا۔ ابھی بحث شروع ہونے ہی والی تھی جب نواز شریف نے کہا اْنہوں نے ایک ضروری فون کال کرنی ہے چونکہ اْنھوں نے آنے میں قدرے تاخیر کردی‘اس دوران رہنماؤں نے بے چینی محسوس کرنا شروع کردی۔ آخر کار عابدہ حسین سے کہا گیا کہ وہ اْنہیں لے کر آئیں۔ وہ بتاتی ہیں ’’سوداگر(بگٹی کا پی اے) دروازے پر تھا۔ اْس نے بے خوشدلی سے میرا استقبال کیا اوربتایا کہ نواز شریف فون پر گنگنارہے ہیں۔‘
’’حکمرانی کی ناکامی‘‘ عابدہ حسین کی کہانی ان کی اپنی زبانی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
ایران امریکا مذاکرات کا اعلان،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































