بالکل بھی گورنر نہیں بنانا چاہتے تھے جس میں سرکشی کے تھوڑے سے بھی جراثیم ہوں۔رفیق رجوانہ پاکستان مسلم لیگ ن ملتان کے جنرل سیکرٹری، سینیئر نائب صدر، مسلم لیگ ن پنجاب سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور اپنی جماعت کے لائرز ونگ کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔رفیق رجوانہ 25 سال سے وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور ان کا شمار ملک کے نامور وکیلوں میں ہوتا ہے۔ نامزد گورنر مختلف کیسز میں وزیر اعظم نواز شریف وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور ن لیگ کے دوسرے رہنماو¿ں سردار ذوالفقار کھوسہ، راجہ ظفرالحق، ظفر اقبال جھگڑا اور خواجہ سعد رفیق کی وکالت بھی کرچکے ہیں۔پنجاب کے گورنر کا عہدہ 29 جنوری کو چوہدری محمد سرور کے استعفے کے بعد سے خالی تھا۔ اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر رانا محمد اقبال بحثیت قائم مقام گورنر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔تعیناتی سے پہلے رفیق رجوانہ نے اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ اپنی تعیناتی کے اعلان کے بعد ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وہ صوبے کے عوام کی خدمت کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے اور اپنی پارٹی قیادت کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔
۔




















































