جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

رفیق رجوانہ: جوڈیشل میجسٹریٹ سے گورنر تک

datetime 7  مئی‬‮  2015 |

رفیق رجوانہ سینیٹ کی خارجہ امور قانون اور انصاف اور انسانی حقوق سمیت کئی کمیٹیوں کے رکن ہیں۔ حلف برداری کے بعد وہ پنجاب کے 36 ویں گورنر بن جائیں گے۔ملتان سے تعلق رکھنے والے ملک محمد رفیق رجوانہ کو وزیر اعظم پاکستان نے پنجاب کا گورنر تعینات کرنے کے فیصلہ کیا ہے۔رفیق رجوانہ بنیادی طور پر قانون دان اور سپریم کورٹ کے سینیئر ایڈووکیٹ ہیں، تاہم ان کا شمار جنوبی پنجاب کی متحرک سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے۔ کئی دہائیوں پر محیط اپنے سیاسی کریئر میں وہ ہمیشہ پاکستان مسلم لیگ ن سے وابستہ رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے ہی انھیں دو مرتبہ سینیٹر منتخب کروایا۔رفیق رجوانہ 20 فروری 1949 کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نےملتان ڈگری کالج سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد لاہور کے ایف سی کالج سے معاشیات میں ماسٹرز کیا۔ پھر پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے قانون کی ڈگری لی اور جوڈیشل آفیسر تعینات ہوئے۔تاہم انھوں نے جلد ہی بحثیت ایڈیشنل اینڈ سیشن جج استعفیٰ دیا اور سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ 1979 میں ملتان سے کونسلر رہے۔ سنہ 1985 میں صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے الیکشن لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔نامزد گورنر پنجاب 1996 میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر بھی رہے۔ 1998 میں پاکستان مسلم لیگ ن نے انھیں سینیٹر منتخب کروایا۔ 2003 میں بحثیت سینیٹر ان کی پہلی مدت ختم ہوئی۔2012 میں ایک مرتبہ پھر رفیق رجوانہ کو پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے سینیٹ کا ٹکٹ دیا گیا۔ اور وہ اپنی جماعت کی حمایت سے دوسری مرتبہ مارچ 2018 تک کے لیے سینیٹر منتخب ہوئے۔ لیکن یہ مدت پوری ہونے سے پہلے ہی انھیں پنجاب کا گورنر تعینات کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔تقرری سے ن لیگ کی فیصلہ سازی واضح نظر آتی ہے۔ جیسے پہلے ممنون حسین کو صدر بنایا تھا، اب ایک ممنون حسین کو گورنر بھی بنا دیا گیا ہے۔ سوچ یہ ہے کہ وفادار اور متوسط طبقے کے لوگوں کو موقع دیا جائے۔ اور یہ سب دو برے تجربات کی بنیاد پر کیا گیا۔ ذوالفقار کھوسہ اور چوہدری سرور۔ ان کی وجہ سے وہ بہت محتاط ہوگئے ہیں اور کسی ایسے شخص کو

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…