’’شیرو‘‘ کا ذکر جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے‘ سب سے پہلے سلیم صافی نے اپنے ایک کالم میں کیا تھا۔ وہ دبئی میں ڈکٹیٹر مشرف کا انٹرویو کر کے آئے تھے۔ انٹرویو کے بعد غیر رسمی گپ شپ میں مشرف نے ’’شیرو‘‘ کا ذکر کیا اور سلیم صافی سے پوچھا تمہیں علم ہے ’’شیرو‘‘ اب کس حال میں ہے؟ عمران کے لئے یہ گراں قدر تحفہ ڈکٹیٹر نے ہمایوں گوہر کے ہاتھ بجھوایا تھا۔ کہا جاتا ہے‘ ڈکٹیٹر کی کتاب ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ہمایوں ہی کے زورِ قلم کا نتیجہ تھی۔ کیا حسن اتفاق تھا کہ پاکستان کے پہلے ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل ایوب خاں کی کتاب ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ لکھنے کا اعزاز‘ ہمایوں کے والد گوہر ایوب کو حاصل ہوا تھا جو فیلڈ مارشل کے عہد کے آخری برسوں میں سب سے طاقتور بیوروکریٹ سمجھے جاتے تھے۔ کہنے والے انہیں شیخ مجیب کے 6 نکات کا مصنف بھی کہتے تھے۔ ایوب خان کے زوال کے بعد گوہر ایوب ’’ڈان‘‘ کے ایڈیٹر ہوگئے تھے۔
ہم عمران خاں کے چہیتے ’’شیرو‘‘کی بات کر رہے تھے جس کے ذکر پر عمران کے زخم ہرے ہوجانے کی بات سمجھ میں آتی ہے۔ کتوں کے لئے عمران کی چاہت ان کے بچپن سے ہے۔ کرکٹر کے طور پر عمران کو چاہنے والے‘ ہندوستان میں بھی کم نہیں۔ان میں انڈین جرنلسٹ فرینک بھی ہے۔ عمران پر اپنی کتاب
میں اپنے ممدوح کے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے اس نے لکھا’’ اسے کتوں سے اتنا انس تھا کہ انہیں گلے لگائے رکھتا تھا ‘وہ کتوں سے محبت کرتا تھا اور ان کا بہت زیادہ خیال رکھتا تھا‘



















































