میں اور میرا بیٹا دو ماہ بعد نیولالہ زار کیمپس پہنچے‘ یہی سلپ دکھائی ‘ حکم ملا ‘ باہر بورڈ آویزاں ہے اس پر جا کر نام دیکھ لیں‘ میں نے فہرست دیکھی اس میں میرے بیٹے کانام موجود نہیں تھا لیکن اس وقت مجھے حیرت ہوئی جب میرے بیٹے کی سیریل نمبر پر کسی دوسرے لڑکے کا نام لکھا تھا‘ میں نے وہاں احتجاج کیا لیکن مجھے وہاں سے دھکے دے کر باہر نکال دیا گیا‘ اب پروفیسر صاحب آپ مجھے بتائیں قصور میرا ہے‘ میرے بیٹے کا ہے یا اس کی بڑھتی ہوئی عمر کا؟‘‘ اس نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا‘ میں نے بابا جی کی دی ہوئی سلپ کو غور سے دیکھاتو مجھے لگا واقعی اس نوجوان کی حق تلفی ہوئی‘ میں نے باباجی کو تسلی دی‘ بیٹے کی نوکری کا وعدہ کیااور انہیں رخصت کر دیا ۔
بابا جی چلے گئے لیکن پچھلے پون گھنٹے سے یہ سوچ رہا ہوں ہمارے ہاں نوجوانوں کے ساتھ کتنی زیادتی اور حق تلفی ہوتی ہے‘ اگر اس نوجوان کو لارنس کالج میں ایڈمیشن مل جاتا تو یقینایہ بھی آج جنرل (ر) شمیم عالم خان ہوتا‘ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عمران اللہ خان ہوتا‘ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد رب نواز ہوتا یا پھر میر ظفراللہ جمالی (سابق وزیراعظم پاکستان) ‘ ذوالقرنین حیدر خان (سابق صدر آزاد کشمیر)‘ آفتاب شیر پاؤ‘ ممتاز بھٹو‘ ایاز امیر یا پھرشاہد خاقان عباسی ہوتا اور اگر اسے نیوی میں بھرتی کر لیا جاتا تو مجھے یقین ہے آج اگر رئیر ایڈمرل نہ ہوتا لیکن یہ کم از کم کمانڈر یا کیپٹن ضرور ہوتا۔ اس ملک کا المیہ یہ ہے یہاں میرٹ نام کی کوئی شے نہیں‘ اعلیٰ خاندانوں کے ان پڑھ اور جاہل بیٹے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور غریب غرباء کے مہذب اور تعلیم یافتہ بچے گلیوں کی خاک چھان رہے ہیں۔ آپ اس سے اندازا لگائیں ہماری حکمران کلاس میں سے 50 فیصد سیاستدانوں کی ڈگریاں مشکوک ہیں۔ آپ کے علم میں ہوگا جعلی ڈگریوں پر اس ملک کے 54سیاستدان نااہل قرار دئیے گئے اور ان میں بڑے نامی گرامی سیاستدان بھی شامل تھے۔ اب بھی بعض ایسے سیاستدان ہیں جن کے پاس ڈگری نام کی شے ہی نہیں یا جو کبھی کالج اور یونیورسٹی کے گیٹ سے اندر داخل نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود اقتدار کے ایوانوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ حد تو یہ ہے اس ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر براجمان رہنے والے صدرآصف علی زرداری کی تعلیمی قابلیت بھی آپ سب جانتے ہیں اور اس کے مقابلے میں اگر کوئی غریب اور عام فرید خان جیسا شخص ہنگو پی ایس 42 سے الیکشن جیت کر اشرافیہ کی کوری ڈور میں قدم رکھ دے تو اسے الیکشن سے محض24دن بعد سرعام قتل کر دیا جاتا ہے لیکن قاتلوں کا کھرا نہیں ملتا۔



















































