بابا جی بیٹے کو نوکر کروانا چاہتے تھے ‘ وہ اسے بڑ�آدمی دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ تشریف لائے اور بیٹھے ہی ایک سرد آہ بھری اور اس کے بعد گویا ہوئے ’’میں نے ساری عمر مزدوری کی‘ میری حسرت تھی میں اپنے بیٹے کوپڑھا لکھاکر بڑا آدمی بناؤں گا لیکن میری خواہش ارمان ہی بن گئی‘ یہ پانچویں کلاس میں تھا تو لارنس کالج میں غریب طلباء کی چند نشستوں کا کوٹہ نکلا‘ یہ کوٹہ مرحوم خاقان عباسی کی کاوشوں کا نتیجہ تھا‘ میرا بیٹا اس وقت تیسری کلاس میں تھا‘ مقابلے کیلئے تحصیل بھر کے تمام گورنمنٹ سکولوں سے دو‘ دو طلباء کو اس مقابلے میں شرکت کرنا تھی‘ میرے اس بیٹے نے بھی مقابلے میں حصہ لیا اور پہلی پوزیشن حاصل کی۔ بدقسمتی سے کامیاب طلباء کے داخلے کا مرحلہ ابھی طے نہیں ہواتھا کہ خاقان عباسی اوجڑی کیمپ حادثے کا شکار ہو گئے اور اس کے بعد غریبوں کے اس کوٹے کی طرف کسی نے توجہ ہی نہ دی ‘ یوں میر ابیٹا لارنس کالج میں داخلے سے محروم ہو گیا۔ دوسری بار اس نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو نیوی میں بھرتی کیلئے اپلائی کیا‘ اس نے تحریری اور جسمانی دونوں ٹیسٹ اچھے نمبروں سے پاس کئے‘ انٹرویو کا مرحلہ آیا تو یہ اس میں بھی کامیاب ہو گیا لیکن ‘‘ بابا جی نے نوجوان کے ہاتھ سے فائل لی اور اس میں سے ایک چٹ نکال کر میری طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگے ’’ یہ ہے اس کے ٹیسٹ اور انٹرویو پاس کرنے کی سلپ‘ ہمیں یہ سلپ دے کر گھر بھیج دیا گیا کہ دو ماہ بعد آپ کے بیٹے کو کال لیٹر آ جائے گابصورت دیگر کیمپس میں آ کر معلومات کر لینا‘کال لیٹر نے آنا تھا نہ آیا
مزید پڑھیے:وہ وقت جب برطانوی بادشاہ نے اسلام قبول کرنے کی پیشکش کی لیکن۔۔۔‘



















































