علم روشنی ہے‘ ایسی روشنی جو باطن کی ظلمتوں کو اجالوں میں بدل دیتی ہے۔ہم آباؤ اجداد سے سنتے آئے ہیں انہوں نے مشکل ترین دور میں کس طرح تعلیم حاصل کی ‘ وہ کیسے سکول جاتے تھے لیکن دور جدید میں علم کا حصول زیادہ مشکل نہیں رہا‘طلباء کیلئے گاڑیوں کا بندوبست ہے‘ سکول جانے اور واپس لانے کیلئے ملازم ہیں‘ لنچ باکس ساتھ جاتے ہیں‘ سکول میں چھوٹے بچوں کیلئے ریفریشمنٹ کا بندوبست بھی ہے مگر پہلے زمانوں میں ایسا نہیں تھا‘ ٹاٹ کے سکولوں میں شدید گرمی اور شدید سردی میں بچے سارا دن ننگی زمین پر بیٹھ کر پڑھتے تھے‘ یونیفام کا ایک سوٹ ہوتا تھا جو سالہا سال چلتا تھا‘ پاؤں میں ٹوٹی پھوٹی جوتی ہوتی تھی اور بچے صبح کے ناشتے کے بعد سہ پہر کو بھوکے پیٹ گھر پہنچتے تھے۔ ہمارے زمانے میں بھی گنے چنے طالب علم لنچ باکس ساتھ لاتے تھے اور جو لاتے تھے ان کا کھاناساتھی کھا جاتے تھے۔ بدلتی دنیا کے ساتھ علم کے حصول کے راستے جہاں سہل ہو گئے ہیں وہیں آج بھی بعض ممالک میں بچے خطرناک ترین راستوں پر کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر سکول جاتے ہیں۔ ذیل چند تصاویر کے ذریعے آپ کو یہ بتانا چاہیں گے کہ اس جدید ترین دور میں بھی بچوں کو علم کے حصول کیلئے جان جوکھوں میں ڈالنا پڑتی ہے۔




















































