جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

بلند و بالاٹاورز پر جنگلات اگائیں جائیں گے!

datetime 4  مئی‬‮  2015 |

انسان کی بقاء تین چیزوں پرہے‘ یہ تین چیزیں ہوا ٗ پانی اور خوراک ہیں۔ ان میں سے اگر ایک بھی میسر نہ ہو تو زندہ رہنا ممکن نہیں۔ ان میں بھی پانی اور خوراک کے بغیر چند گھنٹے یا چند دن زندہ رہا جا سکتا ہے مگر ہوا کے بناء ایسا چند گھنٹے اور دن تو کیا چند منٹ بھی ممکن نہیں ۔یہ ہوا سائنس کی زبان میں آکسیجن کہلاتی ہے۔ آکسیجن کے بناء انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں۔محکمہ ماحولیات پچھلی کچھ دہائیوں سے شور ڈال رہاہے کہ ماحول کو آکسیجن کی کمی ہوتی جا رہی ہے‘ یہ کمی درختوں کی کمی کی وجہ سے ہے۔ درختو ں کے پتوں سے چونکہ آکسیجن خارج ہوتی ہے اس لئے ان کی کمی کی وجہ سے آکسیجن میں کمی بھی لازمی امر ہے۔ محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ اس کمی کی وجہ سے دنیا کے موسم میں تبدیلی ہو رہی ہے۔ گلوبل وارمنگ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔آبادی بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے پیش نظر تعمیرات میں بھی اضافہ ہور ہا ہے ‘جنگلات اور درختوں کی تعداد میں بے پناہ کمی ہوتی جا رہی ہے۔ محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو2050ء تک دنیا کے تمام موسم ختم ہو جائیں گے یہاں صرف گرمی ہی گرمی ہوگی۔

VEGETALE-DE-NANTES-2-537x312
اٹلی کے شہر میلان میں ایک عجیب و غریب اور دلچسپ کام شروع کیاگیا ہے‘ یہ کام جنگلات لگانے کا ہے او ر یہ جنگلات میلان شہر کے درمیان لگائے جائیں گے۔ ویسے جنگلات Horizentalہوتے ہیں مگر یہ جنگلات عمومی vertical ڈیزائن میں لگائے جائیں گے جی ہاں جیسا کہ آپ کو تصویر میں نظر آ رہا ہے کہ جنگل اوپرنیچے ہے‘ یہ ستائیس منزلہ بوسکو ٹاور پر لگائے جائیں گے۔ آپ شہری علاقے میں گھنے جنگل پلانٹ نہیں کر سکتے مگر اب یہ ممکن ہو سکے گا۔ اس سلسلے میں دو ٹاورز تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ ایک کی اونچائی110 میٹر ہے جبکہ دوسرے ٹاور کی اونچائی76میٹر رکھی گئی ہے۔ان ٹاورپر900سو درخت لگائے جائیں گے۔ ان کی لمبائی6,3اور9 میٹر تک ہوگی ۔ان کے ساتھ ساتھ چھوٹے پودے اور سبزیاں بھی اس جنگل کا حصہ ہوں گی۔ درختوں کو لگانے کے لئے ٹاورز کو مخصوص ڈیزائن کے تحت تعمیر کیاجا رہاہے۔ ٹاورز کے چاروں اطراف درختوں کاجنگل موجود ہوگا۔ ان درختوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ یہ دھول مٹی اور دھواں ٹاور کے اندر موجود رہائشی فلیٹس اور دفاتر تک نہیں پہنچ سکے گا۔ ان ٹاورز سے بے شمار آکسیجن ماحول کا حصہ بنے گی اور ارد گرد کے ماحول کو خوشگوار بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
تعمیرات کے ماہرین کا کہنا ہے یہ ایک بہت اچھی سوچ اور اقدام ہے‘ اس طرح کی تعمیر میں اور عام طرز تعمیر میں صرف تھوڑا بہت فرق ہوگا‘ اس میں پانچ فیصد خرچہ زیادہ ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسی سوچ کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اور یہ منصوبہ عام ہو جائے گا۔ماہرین کا کہناہے کہ طوفان اور آندھیوں کے پیش نظر چند مشکلات تھیں۔ اس ڈیزائن کواس طرح سیٹ کیاگیا ہے کہ جب طوفان اور آندھی آئے گی تو اس جنگل کو محفوظ رکھا جا سکے گا۔ 11ملین آبادی کے شہر کے وسط میں موجود یہ ٹاورز لوگوں کو جنگل کے ماحول کا لطف دیں گے۔ لوگ اپنے گھر یادفتر سے باہر نکلیں گے اور چند قدم کے فاصلے پر جنگل میں ہوں گے۔

acadia-tree-tower_01_CXzRG_17621

:ٹری ہاؤس

آجکل انسان میں کچھ نہ کچھ عجیب کرنے کی خواہش پہلے کی نسبت بہت زیادہ رجحان پکڑ چکی ہے۔ ہر شخص کچھ نہ کچھ منفراد انجام دے کرخود کو دنیا کے سامنے لانا چاہتا ہے۔ ہر خبر جس میں کچھ بھی نیا ہو وہ پل بھر میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ پہلے زمانوں میں ایسا نہیں ہوا کرتا تھا تب لوگوں کی ایجادات کا اول تو پتاہی نہیں چلا کرتا تھا‘ اگر کچھ لو گ ہمت کر کے اسے عام کرتے بھی تو وہ صرف ایک شہر ٗ صوبے یا ملک تک ہی محدود رہتے تھے‘ وہ لوگ جنہوں نے بڑی بڑی ایجادات کیں ان کی ایجادات اقوام عالم تک پہنچنے سے پہلے ہی ان میں سے بعض دنیا بدر ہوگئے۔ اب ایسا نہیں‘ آپ دن کے دو بجے کچھ نیا کرتے ہیں تو اگلے ایک گھنٹے میں آپ کی انوکھی ایجادپوری دنیا دیکھ چکی ہوتی ہے اور اپنی رائے دے چکی ہوتی ہے۔ فرانس میں اسی طرح کا ایک عجیب کام ہو رہا ہے‘ ایک ٹاور بنایا جا رہا ہے جس کی شکل ایک گھنے درخت کی طرح ہوگی۔ اس میں گھر اس طرح ڈیزائن کئے گئے ہیں کہ وہ پتوں کی شکل دھار چکے ہیں۔ عمارتیں تو آپ نے بہت دیکھیں ہوں گی مگر اس طرز کی منفرد عمارت کا تو کبھی تصور بھی نہیں کیاہوگا ۔فرانس میں تعمیر کئے جانے والے اس دومنزلہ ٹری ہاؤ س کا نقشہ دیکھنے میں اس قدر زبردست ہے تو سوچیں کہ تعمیر ہو جانے کے بعد یہ کیسی قیامت ڈھائے گا۔ اس ٹاور کو وائٹ ٹری ہاؤس کا نام دیاگیا ہے جس میں درخت کی شاخوں اور پتوں کی طرح گھر اور سیڑھیاں تعمیر کی جائیں گی۔اس ٹاور کی تعمیر آرکیٹیکٹس کے لئے بہت بڑا چیلنج ثابت ہونے والی ہے۔
canopy-tower
اس ٹاور کے آرکیٹیکٹس ایک جاپانی Sou Fujimotoہیں‘ پتوں کی شکل میں نکالے جانے والے ہر ٹیرس پر درخت لگائے جائیں گے‘ یہ ٹاور 1000 سکوائر میٹر پر تعمیر کیا جائے گا ‘ڈیزائن دیکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ وائٹ ٹری کہلانے والا ٹاور تعمیر کے کچھ عرصے بعد گرین ٹری کہلانے لگے گا۔اس منفرد56میٹر بلند ٹاور میں120 رہائشی یونٹس تعمیر کئے جائیں گے ‘اس وائٹ ٹری کی بنیادوں میں جڑوں کا کام ایک بہت ہی بڑا اور شاندار ہوٹل کرے گا‘ اس ٹاور میں ہوٹل کے علاوہ ایک عالی شان آرٹ گیلری بھی ڈیزائن کی گئی ہے‘ اس ٹاور کی تعمیر جولائی2015ء میں شروع ہوگی اور یہ دسمبر2017ء تک مکمل کرلیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…