’ ’ڈیوڈ‘‘ کے کمزور ٹخنوں کی وجہ سے اس کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔اطالوی اخبارات کے مطابق اطالوی شہر فلورنس کے عجائب گھر میں موجود ساڑھے پانچ ٹن وزنی مجسمے کی ٹانگوں میں باریک دراڑیں پڑ رہی ہیں اور مقامی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اپنے وزن تلے ہی دب کر ٹوٹ سکتا ہے۔اطالوی قومی تحقیقی کونسل کے مطابق مجسمے کی دائیں ٹانگ کے پیچھے تراشیدہ تنے میں بھی دوبارہ دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔یہ تنا اس مجسمے کا بیشتر وزن سہارتا ہے اور اسے کئی مرتبہ مرمت کیا جا چکا ہے۔مجسمے کی نقول پر کئی تجربات کے بعد اس کے ٹخنوں میں بھی کمزور مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جو ماہرین کے مطابق اس کی شہر کے مرکزی چوک پر تین صدی سے زیادہ عرصے تک ایک خطرناک زاویے پر ایستادہ رہنے کی وجہ سے بنے ہیں۔اطالوی اخبار’’گزٹ دیلسود‘‘ کے مطابق 17فٹ اونچامجسمہ ویسے ہی نازک ہے کیونکہ مائیکل اینجلو نے اس کی تیاری میں غیرمعیاری سنگ مرمر استعمال کیا تھا جبکہ اس کا وزن بھی بہت زیادہ ہے۔کہا جا رہا ہے کہ کوئی بھی زلزلہ یا پھر اس کے قریب بھاری مشینری کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والا ارتعاش اس کے گرنے کی وجہ بن سکتا ہے اور اس لیے یا تو اسے زلزلے کے اثرات سے محفوظ کمرے یا پھر شہر سے باہر کسی نئے مقام پر منتقل کیا جانا چاہیے۔



















































