’’ مسجد کے قیام کا مقصد محض عبادت گاہ نہیں تھا کیونکہ خانہ خدا کا تصور نہایت وسیع اور جامع ہے جس میں انسانوں کا اپنے رب کے ساتھ تعلق سے لے کر آپس میں ربط‘ مسلمانوں میں ہم آہنگی‘ اتحاد‘ تبادلہ خیال‘ تعلیم و تربیت‘ ایک دوسرے کی مدد‘ غمگساری اور مہمان نوازی اور باہمی محبت کے پہلو بھی نمایاں تھے‘ دیگر مذاہب کی مانند ہم نے آہستہ آہستہ مسجد کو محض عبادت گاہ اور مذہبی تقریبات کا مرکز بنا لیاہے اور وہ تمام مقاصد پس پشت ڈال دیے ہیں جن کی عملی مثالیں سیرت نبوی میں ملتی ہیں‘‘
حقیقت یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اور دوسرے مذاہب کے زیر اثر ہم مسجد کی مرکزی حیثیت اور اس کے مقاصد بھول چکے ہیں۔ ہندو ازم میں مندر اور عیسائیت میں چرچ محض عبادت گاہیں ہیں۔ انہی دو مذاہب کے اثرات برصغیر کے مسلمانوں کے رویوں پر نظر آتے ہیں۔ باقی مذاہب کے برعکس مسجد کے قیام کا مقصد محض عبادت گاہ نہیں تھا کیونکہ خانہ خدا کا تصور نہایت وسیع اور جامع ہے جس میں انسانوں کا اپنے رب کے ساتھ تعلق سے لے کر آپس میں ربط‘ مسلمانوں میں ہم آہنگی‘ اتحاد‘ تبادلہ خیال‘ تعلیم و تربیت‘ ایک دوسرے کی مدد‘ غمگساری اور مہمان نوازی اور باہمی محبت کے پہلو بھی نمایاں تھے۔ باقی مذاہب کی مانند ہم نے آہستہ آہستہ مسجد کو محض عبادت گاہ اور چند اہم مذہبی تقریبات کا مرکز بنا لیاہے اور وہ تمام مقاصد پس پشت ڈال دیے ہیں جن کی عملی مثالیں سیرت نبوی میں ملتی ہیں۔’’ الرحیق المختوم‘‘ سے کچھ سطریں غور سے پڑھئے‘ ان میں آپ کو سیرت نبوی کی جھلک نظر آئے گی اور مسجد کے قیام کے مقاصد واضح ہوں گے پھر سوچیئے کہ موجودہ زندگی کی روش کو سامنے رکھ کر ان کا اطلاق کس طرح اور کتنا ہوسکتا ہے؟ مصنف نے ہجرت کے بعد نئے معاشرے کی تشکیل پر روشنی ڈالتے ہوئے مسجد کی مرکزی اہمیت کا اس طرح ذکر کیا ہے:



















































