سبکتگین نے997ء میں وفات پائی اور اس کی جگہ محمود تخت نشین ہواجس کی فتوحات کا سلسلہ سکندراعظم کی یاد دلاتا ہے۔ اس نے جے پال کے خلاف لڑائی جاری رکھی اور1001ء میں اٹک کے قریب اسے شکست دی۔ جے پال کے بعد اس کا بیٹاآنندپال تخت نشین ہوا‘ اس نے بے سمجھی سے1005ء میں جب محمودملتان کے اسماعیل حاکم ابوافتح داؤد کے خلاف انتقامی کارروائی کررہا تھا پر حملہ کر دیا لیکن شکست کھائی اور کشمیر بھاگ گیا۔ اگلے سال محمود آنند پال کو مخالفت کی مزید سزا دینے کا ارادہ کیا اور پشاور کے قریب اس کے عظیم لشکر کو شکست دے کر ہندوستان میں داخل ہوا اور کانگڑہ تک چڑھ آیا۔ اس کے بعد اس نے ہندوستان پر کئی حملے کئے اور متھرا‘ قنوج اور سومنات وغیرہ سے بہت سا مال غنیمت لے کر واپس ہوا۔ محمود نے ان مقامات پر حکومت قائم نہیں کی لیکن آخر میں لاہور کی حکومت اپنے غلام ایاز کو دے گیا۔ محمود نے1030ء میں وفات پائی۔
محمود کی نسبت ڈاکٹر تارا چند لکھتے ہیں



















































