یوروگوئے کا نام سنتے یا پڑھتے ہی صدرجوزے موجیکا کی شخصیت آنکھوں میں اتر آتی ہے‘ ایک ایسا صدر ‘ ایک ایسا حکمران جو ملک کا صدر ہوتے ہوئے بھی عام انسانوں کی طرح زندگی گزارنے پر خوش و مطمئن ہے‘ صدر موجیکا اپنے فارم ہاؤس میں رہائش پذیر ہیں‘ یہ سادہ ترین زندگی گزار رہے ہیں‘ اپنے ہاتھوں سے سبزیاں کاشت کرتے اور کاٹتے ہیں‘ بذات خود ٹریکٹر چلاتے ہیں‘ لکڑیاں کاٹتے ہیں‘ جانور پالتے ہیں‘ ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں‘ اپنی کھٹارا گاڑی خود چلاتے ہیں‘ اسی گاڑی پر آفس آتے ہیں اور اپنا بوجھ قومی خزانے پر ڈالنے کے بجائے اپنے ہی کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ شائد یہی وہ سادگی اور وہ کردار ہے جس کی وجہ سے یوروگوئے کے ہر طالب علم کے پاس لیپ ٹاپ ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی یوروگوئے دنیا کا واحد ملک ہے جس میں پرائمری کے ہر بچے کے پاس اپنا لیپ ٹاپ ہے‘ یوروگوئے میں پچھلے دو سال سے پرائمری کے طلبہ کو سستے لیپ ٹاپ دینے کی سکیم جاری ہے‘
یہ منصوبہ ابتدائی طور پر نیگروپونٹے نے شروع کیا بعدازاں اس منصوبے میں 3لاکھ 62ہزار طلباء و طالبا ت اور 18ہزار اساتذہ بھی شامل ہو گئے‘ انہوں نے یوروگوئے کے ہر طالب علم تک لیپ ٹاپ پہنچانا اپنا مشن بنا لیا‘ نیگروپونٹے کی خواہش تھی سستا لیپ ٹاپ 100ڈالر میں بچوں کو دیا جائے لیکن یہ سکیم اتنی مقبول اور کامیاب ہو گئی کہ حکومت کو فی لیپ ٹاپ 260ڈالر لاگت اٹھانا پڑی‘ یوں دوسال کی مدت میں نیگروپونٹے اور ان کی تنظیم نے یوروگوئے کے ہر پرائمری کے طالب علم کے پاس لیپ ٹاپ پہنچا دیا۔ یوں یوروگوئے کے طلباء و طالبات اس جدید ٹیکنالوجی سے منسلک ہو گئے ہیں اور یہ اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیے:دنیا سے دور تیرتے قلعے پر رہائش پذیر انوکھا خاندان
یہ اس قوم‘ یہ اس ملک کے ساتھ وہ ظلم اور وہ ناانصافی ہے جس کی وجہ سے ہم دنیا کا پسماندہ ترین اور خطرناک ترین ملک ڈکلیئر ہو چکے۔ یہ وہ فرق ہے جس کی وجہ سے دنیا مریخ پر زندگی تلاش کر رہی ہے اور ہم زمین پر اپنی اپنی زندگیاں بچانے میں مصروف ہیں۔



















































