اردو کے مشہور اور منفرد افسانہ نگار سعادت حسن منٹو لکھتے وقت صوفے پر بیٹھ کر دونوں گھٹنے سکیڑ لیتے اور چھوٹی سی پنسل سے لکھتے۔ افسانہ شروع کرنے سے پہلے وہ 786ضرور لکھتے جو بسم اللہ کے ہم معنی سمجھا جاتاہے ۔ اردو کے مشہور افسانہ نگار اور ناول نگار کرشن چندرتنہائی میں کمرا بند کر کے لکھتے تھے۔ ایک بار ان کی بیگم نے چپکے سے کمرے میں جھانک کر دیکھا ‘وہ بتاتی ہیں کہ کرشن چندر ارد گرد سے بے خبر پیڈ پر جھکے ہوئے تھے‘اس لمحے ان کا چہرہ بہت گمبھیر ٗ بھیانک اور اجنبی تھا ٗ تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں‘ ہونٹ بھینچے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ میں قلم خنجر کی طرح نظر آ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد کرشن چندر کمرے سے نکلے اور سیدھے کھانے کی میز کی طرف آئے‘اس وقت ان کا چہرہ پرسکون ٗ تازہ اور بہت معصوم تھا۔ فرانسیسی ناول نگاروکٹر ہیو گوکی یہ عادت تھی کہ وہ لکھتے وقت سیدھے کھڑے ہو جاتے اور لکھنے کے لئے اپنے کندھے جتنی اونچی میزاستعمال کرتے۔ ونسٹن چرچل بھی ابتداء میں لکھتے وقت اسی قسم کا انداز اپناتے تھے۔ انگریزی کے مشہور ادیب آسکروائلڈ تو سب سے بازی لے گئے۔ انہوں نے اپنا سال پیدائش 1854ء کے بجائے1856ء کرلیا تھا‘ مقصد یہ تھا کہ وہ لوگوں کے سامنے خود کو کم عمر ثابت کر سکیں۔ فرانسیسی ناول نویس الیگزینڈر ڈوما لکھتے وقت لیموں کے علاوہ اور کسی پھل کا مشروب نہیں پیتے تھے۔



















































