برطانوی مفکر کے اس نظریے پر یقین رکھتے تھے کہ ’’ غربت‘ بیروزگاری‘ بھوک‘ جہالت وغیرہ زیادہ آبادی کی پیداوار ہیں چونکہ وسائل محدود ہیں‘ لہٰذا آبادی ہمیشہ مصیبت لاتی ہے‘‘۔اسی سوچ کے باعث بل نے اقوام متحدہ کو دس کروڑ ڈالر دیے تاکہ اس کی ایجنسیاں غریب ممالک میں ضبط تولید کے طریقے متعارف کروا سکیں۔
بچے اپنی محنت و ذہانت کے بل بوتے پر کامیاب ہوں‘بل گیٹس
بل گیٹس کا مقصد حیات دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ہے اور وہ اپنی ساری دولت اسی کام کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں۔بل اور میلنڈا کے3 بچے ہیں۔ 15 سالہ جینفر‘12 سالہ اوری اور 9 سالہ فوب۔ بل کا کہنا ہے کہ ان کی وراثت سے ہر بچے کو ایک کروڑ ڈالرز ملیں گے۔ بل فی الوقت54 ارب ڈالر کی دولت و جائیداد رکھتے اور دنیا کے دوسرے امیرترین انسان ہیں۔بل گیٹس کہتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں سے ازحد محبت کرتے ہیں چنانچہ انھیں دنیا جہاں کی سہولتیں حاصل ہیں۔ وہ کروڑوں بچوں سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں مگر یہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی محنت و ذہانت کے بل بوتے پر کامیاب ہوں۔
بل گیٹس نے دوسرا محاذ امریکی روایتی طرزتعلیم کے خلاف کھولا۔ بل کا خیال تھا کہ جس جماعت میں کم بچے ہوں‘ استاد کو موقع ملے گا کہ ان پر بھرپور توجہ دے۔ لہٰذا انھوں نے ایک ارب ڈالر لاگت سے اصلاحات کا منصوبہ شروع کیا۔ لیکن ماہرین نے بل کو باور کروایا کہ جماعت کے چھوٹے یابڑے ہونے سے طالب علم کی کارکردگی پر زیادہ اثر نہیں پڑتا۔ اصل بات یہ ہے کہ استاد کو تعلیم یافتہ‘ تجربے کار اور اپنی ذمے داری سے مخلص ہونا چاہیے۔ چنانچہ بل نے کروڑوں ڈالر خرچنے کے بعد اپنے تعلیمی منصوبے کا رخ بدلا اور استاد کی تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز کر دی۔
صحت کا منصوبہ بھی اسی تبدیلی سے گزرا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں والدین اس لیے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں کہ انھیں علم ہے کئی بچے بیماریوں کے ہاتھوں چل بسیں گے۔ لہٰذاوہ بچوں کی پیدائش روکنے کے بجائے ان کی جانیں بچانے پر کمربستہ ہوگئے۔ بل نے فیصلہ کیا کہ وہ ویکسین خرید کر غریب ممالک کو مفت یا سستے داموں فراہم کریں گے۔بل گیٹس اور ان کی شریک حیات میلنڈا گیٹس نے ازخود اس کام میں دلچسپی لی پھر



















































