بل گیٹس کا شمار انسانی تاریخ میں عظیم ترین کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی غیرمعمولی ذہنی صلاحیتوں کے باعث ہی سیکڑوں گتھیاں سلجھائیں اور دنیائے کمپیوٹر میں انقلاب لے آئے۔اب وہ اپنی صلاحیتوں سے کام لے کر انسانیت کو درپیش مشکلات ختم کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔بل گیٹس نے اپنی دولت و اثرورسوخ کے ذریعے بیماریوں کے خلاف اعلان جہاد کر رکھا ہے۔ وہ 2008 میں مائیکروسافٹ کارپوریشن سے علیحدہ ہوگئے تاکہ اپنا پورا وقت انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر سکیں۔ ان کے نزدیک کامیابی کا معیار اب زیادہ سے زیادہ دولت مند ہونا نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنے بچوں اور انسانوں کو مرنے یا معذور ہونے سے بچاتے ہیں۔ذیل میں بل گیٹس کی انسان دوستی اور خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
1997ء میں قائم کی گئی ’’ولئیم ایچ گیٹس فاؤنڈیشن ‘‘کو2000ء میں ’’بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن‘‘ میں ضم کر دیا گیا ۔بل گیٹس نے ابتدائی طور پر اس کے لئے126ملین ڈالرز کا عطیہ دیا۔فاؤنڈیشن کا ہیڈ آفس واشنگٹن میں ہے جبکہ اس کے فلاحی منصوبے دنیا بھر باالخصوص افریقا میں جاری ہیں۔ فاؤنڈیشن کازیادہ فوکس تعلیم‘صحت اور غربت کا خاتمہ ہے۔ دنیا بھر میں فاوؤنڈیشن کے ملازمین کی تعداد گیارہ سو کے لگ بھگ ہے جبکہ مالی سال 2013ء کے اختتام پر فاؤنڈیشن کے کل اثاثوں کی مالیت38.3 بلین ڈالرز ہے۔ قیام کے14ویں برس میں داخل ہونے تک فاؤنڈیشن دنیا کی سب سے بڑی غیرسرکاری فلاحی تنظیم بن چکی ہے۔ بل گیٹس کو بحیثیت کاروباری شخصیت جو دولت ‘اثرورسوخ عزت اور شہرت حاصل تھی‘ فلاح و بہبود کی سرگرمیوں نے انہیں دوچند کردیا ہے۔ آج بل گیٹس صاحب ثروت افراد کے لیے مشعل راہ بن چکے ہیں۔
’’معروف ادویہ ساز کمپنی نووارٹس میں شعبہ تحقیق کے سربراہ اور ممتاز طبی سائنس داں‘ ڈاکٹر اینڈرین اوسوالڈ کا کہنا ہے ’’بل ایسی طاقتور ہستی ثابت ہوئے کہ تن تنہا اپنی کوششوں سے انھوں نے کروڑوں غریب بچوں کو مرنے سے بچا لیا۔‘‘
بل گیٹس فلاحی سرگرمیوں کی طرف آئے تو



















































