جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایٹمی حملوں میں بچ جانے والے بتدریج ختم ہوتے ہوئے

datetime 28  اپریل‬‮  2015 |

ان لوگوں کے ساتھ ایک جوہری حملہ جو نہ کر سکا اب وہ کام بڑھتی عمر کر رہی ہے۔ امریکا کی طرف سے جاپانی شہروں پر ایٹمی حملوں میں بچ جانے والے افراد کی تعداد اب بہت کم رہ گئی ہے اور وہ بتدریج موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔جوہری ہتیھار رکھنے والے ممالک اس ہفتے جوہری اسلحے کی تخفیف کے ایک اہم معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ایسے میں جوہری حملے میں بچ جانے والوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شاید یہ ان کی زندگی کا آخری موقع ہو کہ وہ ایٹمی حملے کی تباہ کاریوں کا آنکھوں دیکھا حال لوگوں تک پہنچا سکیں تاکہ جوہری عدم پھیلاو¿ کے معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی‘ یا NPT پر جائزہ کانفرنس ہر پانچ برس بعد منعقد ہوتی ہے۔ جوہری حملے میں بچ جانے والوں کو ہیباکوشا کا نام دیا جاتا ہے اور اس وقت ایسے افراد کی اوسط عمر 80 برس ہے۔اتوار کے روز ہزاروں افراد نے نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں جوہری ہتھیاروں کے خلاف ریلی میں شرکت کی۔ اس ریلی کی قیادت جوہری حملے میں بچ جانے والی تین خواتین نے جنہوں نے وہیل چیئر پر ڈیڑھ میل طویل اس راستے کو سست رفتاری سے طے کیا۔ ایسے مقبول ترین افراد میں شمار ہونے والے 86 سالہ سومیتیرو تانی گوچی تاہم اس ریلی میں شرکت نہ کر سکے لیکن انتہائی نحیف اور خاموش سومیتیرو اپنی وہیل چیئر پر بیٹھے اس مارچ کو روانہ ہوتے دیکھتے رہے۔چھ اگست 1945ءکو ناگاساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بم کے نتیجے میں 70 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے

02

ہیروشیما ایٹم بم حملے میں بچ جانے والی 83 سال سیٹسوکو تھرلو کا، جنہوں نے وہیل چیئر پر بیٹھ کر مارچ میں شرکت کی، بعد ازاں گوچی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا، ”میں نے جب انہیں دیکھا تو حیران رہ گئی۔ وہ بہت زیادہ کمزور ہو گئے ہیں۔“تھرلو کی عمر اس وقت 13 برس تھی جب امریکا کی طرف سے ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا جس کے نتیجے میں 140,000 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ تھرلو کے مطابق، ”فاصلے پر موجود لوگوں نے ایٹمی چھتری کو فضا میں بلند ہوتے دیکھا مگر میں یہ بادل نہ دیکھ سکی کیونکہ میں اس کے اندر تھی۔“

مزید پڑھیے:آم کے وہ نسخے جن سے آپ لاعلم ہیں

تانی گوچی اس وقت 16 برس کے تھے اور ناگا ساکی میں ایٹم بم گرائے جانے کے مقام سے قریب ایک کلومیٹر دور سائیکل کی سواری کر رہے تھے۔ ناگاساکی پر جوہری حملے کے نتیجے میں 70 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دھماکےکی شدت اور تابکاری کے باعث ان کی کمر بری طرح طور پر جل گئی تھی اور وہ اگلے ساڑھے تین برس تک پیٹ کے بل ہی سو پاتے تھے۔ ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی ان کی کمر پر زخم ہے۔اختتام ہفتہ پر نیویارک میں جوہری اسلحے میں تخفیف کے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تانی گوچی کا کہنا تھا، ”جوہری اسلحہ شیطان کا ہتھیار ہے۔ یہ نہ تو انسانوں کو جینے دے گا اور نہ ہی انہیں انسانوں کی طرح مرنے دے گا۔“نیوکلیئر کانفرنس کے لیے تین درجن کے قریب ہیباکوشا نیویارک پہنچے ہیں تاہم ’امیرکن فرینڈز سروس کمیٹی‘ کے تخفیف اسلحہ سے متعلق کوآرڈینیٹر جوزیف گیرسن کا کہنا ہے کہ یہ شاید آخری مرتبہ ہے کہ جوہری حملوں میں بچ جانے والوں کی اتنی تعداد کانفرنس کے موقع پر پہنچی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…