جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پرندے بچاﺅبتیاں بھجاﺅ

datetime 28  اپریل‬‮  2015 |

مہاجر چڑیوں کے تحفظ کے لیے نیویارک کی حکومت نے شہر کی تیز روشنیوں کو گل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔مہاجر پرندوں کی سہولت کے لیے امریکی ریاست نیویارک میں سرکاری عمارتوں سے غیر ضروری روشنی کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پرندوں کو بہار اور خزاں کے موسم میں اپنے راستے تلاش کرنے میں آسانی ہو۔مہاجر پرندوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے راستے اور سمت کا اندازہ ستاروں سے کرتے ہیں لیکن برقی روشنی سے ان کے بھٹکنے کا امکان رہتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ عمارتوں سے ٹکراجاتے ہیں۔اس صورت حال کو روشنی کی مہلک کشش یا جاذب نظری کا نام دیا گیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس کی وجہ سے امریکہ میں ایک ارب پرندے ہر سال ہلاک ہو جاتے ہیں۔

02

بحرِ اوقیانوس کی جانب پرواز کرنے والی کڑوروں مہاجر پرندے ہرسال نیویارک سے ہوتے ہوئے گزرتے ہیں۔حکومت کے اس فیصلے سے یہ امید کی جارہی ہے کہ اب جو پرندے رات میں اس شہر سے گزریں گے ان کا مزید شمال کی جانب جانے کا زیادہ امکان ہے۔نیویارک سے موسم بہار اور موسم خزاں کے درمیان کروڑوں چڑیاں شمال کی جانب ہجرت کرتی ہیں۔نیویارک کے گورنر اینڈریو کوومو نے پیر کو کہا کہ بہار اور خزاں کے مشغول ترین ہجرت کے ایام میں سرکاری عمارتوں پر لگی تیز بیرونی روشنیوں کو رات 11 بجے اور صبح صادق کے درمیان گل رکھا جائے گا۔حکومت نیشنل آڈوبون سوسائٹی کے روشنی گل کرو پروگرام میں شامل ہوگی ہے۔ خیال رہے کہ نیویارک کی متعدد معروف عمارتیں جیسے روکرفیلر سنٹر، کرسلر بلڈنگ اور ٹائم وارنر سنٹر پہلے سے ہی سوسائٹی کے روشنی بجھاو پروگرام میں شامل ہیں۔مسٹر کوومو نے کہا کہ ’نیویارک کے جنگلوں، جھیلوں اور ندیوں میں مہاجر چڑیوں کے تحفظ میں تعاون کی جانب یہ آسان اقدام ہیں۔‘انھوں نے جدید ’آئی لو این وائی برڈنگ‘ نامی ویب سائٹ کا اعلان کیا جو ’برڈ واچنگ‘ یا پرندہ بینی کے ساتھ بجلی بجھاو مہم میں شرکت کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی کہ اس میں کیسے شرکت کی جاسکتی ہے۔

03

یہ تنظیم پہلے سے ہی دوسرے کئی بڑے شہروں میں مہاجر پرندوں چڑیوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان شہروں میں بالٹیمور، شکاگو، سین فرانسسکو وغیرہ شامل ہیں۔کئی اہم عمارتیں چڑیوں کے تحفظ کے پیش نظر بجلی گل کرو مہم میں پہلے سے ہی شامل ہیںروشنی کی مہلک کشش واربلر، تھرشز مہاجر پرندے کو مقامی پرندوں کے مقابلے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہیں۔موہلین برگ کالج میں علم طیور اور کنزرویشن بایلوجی کے پروفیسر ڈینیئل کلیم جنھوں نے پرندوں کے کھڑکیوں سے ٹکرانے کی نفسیات پرمطالع کیا ہے انھوں نے گذشتہ سال بتایا تھا کہ پرندوں کا کھڑکیوں سے ٹکرانے کا عمل بطور خاص پریشان کن ہے کیونکہ ان میں کمزور کے علاوہ مضبوط ترین پرندوے بھی اتنی ہی تعداد میں مرتے ہیں۔امریکی ناول نگار اور پرندوں سے محبت کرنے والے جوناتھن فرینزن نے اسی ماہ نیویاکر میں شائع ایک مضمون میں مینیوسوٹا سٹیڈیم بنانے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ انھوں نے پرندوں کے شیشوں سے ٹکرانے کو کم کرنے کے لیے مخصوص پیٹرن والے شیشوں کا استعمال نہیں کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…