جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

ں 30 منزلہ ہوٹل کی تعمیر چین کی تعمیراتی کمپنی کا حیرت انگیز کارنامہ !

datetime 21  اپریل‬‮  2015 |

کمپنی نے فی مربع میٹر1000 ڈالرمیں معاہدہ کیا ‘ طے پایا کمپنی پندرہ دنوں میں بلڈنگ مکمل کرے گی ‘ یہ حیرت ناک معاہدہ تھا ۔کام شروع ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے بلڈنگ کھڑی ہونا شروع ہو گئی اور صرف 15 دنوں میں کمپنی نے 328 فٹ بلند عمارت مکمل کر کے چابی مالک کے ہاتھ میں رکھ دی
تاریخ عالم ریکاڈز سے بھری پڑی ہے مگر چین کا کارنامہ حیرت انگیز بھی ہے اور فکر انگیز بھی۔ چین کی ایک تعمیراتی کمپنی ہے بورڈ سسٹین ایبل بلڈنگ کمپنی کے بانی زانگ یو ہیں،

sfs

زانگ یو نے 2009ء میں اس کمپنی کاسنگ بنیاد رکھا اور جدید ٹیکنالوجی سے تعمیراتی کام شروع کیا، ٹیکنالوجی کامیاب ٹھہری اور 2011ء میں کمپنی کو T-30 ہوٹل کی تعمیر کا ٹھیکہ مل گیا، کمپنی نے فی مربع میٹر1000 ڈالرمیں معاہدہ کیا ‘ معاہدے میں طے پایا کمپنی پندرہ دنوں میں بلڈنگ مکمل کرے گی ‘ یہ ایک حیرت ناک معاہدہ تھا لیکن کمپنی نے 30 منزلہ عمارت کا سنگ بنیاد رکھ دیا، کام شروع ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے بلڈنگ کھڑی ہونا شروع ہو گئی اور صرف 15 دنوں میں کمپنی نے 328 فٹ بلند عمارت مکمل کر کے چابی مالک کے ہاتھ میں رکھ دی، مالک نے ایک نظر عمارت کو دیکھا، دوسری نظر چابی پر ڈالی اورعش عش کر اٹھا، عمارت کی خاص بات زلزلہ پروف بھی ہے ۔یہ دنیا کی تاریخ میں پہلی 30 منزلہ عمارت ہے جوصرف 360 گھنٹوں میں پایہ تکمیل کو پہنچی، اس سے قبل اسی کمپنی نے 2010ء میں 15منزلہ ہوٹل صرف 48 گھنٹوں میں تعمیر کیاتھا، مئی 2012ء میں 12 منزلہ اور 14 ہزار مربع میٹر عمارت شان ڈونگ میں تعمیر کی تھی اور اس پر صرف 62 گھنٹے صرف ہوئے تھے۔ بورڈ سسٹین ایبل کمپنی اب ایک قدم آگے بڑھ کر دنیا کی سب سے بلند ترین عمارت مختصر ترین وقت میں مکمل کرنا چاہتی ہے، کمپنی 220، منزلہ سکائی سٹی کے نام سے جانگشیا میں پلازہ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور کمپنی اسے صرف 210 دنوں یعنی 7 ماہ میں مکمل کرنا چاہتی ہے، اس پروجیکٹ پر بھی معاہدہ طے پا چکا، کمپنی نے نومبر 2012ء میں اس پر کام شروع کرنا تھا تاہم چائنیز گورنمنٹ کی طرف سے ابھی اس کی منظوری باقی ہے اور جس دن گورنمنٹ نے اس منصوبے کی اجازت دے دی کمپنی دنیا کی یہ عظیم الشان عمارت بھی مختصر وقت میں مکمل کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دے گی۔ زانگ یو اور اس کی کمپنی کی اپروچ واقعی حیرت انگیز ہے، 2012ء تک کمپنی کے ملازمین کی تعداد 12 ہزار سے زائد تھی، اس کی چین میں 6 اور دنیا میں 150 برانچیں ہیں اور دنیا کمپنی اور اس کی جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہو رہی ہے، کمپنی کی اس جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جہاں وقت بچتاہے وہیں لاگت بھی کم آتی ہے، مثلاً ترقی یافتہ ممالک میں کمپنی نے50 ڈالر فی مربع میٹر اور ترقی پذیر ممالک میں 20 ڈالر فی مربع میٹرریٹ طے کر رکھا ہے یعنی 14 ہزار مربع میٹر یعنی 12منزلہ عمارت کی کل لاگت 2لاکھ 80 ڈالر ہے اور یہ ریٹ دنیا میں کسی بھی ملٹی نیشنل کمپنی کے کم ترین ریٹ ہیں۔ یہ ہے چائنا اور یہ چائنا کے لوگوں کی ول۔

fgh
ہم اگر چائنا کی اس ترقی کو دیکھیں، چین کے لوگوں کے اس وژن اور محنت کو سامنے رکھیں اور اس کے بعد اپنے تعمیراتی اداروں، کنسٹرکشن کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کو دیکھیں تو زمین و آسمان کا فرق محسوس ہوتا سے، پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسی جدید ٹیکنالوجی کا پاکستان میں سرے سے وجود ہی نہیں اور جو مشینری موجودہے اس کی حالت یہ ہے کہ صرف 100مربع فٹ کی بنیاد پر ہی ہفتوں لگ جاتے ہیں، پاکستان میں 20 منزلہ عمارت پر دو دو سال لگا دیئے جاتے ہیں اور یہ عمارت بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتی، پندرہ بیس برس بعد عمارت ڈھانچے کا منظر پیش کرنے لگتی ہے، ٹھیکیدار ناقص میٹریل استعمال کرتے ہیں، پیسہ اور وقت بچانے کیلئے سطحی کام کرتے ہیں اور پورے ملک میں شائد ہی کوئی ایسا ٹھیکیدار ہو جو کرپشن نہ کرتا ہو، پاکستان میں کوئی عمارت، کوئی پلازہ اور کوئی ترقیاتی منصوبہ بروقت مکمل نہیں ہوتا۔ آپ قومی شاہراؤں کا منظر بھی دیکھ لیں، 30 کلو میٹر کی دورویہ سڑک پر برسوں لگا دیئے جاتے ہیں، سارا سارا دن گردوغبار اڑتا رہتاہے، بارش کی صورت میں منصوبہ مہینوں لیٹ ہو جاتاہے اور اگر خوش قسمتی سے سڑک تعمیر بھی ہو جائے تو 6 ماہ کے اندر اندر کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگتی ہے، گھروں کی تعمیر کا بھی یہی حال ہے، مستری اور مزدور ملتے نہیں، مل جائیں تو ریٹ نہیں بنتے، ریٹ طے ہو جائیں تو پوراوقت نہیں دیتے، 8 یا 9 گھنٹوں کے بجائے چھ سات گھنٹے کام کرتے ہیں، چائے کا وقفہ، کھانے کاوقفہ، نمازوں کا وقفہ انہی سات گھنٹوں میں ہوتاہے اور باقی بچ جانے والے وقت میں سگریٹ اور پان سے نکوٹین کی کمی پوری کی جاتی ہے، 15 دنوں کا کام 15 ہفتوں میں مکمل نہیں ہوتا، فرش ڈالیں گے تو ٹائلیں لٹکا کر بیٹھ جائیں گے، الماریاں مکمل کریں گے تو لاک روک لیں گے، دیواریں اور چھتیں ڈال دیں گے تو لیول نہیں کریں گے، ہوا کا رخ نہیں دیکھیں گے، روشنی کا سمت کا تعین نہیں کریں گے ، روشنی کا راستہ نہیں چھوڑیں گے، نقشہ پاس نہیں کروائیں گے اور کام مکمل کرنے کا کہو تو دس دس دن منہ چڑھا کر بیٹھ جائیں گے، لہٰذا ان حالات میں ترقی کا خواب مذاق ہی لگتا ہے۔ ہم روزانہ اخباروں میں پڑھتے ہیں فلاں نے غربت سے تنگ آکر خود کشی کر لی، فلاں نے بھوک سے عاجز آکر خود سوزی کر لی، ملک میں اڑھائی کروڑ نوجوان بے روزگار ہیں، 43 فیصد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں لیکن مجھے اس پر اعتراض ہے ۔انحراف نہیں کر سکتا کہ اس ملک میں بے روزگاری بھی ہے، غربت بھی حقیقت ہے، خودکشیاں اور خود سوزیاں بھی سچائی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے رزق کا رازق اللہ ہے، یہ ہو نہیں سکتا کوئی انسان بھوک سے مر جائے، ہاں وہ انسان بھوکا مر سکتا ہے جو اللہ کے اس حکم کے خلاف چلتا ہے کہ رازق میں ہوں مگر تم رزق کی تلاش کیلئے زمین پر پھیل جاؤ، محنت کرو، محنت کا صلہ میں دوں گا۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں محنت اور کام کرنے کا تصور ہی نہیں، ہم میں سے ہر نوجوان پچاس پچاس ہزار تنخواہ کا خواہش مند ضرور ہے مگر 5 گھنٹے کام کرنے کیلئے تیار نہیں، آپ اس ملک کی کوئی کمپنی، کوئی ادارہ اور کوئی کارپوریشن لے لیں‘ اس کا چپڑاسی سے لے کر ایگزیکٹوتک مفت خور ے ہوں گے، سارا سارا دن خوش گپیاں مارتے رہیں گے،اللے تللوں میں پڑیں رہیں گے لیکن اپنے فرائض کماحقہ، ادا نہیں کریں گے اور اس کا نتیجہ ہے جو کام ایک گھنٹے میں ہونا ہوتا ہے، اس پر ایک ایک ہفتہ لگ جاتا ہے۔ آپ نے کبھی سوچا یہ جی پی او کے سامنے قطاریں کیوں لگتی ہیں، بینکوں، پاسپورٹ آفسز، اور ہسپتالوں میں لوگ 5،5 گھنٹے لائن میں کیوں کھڑے رہتے ہیں؟ صرف اس لئے کہ متعلقہ ملازم وقت پر آفس آتے ہیں اور نہ ہی ٹک کر نشست پر بیٹھتے ہیں، یوں آپ، میں اور ہم سب سارا سارا دن دھوپ اور بارش میں خوار ہوتے ہیں۔

dgf
یہ ہمارا قومی رویہ ہے اور یہ رویہ ہماری پستی کی بڑی وجہ ہے، سستی، کام چوری اور بے ایمانی من حیث القوم ہمارا وطیرہ بن چکی، دنیا محنت اور لگن سے مریخ پر زندگی تلاش کر رہی ہے اور ہم آج تک خود کو زمین پر رہنے کے قابل نہ کر سکے، میں جب چین کے زانگ یو اور اس کی کمپنی کو دیکھتا ہوں تو مجھے رشک آتاہے کہ اس نے جدید ٹیکنالوجی سے پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا، اس نے واقعی کمال کر دیااور ہم پسماندہ ملک کے پسماندہ ترین لوگ آج بھی یہ سوچ رہے ہیں انسان زمین پر الٹا کیسے چل سکتا ہے ‘ ہم مانگ کر، لوٹ کر، چوری کر کے پیٹ بھر لیں گے لیکن ہم ہاتھ، پاؤں اور دماغ استعمال نہیں کریں گے اور یہ وہ فرق ہے جو چین کو چین بنا گیااور ہمیں بے چین۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…