جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’کریں گے اہل نظر ‘تازہ بستیاں آباد‘‘ سرگنگارام کی سمادھی!

datetime 17  اپریل‬‮  2015 |

’’جدید طرز تعمیر آج کے کسی بھی سماج کی بنیادی ضرورت ہے لیکن پرانے طرز تعمیر اور ثقافت کی حامل یادگاروں سے ناروا سلوک سماج کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لئے کافی ہے‘ عہد حاضر کے لوگ گزرے عظیم لوگوں کی یادگاروں سے بدسلوکی کر رہے ہیں تو آنے والی نسلیں‘ آج کی نسلوں سے کیا کریں گی؟‘‘
AZ
لاہور میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو گنگا رام اسپتال کے نام اور مقام سے واقف نہ ہو۔ اہل لاہور کی بڑی تعداد اس اسپتال کے بانی سرگنگارام سے مکمل ناواقف ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اگر ان کو سرگنگارام کی زندگی کے بارے میں بتایا جائے اور یہ جانکاری بھی دی جائے کہ ان کی سمادھی لاہور میں راوی روڈ کے مقام پر ہے تو ان کا پہلا تاثرحیرانگی کا اور دوسرا پر مذاق اور تضحیک آمیز ہوتا ہے۔
’’چھڈو جی‘ اوہ ہیگاتاں اک ہندو سی‘‘ (چھوڑیں جناب وہ تو ایک ہندو تھا)
پنجاب کی دھرتی کا یہ عظیم سپوت جو انگریز عہد میں نئے لاہور کا بانی کہلایا‘ تعلیم کے اونچے مراتب پر فائر گنگارام اپنے عہد کے مانے ہوئے انجینئر اور انسان دوست شخص تھے۔ شہر لاہور سے عشق میں سرشار اس بندے کے قائم کردہ اداروں اور تعمیرات سے آج بھی اہل لاہور بہرہ مند ہیں۔ اب ایک نگاہ اس بے مثال شخص کی زندگی پر ڈالتے ہیں۔ گنگارام کا جنم 13 اپریل1851ء کو شیخوپورہ کے ایک نواحی علاقے مانگٹاوالا میں ہوا۔ ان کے والد کا نام دولت رام تھا جو اس وقت ایک مقامی پولیس اسٹیشن میں سب انسپکٹر تھے۔ گنگا رام کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد وہ امرتسر میں ایک عدالت میں ملازم ہو گئے۔گنگارام کو امرتسر میں پہلے ایک نجی سکول میں داخل کرایا گیا اور پھر اسی شہر سے دسویں کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول امرتسر سے پاس کیا۔ دسویں تک آپ خطاطی اور فارسی زبان پر مہارت حاصل کر چکے تھے۔ 1869ء میں آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور اپنی تعلیمی قابلیت کی وجہ سے وظیفہ حاصل کیا۔1871ء میں انہوں نے تھامس انجینئر نگ کالج رودکی میں داخلہ لیا۔ 1873ء میں آپ نے یہاں سے امتحان نہ صرف گولڈ میڈل حاصل کر کے پاس کیا بلکہ اس کے ساتھ اس کالج سے گریجویشن کرنے والے پہلے ہندوستانی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ وطن واپسی پر انہیں انگریز سرکار کی دہلی میں شاہی عمارات کی تعمیر کے کام پر فائز کیا گیا۔

مزید پڑھئے:سبحان اللہ، سائنس نے ایک اور سنت نبویﷺ کی تائید کر دی

ان کے کام کی اعلیٰ ترین مہارت کو دیکھتے ہوئے۔ لارڈ رپون نے ان کو مزید تربیت کے لئے انگلستان بریڈ فورڈ بھیجوا دیا۔ وہاں پر آپ نے شہروں میں پانی کی ترسیل گٹر کے جدید نظام میں عبور حاصل کیا۔ ہندوستان واپس آنے کے بعد ان کو پنجاب کے کئی اضلاع میں سرکاری عمارات کی تعمیر کے لئے بھیجا گیا۔ لاہورکے علاوہ‘ پٹیالہ‘ شیخوپورہ‘ امرتسر‘ لائل پور (فیصل آباد) میں کئی عمارات دکھائی دیتی ہیں۔ لاہور میں انہوں نے اس وقت کے ایک بڑے نام رائے بہادر کنہیا لال ہندی کے معاون کے طور پر کام کیا۔ رائے بہادر کنہیا لال ہندی اپنے عہد کے انتہائی عالم فاضل انسان تھے جو لاہور کے ایگزیکٹو انجینئر ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ لاہور اور تاریخ پنجاب جیسی شہرہ آفاق کتب کے مصنف بھی تھے۔

ZZ
گنگا رام کوتعمیرات کے علاوہ زراعت پر بھی خاص مہارت حاصل تھی۔ جدید تعلیم سے بہرہ مندی کے باعث انہوں نے منٹگمری (ساہیوال) اور لائلپور (فیصل آباد) میں کئی ہزار ایکڑ زمین جو بنجر تھی پنجاب گورنمنٹ سے ٹھیکے پر حاصل کی اور پھر اس کو اپنی تعلیم اور ذہانت کے باعث سر سبزوشاداب علاقے میں تبدیل کر دیا۔ ان کے اس تجربے سے کئی ہزار بندے برسر روزگار ہوئے۔ وہ تمام بندے مذہب‘ ذات پات کی تقسیم سے باہر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے چرخے اور انگریز سامراج کی لڑائی کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے۔ وہ ایک خاص نقطہ نگاہ سے کارل مارکس کی تعلیمات سے انتہائی متاثر تھے وہ ہندوستان سے غربت‘ بیماری‘ تعلیم کے فقدان اور بے روزگاری کے خلاف ساری عمر نبرد آزما رہے۔ وہ معاشرتی ترقی کو ایسی معاشی ترقی کے ساتھ جوڑتے تھے جس میں تمام انسانوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں۔ سر میلکم میلے جو انگریز عہد میں کچھ عرصہ پنجاب کے گورنر بھی رہے‘ ان کا گنگارام کے بارے میں کہنا تھا:’’وہ ایک سورما کی مانند جیتتا ہے اور ایک صوفی کی مانند دان کرتا ہے‘‘۔
1885ء میں جب گنگا رام لاہور آئے تو ان کو رائے بہادر کے خطاب سے نوازا گیا۔ 1900ء میں لارڈ کرزن نے کنگ ایڈورڈ ہفتم کی تاجپوشی کے لئے شاہی دربار کی تعمیر کے لئے گنگا رام کو ذمے داری سونپی جو انہوں نے کمال احسن طریقے سے پوری کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام ہندوستان کے ساتھ ساتھ انگلستان کی تاریخ کے صفحات پر بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ سرگنگا رام کی تمام زندگی انسانی فلاح و بہبود کے کاموں میں گزر گئی۔یہی وجہ ہے کہ ان کے فلاحی منصوبے لاہور‘ امرتسر‘ پٹیالہ اور دہلی میں آج روز تک دکھائی دیتے ہیں۔ لاہور میں جی پی او‘ لاہور عجائب گھر‘ گورنمنٹ کالج لاہور کا کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ‘ میواسپتال کا البرٹ وکٹرونگ‘ ایچی سن کالج‘ میو سکول آف آرٹس (موجودہ این سی اے) مال روڈ کا ایک خاص طرز تعمیر ماڈل ٹاؤن اور گلبرگ جیسی اس دور کی جدید عمارات کی نئی کالونیوں کے نقشے‘ یہ سب سرگنگا رام کے تجربے اور دانش کے ثبوت ہیں۔

Sir-Ganga-Ram-Hospial
کچھ منصوبے ایسے تھے جن پر انہوں نے اپنی جیب سے پیسہ لگایا۔ ان میں سب سے پہلے ان کی رہائش گاہ کا ذکرکرتے ہیں جو آج بھی اولڈ ہیلے کالج آف کامرس کے نام سے جین مندر کے قریب ہے۔ یہ عمارت انہوں نے کامرس کی تعلیم کے باعث سر میلکم ہیلے کو عطیہ کر دی تھی۔ جیل روڈ پر ان کا قائم کردہ سکول جو سرگنگا رام ہائی سکول کے نام سے جانا جاتا تھا۔ تقسیم کے بعد اسی جگہ پر لاہور کالج آف گرلز کا قیام عمل میں آیا جو آجکل یونیورسٹی بن چکا ہے۔ راوی روڈ پر معذوروں کے لئے ایک گھر تعمیر کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ایک ڈسپنسری وچھووالی لوہاری میں بنائی۔بعدازاں1921ء میں سرگنگارام اسپتالکی صورت اختیار کر گئی۔ ان کی وفات کے بعد 1943ء میں اس اسپتال کو کوئنز روڈ منتقل کر دیا گیا۔ یہاں پر سرگنگام رام کا قائم کردہ ایک میڈیکل کالج بھی تھا جو ان کے بیٹے بالک رام کے نام پر تھا۔ قیام پاکستان کے بعد اس کالج کو محترمہ فاطمہ جناح کے نام پر کر دیا گیا جو آج تک قائم ہے۔ رینالہ خورد بھی سرگنگا رام کے احسانوں تلے دبا دکھائی دیتا ہے۔ رینالہ خورد میں اسپتال لیڈی میکلیگن سکول اور رینالہ خورد پاور پراجیکٹ اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پٹھان کوٹ اور امرتسر کا ریلوے ٹریک بھی ان ہی کا بچھایا ہوا تھا۔ اپنی ریٹائر منٹ کے بعد وہ ریاست پٹیالہ کے ساتھ منسلک ہو گئے۔ پٹیالہ میں کئی تعمیرات آج بھی ان کی تعمیرات کی یاد گار ہیں۔ موتی باغ پیلس‘ سیکرٹریٹ بلڈنگ‘ وکٹوریہ گرلز سکول۔کئی پولیس اسٹیشن اور عدالتیں ا ن ہی کے زیر نگرانی تعمیر ہوئیں انہوں نے گھوڑا ٹرین کا بھی ایک بے مثال تجربہ کیا۔ یہ ٹرین ان کے قائم کردہ دیہات گنگا پور سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر بچیانہ ریلوے اسٹیشن تک تھی۔ اس ریلوے ٹریک پر گھوڑے بگھی نما گاڑی کو کھینچتے تھے۔ ریل کی تاریخ میں یہ پوری دنیا میں اپنی نوعیت کی ایک انوکھی گاڑی تھی۔ گھوڑا گاڑی 1980ء تک چلی اور بعدازاں اس کو ختم کر دیا گیا۔ اس کے خاتمے کے تیس برس بعد ضلع فیصل آباد کی انتظامیہ میں کوئی ایسا اللہ کا بندہ آیا جس نے اس ریل کی اہمیت کو ایک ثقافتی جزو جانتے ہوئے اس کو ایک یادگار کے طور پر بحال کیا۔پنجاب کے اس عظیم سپوت نے 10 جولائی 1927ء کو لندن میں وفات پائی۔ ان کی چتا کوادھر آگ لگائی گئی اور استھیاں ہندوستان بھجوائی گئیں۔ ان میں سے کچھ گنگا دریا میں بہا دی گئیں اور باقی استھیاں ان کے محبوب شہر لاہور بھجوا دی گئیں۔ یہاں پر راوی روڈ پر بڈھے راوی کے کنارے پر ایک عظیم الشان سمادھی تعمیر کی گئی جہاں آپ کی استھیاں دفن کی گئیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یونیورسٹی آف روکری نے 1957ء کو ان کے اعزاز میں ایک ہاسٹل تعمیر کیا جو سرگنگا رام کے نام سے منسوب تھا۔1951ء میں گیارہ ایکڑ کے وسیع رقبے پر نیو دہلی میں ان کے نام سے اسپتال کی تعمیر کی گئی۔
اس اسپتال کا سنگ بنیاد اس وقت کے ہندوستان کے وزیراعظم شری جواہرلال نہرو نے رکھا۔ ان کا پوتا ایشوین رام‘ جارجیا سکول آف ٹیکنالوجی میں اسٹنٹ پروفیسر ہے۔ ان کی پوتیاں شریلہ فلیٹیز‘ اور ہیروٹس فلیٹیز انگلستان میں بطور استاد کام کرتی ہیں اور ادھر کی سیاست میں بھی خاصی سرگرم ہیں۔ لاہور کے اس عظیم سپوت کو لاہور کی یاداشتوں سے بڑی بے رحمی سے نکالا گیا۔ نقوش لاہور نمبر اور باقر جیسے مؤرخین نے بھی تقسیم کے بعد اپنی تحریروں کا حصہ نہ بنایا۔ صحافتی حلقوں میں انگریزی جرائد میں ایک آدھ مرتبہ ان پر کوئی مضمون ضرور چھیا۔ ان کی بے قدری پر سعادت حسن منٹو کا مختصر افسانہ یاد آ جاتا ہے جو ہمارے کلی رویئے کی غمازی کرتی ہے۔ منٹو کا یہ افسا نہ ’’جوتا‘‘ ان کی کتاب سیاہ حاشیئے میں شامل ہے

’’ہجوم نے رخ بدلا اور سرگنگا رام کے بت پر پل پڑا۔ لاٹھیاں برسائی گئیں‘ اینٹیں اور پتھر پھینکے گئے۔ ایک نے منہ پر تارکول مل دیا۔ دوسرے نے بہت سے پرانے جوتے جمع کئے اور ان کا ہار بنا کر بت کے گلے میں ڈالنے کے لئے آگے بڑھا۔ مگر پولیس آ گئی اور گولیاں چلنا شروع ہوئیں۔جوتوں کا ہار پہنانے والا زخمی ہو گیا۔ چنانچہ مرہم پٹی کے لئے اسے سرگنگارام اسپتال بھیج دیا گیا‘‘۔

SD copy
1927ء میں وفات پانے والے گنگا رام کی استھیاں اس وقت بڈھے راوی کے پاس سان کے علاقے میں دفن کی گئیں اور 1933ء میں وہاں پر ایک انتہائی خوبصورت سمادھی تعمیر کی گئی۔ اس میں انتہائی اعلیٰ درجے کا سنگ مرمر استعمال کیا گیا۔ سمادھی کے دو جانب آبادی اور دو جانب دریا تھا۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ اس کے قریب ہی محلہ مسان میں ان کا شمشان گھاٹ بھی موجود تھا۔ سمادھی دور سے کسی مندر کی مانند دکھائی دیتی تھی‘ جس کا گنبد خاص ہندو روایتی طرز تعمیر کا تھا۔ سمادھی کا احاطہ کئی کنال پر مشتمل تھا۔جس میں چھ انتہائی خوبصورت برجیاں بھی تھیں جو کہ سمادھی کے تالاب سے آگے اس کے گنبد کے چاروں جانب تھیں۔ اس کے علاوہ زائرین کے لئے کچھ پکے مکانات بھی تعمیر کئے گئے تھے۔ تالاب کے گرد سنگ مرمر کے آٹھ بنچ بھی تھے۔ جن کے سامنے تالاب کی تین جانب سے پانچ پانچ سیڑھیاں نیچے کو جاتی تھیں۔ یہ تمام معلومات کا ذریعہ عصر حاضر میں سمادھی کے قریب رہائشی بزرگ شخصیات ہیں کیونکہ کسی بھی کتاب میں اس سمادھی اور سرگنگارام کا تذکرہ نہیں۔ تقسیم کے بعد بڈھا راوی ایک نالے کی شکل اختیار کر گیا اور اس کے قریب گھاس منڈی اور سمادھی کے گرد کا علاقہ رہائشی گھروں میں تبدیل ہو گیا۔عصر حاضر میں جب داتا دربار سے مینار پاکستان کی جانب جایا جائے تو نئے تعمیر کردہ پلوں کے ساتھ نیچے سے ایک راستہ راوی روڈ قصور پورہ کی جانب جاتا ہے۔ اس سڑک سے بائیں گھومتے ہی پہلے کبھی لب سڑک بابا چھتری والا کا مزار تھا جو ان پلوں کی تعمیر کے باعث منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس مزار والی جگہ کے ساتھ ہی بائیں جانب نیچے کو ایک گلی جاتی ہے یہ سارا علاقہ کچا راوی روڈ سمادھی گنگا رام کہلاتا ہے۔ یہ سڑک نیچے کو جا کر ایک چوک میں کھلتی ہے اس چوک سے بائیں جانب سڑک سمادھی کو جاتی ہے جبکہ سیدھا راستہ سن رائز بلائنڈ سکول کو جاتا ہے۔ یہ سکول زمانے بھر میں مشہور ہوا کیونکہ اسی سکول کی کرکٹ ٹیم نے دو مرتبہ بلائنڈ کرکٹ ورلڈ کپ جیتا۔ سمادھی کے چاروں جانب مکانات ہیں۔ سمادھی کی عمارت کو دیکھ کر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اب جو اس کا رقبہ چار پانچ کنال پر محیط ہے۔ اصل عمارت میں یہ رقبہ زیادہ ہی ہوگا‘ سمادھی کی چار دیواری 1997ء میں تعمیر کی گئی جبکہ 1992ء میں بابری مسجد کے تنازع کے بعد سمادھی کی چاردیواری میں جو چھ برجیاں موجود تھیں وہ تمام کی تمام گرا دی گئیں محض مغربی سیدھ میں موجود ایک برجی کی بنیاد ابھی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھئے:450 کلو وزنی موٹا امریکی کرین کی مدد سے نئے گھر منتقل دیا
سنگ مرمر کے بنچ‘ فرش پر موجود سنگ مرمر اور ایک بارہ دری کے چبوترے میں بنی سمادھی پر سے سنگ مرمر اتار کر بازار میں کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیا گیا۔ سمادھی کے رقبے میں صرف اور صرف بارہ دری کا چبوترہ بچا‘ جس کی جنوبی سیدھ کی دیوار پر ہمیں تین کتبے ہندی میں لکھے نظر آتے ہیں۔ تالاب کو فرش کے برابر کر دیا گیا۔ سمادھی کے گنبد اور فرش پر انتہائی اوسط درجے کا پتھر لگایا گیا ۔ سمادھی کے کھلے صحن میں بچے کرکٹ اور فٹ بال کھیلتے ہیں اور نائٹ کرکٹ بھی کھیلی جاتی ہے۔ محکمہ متروک وقف املاک کی اجازت سے سمادھی میں شادی بیاہ کی تقریبات کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔بارہ دری کے وسط میں ایک کمرے میں سمادھی موجود ہے جس کے اندر کی چھت قدیم ہے۔ سمادھی کے کمرے کے چاروں جانب دروازے موجود ہیں۔ چبوترے کی چاروں سیدھ میں چاروں جانب شیر کے سر باہر کو نکلے ہوئے ہیں جو تعداد میں آٹھ بنتے ہیں۔ سمادھی کی پچھلی جانب ریڑھیاں کھڑی ہیں اور انتہائی گندگی کی حالت میں موجود ہیں۔ گنبد کے نیچے شمالی سیدھ میں ہمیں ہندی میں اوم لکھا ملتا ہے اورمضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جنوبی سیدھ میں اردو میں اوم لکھا نظر آتا ہے۔
انتہائی تکلیف دہ بات ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر تمام محلے میں موجود قربانی کے جانور اسی سمادھی میں باندھے جاتے ہیں۔ جدید طرز تعمیر آج کے کسی بھی سماج کی بنیادی ضرورت ہے لیکن پرانے طرز تعمیر اور ثقافت کی حامل یادگاروں سے ناروا سلوک سماج کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لئے کافی ہے۔ عہد حاضر کے لوگ ان عظیم لوگوں کی یادگاروں سے بدسلوکی کر رہے ہیں تو آنے والی نسلیں‘ آج کی نسلوں سے کیا کریں گی‘ یہ سوچ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…